Umar Hayat Gujjar

Umar Hayat Gujjar My story is filled

. بٹ قبیلہ ۔ بٹگرام دوابہ ضلع چارسدہ  بٹگرام اور ملاکنڈ کے مرکزی شہر بٹ خیلہ کا نام رام بٹ گجر (یا راجہ بٹ گجر) سے منسوب...
05/09/2026

.

بٹ قبیلہ ۔ بٹگرام دوابہ ضلع چارسدہ بٹگرام اور ملاکنڈ کے مرکزی شہر بٹ خیلہ کا نام رام بٹ گجر (یا راجہ بٹ گجر) سے منسوب ہونے کی تاریخ قدیم ہندو شاہی دور اور گجر سلطنت سے جڑی ہوئی ہے۔ تاریخ دانوں اور مقامی روایات کے مطابق، یہ نام بدھ مت اور ہندو شاہی عہد کے ایک مقتدر گجر حکمران "راجہ رام بٹ" (یا راجہ بٹ) کے نام پر رکھے گئے ہیں، جن کی راجدھانی اور اثر و رسوخ ان علاقوں پر قائم تھا۔ناموں کی وجہ تسمیہ اور تاریخبٹگرام کا مطلب: سنسکرت اور قدیم گوجری زبان میں "بٹ" (Bhatt/Batta) راجہ یا قبیلے کا نام ہے، جبکہ "گرام" (Gram) کے معنی "گاؤں یا شہر" کے ہیں۔ اس طرح بٹگرام کا لغوی معنی "بٹ کا گاؤں یا راجہ بٹ کی بستی" بنتا ہے。بٹ خیلہ کا مطلب: ملاکنڈ کا یہ تاریخی تجارتی مرکز بھی راجہ بٹ کی حکومت کا حصہ تھا。 پشتو زبان میں "خیلہ" یا "خیل" خاندان یا قبیلے کو ظاہر کرتا ہے، یعنی وہ جگہ جہاں راجہ بٹ کے خاندان یا قبیلے کے لوگ آباد تھے۔رام بٹ گجر کا تاریخی پس منظرہندو شاہی دور کے حکمران: رام بٹ (یا راجہ بٹ) کا تعلق ہندو شاہی خاندان سے بتایا جاتا ہے جو محمود غزنوی کی آمد سے قبل خیبر پختونخوا کے وسیع علاقے (بشمول سوات، ملاکنڈ، اور ہزارہ) پر حکمران تھے۔گجر برادری سے تعلق: تاریخ گوجر کے مطابق، "بٹار"، "بٹھار" یا "بٹ" گجروں کا ایک انتہائی معزز اور قدیم گوت (قبیلہ) ہے۔ راجہ رام بٹ اسی سورج ونشی گجر نسل کے سپہ سالار اور راجہ تھے۔۔

چوہان گجر قبیلہ تاریخ کی ائین میں  چوہان گجر  یا چوہان خیل گجر ۔ یہ چندر چوہان سورج  بنسی ہے۔ چوہان کا مطلب ( چار ہاتھوں...
05/09/2026

چوہان گجر قبیلہ تاریخ کی ائین میں

چوہان گجر یا چوہان خیل گجر ۔ یہ چندر چوہان سورج بنسی ہے۔
چوہان کا مطلب ( چار ہاتھوں کی تلوار ) یعنی بہادر لوگ ہے

اور اجمیر کے راجہ پرتھوی راجہ چوہان کے الواد ہے ۔ چوہان کے شجرہ کے اندر 40 چالس گجر راجوں کے نام ملتے ہے۔

جو اوال سے لیکر پرتھوی راجہ چوہان گجر تک ہیں ۔ بعضی مورخین نے شام کی اولاد عاد بن راجہ تمودبن عوص بن ارم بن سام بن نوح لکھا ہے ۔
اور بعضی نے حام کی اولاد جو کنعان بن ارم بن نوح شامل ہیں ۔
پاکستان میں اکثریت سے اباد ہے ۔ اور گوجرات میں چوہدروال۔ پیر اباد گاوں پے اسکے علاوہ چوہدروالی ۔ گھوڑیاں ۔ راجوبنجن ۔ باہروال ۔ بویاوالی ۔چک ارجاوی ۔ منلی۔ باشنہ ۔ چہنڈا چوہان ۔ اور چوہان خوروکلاں ان کے موضع جاٹ ہے ۔
مانسہرہ میں گجر چوہانوں کی آبادی گاوں جگن ۔ کھٹیاں شراس۔کھن موہری ۔ روگاحبیب اللہ ۔ درہ شوال ۔ ترنہ ۔ گھن گھیری۔ کمی بالاکوٹ ۔ جمال ماری مہانڈی بالاکوٹ ۔ کالشیاں ۔ بسوتبالاکوٹ ۔ حسہ ۔ لسیاں اوچری جدید ۔ چھوٹا پنجول مانسہرہ ۔ تمری۔ گاندھیاں ۔ عطرشیشہ ۔ گڑمنگ بالا ۔ کنڈبالا ۔ اچھڑیاں داری بنی مانسہرہ ۔ چٹہ بٹہ ۔ پھلگہ ۔ مڈھار ۔ اشوال۔ سمبانڈہ ۔ ٹمبرموہڑی بٹگرام ۔ قوت ڈنہ بٹگرام ۔ سنڈے سر وغیرہ وغیرہ ۔

چوہان گجر پنجاب بر میں اباد ہے ۔ خیبر پختونخواہ میں بھی کثیر تعداد میں اباد ۔
ملاکنڈ ڈویژن میں بھی بکثرت موجود ہیں سوات ۔شانگلہ ۔ بنیر ۔ لوئر دیر ۔ اپر دیر ۔ چترال ۔ ارندو ۔
افغانستان ۔آزاد کشمیر ۔ جموں کشمیر ۔ انڈیا میں بھی کثرت سے اباد ہے ۔
حولہ
گنجنہ = گنجنہ گوجراں میں چوہان قبیلہ کا شجرہ یوں بیان کیاگیا ہے ۔۔۔راجہ اول تمکر ۔سالو۔ چہندا ۔ ماہو ۔ مخدوم ۔ اسلام ۔ شہاول ۔ بہاول بخش ۔ سمندہ ۔ شاہ محمد دو بیٹے محمد علی سلطان علی کا بیٹا سردار خان ۔ محمد علی کا بیٹا گہنا خان پسر محمد اشرف ۔ اس کے علاوہ چک ارجاوی صوبہ دارکرم دادخان ۔ چوہدری صاحب زارہ فیصل آباد سمندری ۔ عبدرحمان چک نمبر 449۔ کے علاوہ فیصل آباد محمد خان ۔ موضع باہروال کے چوہدری ریاضت علی ۔ چوہدری محمد عالم ۔ موضع بوریاوال ۔ چوہدری محمد خان ۔ گہتا خان ولد محمد علی ۔ شامل ہیں ۔

چوہان خاندان راناپرتابسنگھ ولد اودہے سنگھ گڑھ چتوڑ کے بہادر نام اور راجے تھے جنہوں نے کئی بار اکبر بادشاہ سے مقابلہ کیا ۔
حوالہ
شاہان گوجرں = شاہان گوجراں میں اس خاندان کو رائے چھتورا کی نسل سے قراردیا گیا ۔
چوہان قبیلے کے پہلےراجہ اننگ پال ثانی کا کوئ بیٹا نہیں ہے ۔
اس کے بعد اس کا نواسہ پرتھوی راج چوہان گجر جو اجمیر کا راجہ تھا ۔ چوہان گجر خاندان سے تھا ۔
1170ء میں دہلی کے تخت پر بیٹھا ۔ اس کو رائے چھتورا بھی کہتے ہیں ۔
جو دہلی کا اخیری راجہ تھا ۔ پنجاب میں بھی راجہ گھگ کئی پشتوں تک حکمران رہا ۔
اس کے راجہ ایسر قبل از حکومت ہمایوں سے معمولی تعلق دار تھے جب ہمایوں تخت نشین ہوا تو اسکی رہی سہی بھی ختم ہو گئی ۔ اور راجہ داولہ مر گیا ۔
اور راجہ ایسر کسی اور ملک چلا گیا ۔ جس سے چوہان گجروں کی حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا ۔
ڈاکٹر آر آر کھجوریہ نے اپنی کتاب جموں وکشمیر کے گجر میں لکھا ہے ۔ کہ چوہان اور چیچی جو اپنے آپ کو دہلی کے سردار رائے پتوار کی اولاد بتاتے ہیں ۔
چوہان خاندان کی دہلی می ۔ تاریخ گجراں میں 24 گوتوں کی تصدیق کی گئی ہے ۔

جن میں چوہان ۔ ہرسونی گرا ۔ کمپی ۔ دیواڑ ۔ پبیا ۔ تیمور ۔ گوئلوال ۔ بہلاورنہ ۔ نوبہان ۔ مالائ ۔ پودہنہ ۔ سور ۔ موریچہ ۔ سنگریچہ ۔ بہوریچہ . بالیچہ ۔ یسر کچرہ ۔ روسیہ ۔ چندو ۔ نکمپ ۔ بہادر ۔ ینکٹ ۔ وغیرہ

ایک اور کتاب کے اندر چوہان قبیلہ کی یہ شاخیں بھی لکھی ہیں ۔
جن میں ۔ باہروال ۔ کیچی ۔ سونی گر ۔ گرئیوال ۔ مریمان ۔ دھڑوال ۔ کٹاریہ ۔ کالس ۔ جاٹو ۔ سرویہ ۔ شامل ہیں ۔

ایک ور جگہ چوہان اجمیر میں مانگ رائے چوہان گجر کی حکومت رہی ہے ۔
عرب کا لشکر جب اجمیر کے نواح میں نمدار ہوا تو چوہان گجر قبیلہ نے کھلے میدان میں مقابلہ کیا ۔
چوہان گجر قبیلہ کی آٹھ 8 الگ الگ حکومتیں رہی ہیں ۔

چوہان گجر قبیلہ کو چند مفاد فرست مورخینوں نے تقسم کیا ہے ۔ راجپوت ۔ جاٹ ۔ اور اعوان مورخینوں نے اپنی اپنی گوتوں میں شامل کیا ہے ۔ جو کہ چوہان سب کے سب گجر نسل ہے ۔
چوہان گجر اور کٹاریہ گجروں کے راجگان ۔ چوہانیہ شوالک میں فوجی دستہ کے ساتھ پناہ گزیر ہوا اس کے راجہ سورج کٹاریہ ۔ راجہ گلاب ۔راجہ کرن ۔ راجہ لی راج ۔ راجہ سورن راج ۔ راجہ چالک راج بیون راج ۔راجہ لال راج ۔ راجہ ہوہڑ راج ۔ راجہ پدرم راج ۔ راجہ تان راج ۔ راجہ اجے راج ۔ راجہ بھجے ۔ ہری راج ۔راجہ تام راج ۔ گجرات گزئیٹر ۔1921ء کے مطابق ان کے 35 دیہات تھے اس کا کل رقبہ 28916 ایکڑ تھا ۔ اور کاشتکاری کا رقبہ رقبہ 20658 ایکڑ ہے ۔
چوہان گجر قبیلہ کی شاخیں۔
باہروال ۔ بھلیسر ۔ جینرر ۔ چال ۔ چوہلہ یا چھاولہ ۔ کشان ۔ کٹاریہ ۔ کھلوہیہ۔ کھر لوہیہ ۔ ودھوری۔ سراندانہ ۔ پھاگنہ ۔ لوتر ۔ دیپہ ۔ ہرسونی ۔ گر ۔ گھچی ۔ ھوئل وال نرجھان ۔ سالانی ۔ پوربیہ ۔ مدریچہ ۔ سنگر بھوریھچہ ۔ پالچہ۔ الیسر ۔ چندو یا چندک نکمپ ۔ کالس ۔کہنہ ان کے علاوہ اور بھی مشہور گوتیں شامل ہیں ۔
چوہانو کے بارے میں یہ بھی لکھا ہے ۔ کہ ہندوستان کی تمام ریاستیں چوہان گجررو کے پاس تھے ۔
ان کو عروج زیادہ دیر تک قائم رہا ۔ چوہان ہندکی اکثریت آبادی تھی ۔
موجود خطہ پاکسان میں ۔ ٹھٹھہ ۔ لاہور ۔ ملتان ۔ پشاور ۔ پر چوہانوں کا قبضہ تھا ۔
نیپال میں بھی چویانو کی حکومت رہی ہے۔ کرنل ٹاڈ نے راجہ انہل سے لیکر پرتھوی راجہ چوپان گجر تک 39 پشتیں لکھی ہیں ۔
تکشک قوم کا بھی چویان نسل سے تعلق تھا ۔ جو راجہ جےمل ان کی ان کی ترجمانی کرتا تھا ۔
مقام سانھبر ( نمک لی کام ) یہ مقام بھی راجہ سانھبر چوہان گجر پر رکھا گیا تھا ۔
جو کہ مانک رائے چوہان کا پہلا راجہ ہوا گزرا ہے ۔ چوہانو نے اسلامی حملوں میں شجاعت وقنوت کے وہ جوہر دکھلائے کہ اب تک تاریخ میں یادگار ہیں ۔
ان کا چوہان نامحاصل کرنا کر ابو کے اگنی کنڈ کے شعبدہ کے کرشمہ ہے ۔ اس وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ اس گجر خاندان پر فخر ہے ۔

حوالہ۔گجر قبائل صفحہ 486 مصنف کامران اعظم راجپوت ) چوہان قبیلہ گجروں کے 32 قلعے اس بات کی گواہی دیتے ہیں ۔
کہ ان کا اقتدار کئی علاقوں تک پھیلا ہواتھا۔یہ حکمران قبیلہ تھا ۔ جن کے راجگان کی ایک طویل لسٹ ہے ۔ 1000 ق م میں چوہان خاندان نے کولنکنڈہ میں حکومت کے آثار ملے ہیں ۔
چوہان گجر قبیلہ کے راجہ اشت اچھت رائے نے وسط ہند کو فتح کرکے اپنی سلطنت کی حدود کو تھانسیر تک وسیع کیا گیا ۔۔
چوہان گجر قبیلہ کی حکومت 185 قبل مسیح تک بر قرار رہی ۔ صدیوں بعد چوہانو گجروں نے مکاوتی نگر میں پھر آزاد حکومت قائم کی ۔
اخیری پرتھوی راجہ چوہان گجر (1177ء تا 1199ء) حکمران تھا ۔ چوہان گجروں کی اس سلطنت کا نام گجر منڈیل تھا ۔
یہ چوہان گجروں کی گجر ہونے کی ثبوت ہے ۔

راجہ ویسلدیو یا بیسلدیو یا بسالدیو راجہ کا تعلق بھی چوہان گجر قبیلہ سے تھا چوہان خاندان کے گجر ہر دور میں شجاعت و شوکت کے درخشندہ ستارے تھے ۔
راجہ پرتھوی راجہ چوپان گجر راجہ سومیشر کا بیٹا تھا۔ اس کو اپنے چچا نے جنگی تربیت دی مورخین نے لکھا کہ پارتھوی راجہ چوپان گجر شمالی ہند کے راجاوں کا ہیرو تھا اس کی بھادری وجرات کا ذکر شعروں اور گیتوں کے اندر بھی درج ہے ۔
یہ سپاہیوں کا بہت قدر دان تھا ۔ اور علماوں فضلا کا بھی جوہر شناس تھا ۔
یہ دو سلطنتوں کا مالک تھا ۔جو ایک تودادا کی میراث اجمیر کی بادشاہت اور دوسری نانا کی طرف سے دہلی کا تخت اس کے پاس تھا ۔جو تنور خاندان کا حکمران تھا ۔

ہند کے تمام راجے اس کی شوکت وسطوت سے کانپتے تھے۔ یہ بہت سخی اور دلیر بادشاہ تھا ۔
اس کا دور 1100ء تا 1200ء کا تھا ۔ ایک اور مقام پر طور گجر خیل کو بھی چویانو کی شاخ لکھا ہے۔
گجر قبائل میں چوپان گجر قبیلہ کی چند مشہور شاخیں جو کہ کوئٹہ بوندی میں اباد ہے ۔ ذکر کیا گیا ہے ۔ ہر ۔
سونی گرا ۔دیورا ۔ پہبا ۔ کیچی ۔ ہنحیوارمگوئلوال۔ بہدوریہ۔ نر جہان مالانی ۔ پوربیہ ۔ سور ۔ موریچہ ۔ پالیچہ ۔
یسرہ کچرہ ۔ زوسیہ۔ چندو ۔ نکمپ ۔ بھاور ۔ بنکٹ ۔ بھوریچہ ۔ سنگر یچہ ۔ دیکھوٹاڈ ۔ راجستان ۔
قدیم تاریخ گجر میں مولف عبدلغنی الازہری الشاشی جس نے عرب وسط ایشیاء مملک کی جانب تحقیق کرتے ہوئے چوہان گجر قبیلہ کے بارے میں لکھتے ہیں ۔
کہ چوہان گجر قبیلہ کو قدیم عرب مورخین نے جون اور جیون کے نام سے زکر کیا ہے ۔
اور جیون قبیلہ کے لوگ طسم وجدلیس کی اولاد بیان کیا ہے ۔ اور طسم وجدلیس کاثرکی کی اولاد ہیں ۔
جس کی طرف گجر قوم منسوب ہے ۔ لاثر قوم کا تورات میں گہیسر اور یونان مورخین نے غاثر اور قرون وسطی کے عرب مورخین نے جزر کے نام سے ذکر کیا ہے ۔
مورخ موسیوسیدیو فرانسی نے عرب قبائل عاربہ کی اصل یہ قبیلے بتلاتے ہے ۔
عاد ( گوتیانہ قبیلہ) عبیل ۔ عبد ۔ ثمود ۔ جدلیس ۔ طسم ۔ عمالقہ ۔ امیم ۔ ابیر ۔ جرہم ۔ حضرموت ۔ حضورا ۔
سلف قبیلہ ۔ سب سے پہلے عادی کی حکومت ہوئ جو یمن اور عمان میں تھا ۔
پھر اس قبیلہ کو ملک بدر کیا گیا ۔ جو مکہ اور مدینہ کے درمیان آکر آباد ہوئے ۔
جہاں عبیل لوگ آباد تھے ۔ کچھ عرصہ بعد سیلاب نے ان کو منتشر کر دیا ۔ ثمود کاثر بن ارم ق بن سام کا مسکن حجر اور وادی قرای اور شام کے درمیان تھا ۔
کہتے ہیں کہ ان کی عمریں بہت لمبئ ہوتئ تھی ۔ اس لئے پہاڑوں کو کھود کھود کر مکان بناتے تھے ۔
عمالق جن لو اکسوس یا شاسو یعنی چیچی کہا گیا ہے مصر پر تخت نشین تھی ۔ اور اس سرزمین پر حجاز اور نجد میں
رہتے تھے ۔
بنی وبارامیم بن علیم بن سام کی اولاد ہیں ۔ اور گجروں کو انہوں نے منظم کیا اور انہی کے نام سے گجر سب سے اول ایبرقبائل کے نام سے مشہور ہوئے ۔ اور یہی دو قبیلوں چوہان گجر اور چیچی گجروں کی اصل ہے ۔
اہبر قبائل کا پہلا زبردست بادشاہ جزیمہ ابرش ہوا گزرا ہے ۔ جس نے عاربہ ادنی کو منظم کیا ۔ لیکن اس دوران اس کو اپنے ہم قوم قبائل طسم اور جدلیس سے جنگ کرنی پڑی جن لی اولاد چوان ۔ جوان ۔ یا چوہان ۔ ہیں ۔
طسم اور جدلیس کی اولاد دجیوین ہیں ۔ جو طسم اور جدلیس کے بعد جزیرہ عرب میں حکمران تھے جن کا ذکر عرب ادب میں ملتا ہے ۔
یہ نتیجہ اخز ہوتا ہے عرب شعراجیوین ۔ جوان ۔چوھان قبیلہ سے تھے۔ ان کی یادگار کئی قلعے ہیں ۔

یادگار چوہان قبیلہ عرب مملک
یمامہ میں مکہ اور طائف کے درمیان بھی جونہ نامی ایک گاوں ہے ۔ جو چوپان گجر قبیلہ کی یادگار ہیں ۔

جزیمہ ابرش ۔ یمن اور حجاز سے ان کو شام کی طرف جب چوان یا چوہانوں کو دھکیل دیا تو فرابلس کے قریب جونیہ ریاست کی بنیاد ڈالی ۔
اس کے بعد جنوبی کوہ قاف اور عراق کی طرف پھیل گئے اور سکندرومی لے حملے کے وقت یہاں پر ان کی حکومت تھی
(مورخ رشید یاسمی ) نے جوانیہ قبیلہ کو کردوں میں شمار کیا ہے ۔ ( حوالہ تاریخ کرد چ 130 )

( 320 ق م ) میں یونانیوں اور بارتیوں ( بارو ) کی جنگ کے وقت اس چوان گجر قبیلہ کی ایک خود مختار ریاست تھی ۔
جب پور نے موجود افغانستان پر قبضہ کیا تو یہ چوان گجر قبیلہ لے لوگ غزنی کے علاقے میں آباد ہو گئے ۔
جوان گجر قبیلہ کیدار کے ساتھ جنگ میں شاہ پور کے حامی تھے ۔
جس کی وجہ سے باختر افتالی چوان گجر قبیلہ لے قبضہ میں اگیا ۔ اور اسی دور میں ان قبیلوں کے لوگ شمالی ہند میں داخل ہونا شروع ہوگئے ۔

شارٹ ہسٹری آف گجر باپ 3 میں چوہان گجر قبیلہ کے بارے میں لکھا ہے ۔
البیرونی وغیرہ نے ۔ چاہمان ۔ چہومن ۔چھمن ۔ یا چوہان ۔ جنھوں نے گجرات کی بنیاد رکھی ۔ جس کا صدر مقام ناران تھا ۔

( کتاب الہند باپ 8 پر زکر کیا گیا ہے )

چوھان گجر قبیلہ کی حکومتیں

شمالی سرحد ہند کے علاقہ میں ہم چوہان گجروں کی حکمرانی کے بارے مین بیان کرچکے ہیں ۔ مالوہ کے چوہان گجر بادشاہ لا اجمالی بیان ہے ۔
جگدیو چوہان گجر 10 سال حکمران رہا۔
جگناتھ چوہان گجر 10 سال مالوہ پر بادشاہ رہا ۔
ہر دیو چوہان گجر 15 سال مالوہ پر بادشاہ رہا ۔
باسی دیو چوہان گجر 16 سال مالوہ پر بادشاہ رہا ۔
سری دیوی چوہان گجر 15 سال مالوہ پر بادشاہ رہا ۔
دھرم دیو چوہان گجر 14 سال
بھلا دیو چوہان گجر 10 سال
تانگ دیو چوہان گجر 9 سال
مالدیو چوہان گجر 9 سال
وسلادیو چوہان گجر اجمیر الورا اور دہلی کا حکمران رہا ۔اس کے کے بعد پرتھوی راجہ چوپان گجر عظیم بادشاہ شمالی ہند میں اس کا اثر سورخ تھا ۔
اس کے بعد روز کھر پال چوہان گجر ۔ پھر سومیر ۔
جاہر چوہان گجر ۔ کدیو چوہان گجر ۔ پتھورا چوہان گجر کے حکمرانی کے بعد دہلی سے چوہان گجر قبیلہ کے دور حکومت کا خاتمہ ہوا ۔ اور چوہان گجر قبیلہ 4 دھڑوں میں تقسیم ہو گیا ۔
گجر چوپان ۔ راجپوت چوہان ۔ جٹ چوہان ۔ اعوان چوہان ۔ یہ سب کے سب چوہان گجر ہے اور گجر چوہان قبیلہ ہے ۔ آج بھی اگر یہ چوہان واپس ایک ہو جائے تو پھر سے حکمرانی کا دور شروع ہو گا
حوالہ کتاب گلستان تاریخ گجر
حوالہ مختصر تاریخ گجر

ہمارا استاز محترم جناب بانی کاروان گجر قومی تحریک 888 ملک فیروز خان اکڑا خیل گجر
05/09/2026

ہمارا استاز محترم جناب بانی کاروان گجر قومی تحریک 888 ملک فیروز خان اکڑا خیل گجر

گجر قوم گجر قبائل سرعام   ھے ساکہ آریا ائیر خیل عمر حیات گجر
04/09/2026

گجر قوم گجر قبائل سرعام ھے ساکہ آریا ائیر خیل عمر حیات گجر

پرانا روپیہ چیچی خیل گجر کو اعزاز حاصل ہے                 ساکہ آریا ائیر خیل گجر
03/09/2026

پرانا روپیہ چیچی خیل گجر کو اعزاز حاصل ہے ساکہ آریا ائیر خیل گجر

03/09/2026

دنیا میں تاریخی گجر قوم اور گجر قوم میں قبائل جو بڑا قبیلہ ہے وہ چوہان خیل گجر اور راجہ کٹانا ہ اور اس وقت پاکستان کے اندرونی جو بڑا کردار ہے وہ راجہ کٹان خیل قبیلہ ہے اور اس وقت پاکستان کے اندر ہمارے گجر قوم کے بانی اور سردار ملک رضا خان کٹانخیل گجر ھے ہم سب کو چاہیے ہم اس عظیم الشان شخص ملک رضا خان کٹانخیل گجر صاحب کے ساتھ دے ساکہ آریا ائیر خیل عمر حیات گجر

گجر قوم  اف  افغانستان ۔ پاکستان۔ ہندوستان  کا زوال سے عروج کے طرف سفر جاری ہے
03/09/2026

گجر قوم اف افغانستان ۔ پاکستان۔ ہندوستان کا زوال سے عروج کے طرف سفر جاری ہے

01/09/2026
میرا قدم قدم پر مدگار ہے خدا  ✋وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُۖ   🖤۔     ساکہ آریا ائیر خیل عمر حیات گجر
01/09/2026

میرا قدم قدم پر مدگار ہے خدا ✋
وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُۖ 🖤۔ ساکہ آریا ائیر خیل عمر حیات گجر

بچي زه دا جیپال او دا ګیرا او ګوتم بده يمراجه یم دا راجه دا خاندانه يم ګجر يمعبدرحیم روغانے 🌸
30/08/2026

بچي زه دا جیپال او دا ګیرا او ګوتم بده يم
راجه یم دا راجه دا خاندانه يم ګجر يم

عبدرحیم روغانے 🌸

Address

Abbottabad
22020

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Umar Hayat Gujjar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share