Mayra Pakistan

Mayra Pakistan Welcome to Mayra Pakistan! Discover the beauty, culture, and stories of Pakistan through our lens.

From stunning landscapes and vibrant traditions to food, lifestyle, and everyday adventures, we bring you authentic and engaging content.

17/02/2025

Hi everyone! 🌟 You can support me by sending Stars - they help me earn money to keep making content you love.

Whenever you see the Stars icon, you can send me Stars!

داربار کارتارپور صاحب ایک اہم سکھ گردوارہ ہے جو پاکستان کے شہر کارتارپور میں واقع ہے، جو بھارت کی سرحد کے قریب ہے۔ یہ گر...
12/01/2025

داربار کارتارپور صاحب ایک اہم سکھ گردوارہ ہے جو پاکستان کے شہر کارتارپور میں واقع ہے، جو بھارت کی سرحد کے قریب ہے۔ یہ گردوارہ سکھ مذہب کے بانی، گرو نانک کی آخری رہائش گاہ ہے، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری برس گزارے اور 1539 میں وفات پائی۔ اس جگہ کو سکھوں کے لیے بہت بڑی مذہبی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہاں گرو نانک نے اپنی تعلیمات کا پرچار کیا اور ایک کمیونٹی قائم کی جس میں مساوات، عبادت اور خدمت کا پیغام دیا۔

2019 میں کارتارپور کوریڈور کا آغاز کیا گیا، جس کے ذریعے بھارتی سکھ یاتری بغیر ویزے کے اس گردوارے کی زیارت کر سکتے ہیں۔ یہ کوریڈور بھارت کے پنجاب کے علاقے ڈیرہ بابا نانک سے جڑتا ہے، جو بھارت اور پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ داربار کارتارپور صاحب نہ صرف ایک روحانی مرکز ہے بلکہ مذہبی یکجہتی اور امن کا بھی ایک علامتی نشان ہے۔
दरबार करतारपुर साहिब एक महत्वपूर्ण सिख गुरुद्वारा है जो पाकिस्तान के करतारपुर शहर में स्थित है, जो भारत की सीमा के पास है। यह गुरुद्वारा सिख धर्म के संस्थापक गुरु नानक की अंतिम निवास स्थान के रूप में प्रसिद्ध है, जहाँ उन्होंने अपने जीवन के आखिरी साल बिताए और 1539 में यहीं पर उनका देहांत हुआ। इस स्थान को सिखों के लिए अत्यधिक धार्मिक महत्व प्राप्त है, क्योंकि यहाँ गुरु नानक ने अपनी शिक्षा दी और एक समुदाय की स्थापना की, जिसमें समानता, भक्ति और सेवा का संदेश दिया गया।

2019 में करतारपुर कॉरिडोर की शुरुआत की गई, जिससे भारतीय सिख यात्री बिना वीज़ा के इस गुरुद्वारे की यात्रा कर सकते हैं। यह कॉरिडोर भारत के पंजाब के डेरा बाबा नानक से जुड़ता है और भारत-पाकिस्तान सीमा के पास स्थित है। दरबार करतारपुर साहिब केवल एक धार्मिक स्थल नहीं, बल्कि धार्मिक एकता और शांति का प्रतीक भी है।

03/01/2025

Baboon valley Kashmir

گنگا پور گھوڑا ریل، جسے مقامی طور پر "گھوڑا ٹرین" کہا جاتا ہے، پنجاب، پاکستان کی ایک تاریخی ریل گاڑی ہے۔ یہ 1898 میں مشہ...
01/01/2025

گنگا پور گھوڑا ریل، جسے مقامی طور پر "گھوڑا ٹرین" کہا جاتا ہے، پنجاب، پاکستان کی ایک تاریخی ریل گاڑی ہے۔ یہ 1898 میں مشہور انجینئر اور فلاحی شخصیت سر گنگا رام نے قائم کی تھی۔ اس کا مقصد گنگا پور گاؤں اور بوچھیانہ ریلوے اسٹیشن (تقریباً 3 کلومیٹر دور) کے درمیان بھاری مشینری اور زرعی پیداوار کی نقل و حمل تھا۔

سر گنگا رام، جنہیں "جدید لاہور کا بانی" بھی کہا جاتا ہے، نے علاقے میں جدید زرعی نظام کو فروغ دینے کے لیے اس ٹرام وے کا آغاز کیا۔ یہ ایک تنگ پٹڑی پر گھوڑوں کے ذریعے کھینچی جانے والی سادہ گاڑیوں پر مشتمل تھا، جو سامان اور مسافروں کو منتقل کرنے کے لیے ایک موثر ذریعہ تھا۔

یہ نظام تقریباً ایک صدی تک فعال رہا، لیکن 1990 کی دہائی میں مالی مشکلات اور خستہ حالی کی وجہ سے بند ہو گیا۔ 2010 میں، مقامی حکومت اور عوام کے تعاون سے اسے دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی گئی، اور کچھ وقت کے لیے یہ ثقافتی ورثے کے طور پر دوبارہ چلایا گیا۔

تاہم، حالیہ اطلاعات کے مطابق، یہ ٹرام وے باقاعدہ آپریشن میں نہیں ہے، اور اس کی بنیادی ڈھانچے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ تاریخ دانوں اور مقامی کمیونٹی کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس تاریخی اثاثے کو محفوظ کیا جائے اور اسے سیاحتی مقام کے طور پر بحال کیا جائے۔

گنڈا سنگھ بارڈر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک کم مشہور سرحدی گزرگاہ ہے، جو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر قصور کے قریب و...
30/12/2024

گنڈا سنگھ بارڈر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک کم مشہور سرحدی گزرگاہ ہے، جو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر قصور کے قریب واقع ہے۔ بھارت کی جانب یہ سرحد پنجاب کے گاؤں حسینی والا کے نزدیک ہے۔ یہ سرحد تاریخی اہمیت کی حامل ہے، خاص طور پر 1947 کی تقسیم ہند اور ابتدائی دنوں میں جب دونوں ممالک کے درمیان سفر اور تجارت ہوتی تھی۔

اہم خصوصیات:

1. تاریخی اہمیت:
گنڈا سنگھ بارڈر نے تقسیم ہند کے وقت ایک اہم کردار ادا کیا اور بعد میں پاک بھارت سفر اور تجارت کے لیے استعمال ہوتی رہی۔

2. سادہ جھنڈا اتارنے کی تقریب:
واہگہ بارڈر کی پرجوش اور شاندار تقریب کے برعکس، گنڈا سنگھ بارڈر پر جھنڈا اتارنے کی تقریب سادہ اور پرسکون ہوتی ہے۔

3. سیاحتی مرکز:
اگرچہ یہ واہگہ بارڈر جتنا مشہور نہیں ہے، لیکن تاریخی اہمیت کے باعث یہ مقام قصور اور فیروزپور کے قریب سے آنے والے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔

4. قصور کے قریب:
قصور اپنی ثقافتی اور روحانی اہمیت کی وجہ سے مشہور ہے، خاص طور پر بابا بلھے شاہ کے مزار کے لیے، جو صوفی شاعری کی وجہ سے مشہور ہیں۔

اگر آپ اسے دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ واہگہ بارڈر کا ایک پرسکون اور کم تجارتی متبادل ہے، جو پاک بھارت سرحد کا ایک مختلف پہلو پیش کرتا ہے۔

مقبرہ جہانگیر لاہور کو مغلیہ عہد میں تعمیر کیے گئے مقابر میں ایک بلند مقام حاصل ہے۔ یہ دریائے راوی لاہور کے دوسرے کنارے ...
29/12/2024

مقبرہ جہانگیر لاہور کو مغلیہ عہد میں تعمیر کیے گئے مقابر میں ایک بلند مقام حاصل ہے۔ یہ دریائے راوی لاہور کے دوسرے کنارے شاہدرہ کے ایک باغ دلکشا میں واقع ہے۔ جہانگیر کی بیوہ ملکہ نور جہاں نے اس عمارت کا آغاز کیا اور شاہ جہاں نے اسے پایہ تکمیل تکمیل پہنچایا۔ یہ مقبرہ پاکستان میں مغلوں کی سب سے حسین یادگار مانا جاتاہے۔

مقبرہ کے چاروں کونوں پر حسین مینار نصب ہیں۔ قبر کا تعویذ سنگ مرمر کا ہے اور اس پر عقیق، لاجورد، نیلم، مرجان اور دیگر قیمتی پتھروں سے گل کاری کی گئی ہے۔ دائیں بائیں اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام کندہ ہیں۔

سکھ عہد میں اس عمارت کو بہت نقصان پہنچایا گیا۔ سکھ اس عمارت میں سفید سنگ مرمر سے بنایا گیا سہ نشین اکھاڑ کر امرتسر لے گئے۔ اسی طرح عمارت کے ستونوں اور آرائشات میں استعمال کیے گئے قیمتی جواہرات بھی نکال لیے گئے، تاہم آج بھی یہ عمارت قابل دید ہے۔

مقبرہ کا وہ حصہ جہاں شہنشاہ نورالدین جہانگیر دفن ہے ایک بلند چبوترا بنایا گیا ہے۔ اندر داخل ہونے کا ایک ہی راستہ ہے۔ مزار کے چاروں جانب سنگ مرمر کی جالیاں لگی ہوئی ہیں، جو سخت گرم موسم میں بھی ہال کو موسم کی حدت سے محفوظ رکھتی ہیں۔

مقبرہ جہانگیر کی حدود میں نور جہاں نے ایک خوبصورت مسجد بھی تعمیر کرائی تھی۔ اس مقبرہ میں نور جہاں نے کافی عرصہ رہائش بھی اختیار کی، اس لیے یہاں رہائشی عمارات بھی تعمیر کئی گئی تھیں۔

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mayra Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mayra Pakistan:

Share