14/03/2026
میں اس وقت مدینہ منورہ میں موجود ہوں۔
سب سے پہلے پاکستانی حکومت اور پھر ٹریول ایجنٹس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتی ہوں کہ خدارا پاکستانی عوام کے ساتھ ظلم مت کریں۔ لوگ بہت امیدوں اور دعاؤں کے ساتھ عمرہ کی نیت سے یہاں آتے ہیں، لیکن کئی ٹریول ایجنٹس ان کے ساتھ دھوکہ کرتے ہیں۔
اکثر ایجنٹس پہلے ویزا دینے سے انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہماری رہائش لیں گے تو ہی ویزا ملے گا۔ مجبور ہو کر لوگ 15 سے 20 دن کے پیکج کے لیے لاکھوں روپے ادا کرتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ وہ سکون سے رہیں گے اور عبادت پر توجہ دے سکیں گے۔
لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلتی ہے۔ ایجنٹس پہلے پڑھ لکھ کر اچھے ہوٹل اور کم فاصلے کا وعدہ کرتے ہیں، مگر جب لوگ مکہ یا مدینہ پہنچتے ہیں تو صورتحال بالکل مختلف ہوتی ہے۔
میرے اور بہت سے دیگر عمرہ زائرین کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہوٹل حرم سے تقریباً 600 میٹر کے فاصلے پر ہے، مگر یہاں آ کر معلوم ہوا کہ ہوٹل تقریباً 6 کلومیٹر دور ہے۔ عمرہ کے لیے اکثر بزرگ مرد اور خواتین آتے ہیں، جن کے لیے اتنا فاصلہ طے کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
مکہ مکرمہ میں تو ایک عورت کو ہوٹل تک بھی رسائی نہیں دی گئی اور وہ مجبور ہو کر سڑک پر سوتی رہی۔ کل مسجد نبوی میں بھی کئی خواتین کو پریشان اور روتے ہوئے دیکھا۔
جب ٹریول ایجنٹس کو فون کیا گیا تو انہوں نے مسئلہ حل کرنے کے بجائے بدتمیزی کی، یہاں تک کہ عمرہ زائرین کو ہی بلیک میلر کہہ دیا گیا۔ کچھ ایجنٹس ایسے رویے اختیار کیے بیٹھے ہیں جیسے انہیں کسی کا خوف ہی نہیں۔
میری بھی کل اپنے ٹریول ایجنٹ سے بات ہوئی جس نے انتہائی بدتمیزی کی۔ ایک اور ایجنٹ سے میری دو سال پہلے ملاقات ہوئی تھی، اس کی ویڈیو بھی موجود ہے جس میں اس نے ویڈیو بنانے پر موبائل چھین لیا تھا اور ایک خاتون کے ساتھ انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا تھا۔
ہم تو یہاں چند دن کے مہمان ہیں، رہ کر واپس چلے جائیں گے۔ ہم ٹیکسی افورڈ بھی کر سکتے ہیں اور کر بھی لیتے ہیں۔ لیکن یہاں آنے والے بہت سے بزرگ مرد اور خواتین ایسے ہوتے ہیں جنہیں روزے کی حالت میں سخت گرمی میں ایک گھنٹہ پیدل چلنا پڑتا ہے، تب جا کر وہ عبادت پر توجہ دے پاتے ہیں۔
ہماری حکومت پاکستان سے بار بار گزارش ہے کہ ایسے ٹریول ایجنٹس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کسی بھی عمرہ زائر کو اس طرح کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اور مجھے لگتا ہے اگر ظلم ہوتا دیکھیں آواز نا اٹھائیں تب بھی یہ اچھی بات نہیں ہے ہماری عبادتیں کس کام کی ہیں اگر ہم ان بے بس لوگوں کو ایسے ہی روڈز ہر پڑا رہنے دیں ۔
enabvi
゚