Mayra Pakistan

Mayra Pakistan Welcome to Mayra Pakistan! Discover the beauty, culture, and stories of Pakistan through our lens.

From stunning landscapes and vibrant traditions to food, lifestyle, and everyday adventures, we bring you authentic and engaging content.

لاہور جنکشن ریلوے اسٹیشن کی تاریخ کو ہم تین اہم ادوار میں تقسیم کر کے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں:​۱۔ برطانوی دور اور قلعہ نم...
03/07/2026

لاہور جنکشن ریلوے اسٹیشن کی تاریخ کو ہم تین اہم ادوار میں تقسیم کر کے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں:
​۱۔ برطانوی دور اور قلعہ نما تعمیر (1859–1860)
​1857ء کی جنگِ آزادی کے فوراً بعد، برطانوی حکومت برصغیر میں اپنے دفاع اور فوجی نقل و حرکت کو لے کر بہت زیادہ فکر مند تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جب 1859ء میں پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر سر جان لارنس نے اس اسٹیشن کا سنگِ بنیاد رکھا، تو اسے محض ایک ریلوے اسٹیشن کے طور پر نہیں بلکہ ایک مضبوط فوجی قلعے کے طور پر ڈیزائن کیا گیا۔
​برطانوی انجینئرز کے تیار کردہ اس ڈیزائن کو لاہور کے مشہور ٹھیکیدار میاں محمد سلطان چغتائی نے عملی جامہ پہنایا۔ اسٹیشن کی دیواریں سرخ اینٹوں سے غیر معمولی حد تک موٹی بنائی گئیں، اس میں بڑے بڑے برج (Turrets) شامل کیے گئے اور دیواروں میں بندوقوں اور توپوں کے لیے خاص سوراخ (Gun slits) چھوڑے گئے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا بغاوت میں برطانوی فوج یہاں پناہ لے کر اپنا دفاع کر سکے۔ 1860ء میں یہاں سے پہلی ٹرین امرتسر کے لیے روانہ ہوئی۔
​۲۔ تحریکِ آزادی کا مرکز (1928)
​یہ اسٹیشن صرف ریل گاڑیوں کی آمدورفت کا گواہ نہیں رہا، بلکہ برصغیر کے لوگوں کی آزادی کی تڑپ کا بھی شاہد ہے۔ 30 اکتوبر 1928ء کو جب برطانوی حکومت کا "سائمن کمیشن" لاہور پہنچا، تو معروف رہنما لالا لاجپت رائے کی قیادت میں ہزاروں لوگوں نے اسی ریلوے اسٹیشن کے باہر ایک بہت بڑا پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس احتجاج کو کچلنے کے لیے برطانوی پولیس نے اندھا دھند لاٹھی چارج کیا، جس میں لالا لاجپت رائے شدید زخمی ہوئے اور بعد میں انہی زخموں کی وجہ سے دم توڑ گئے۔ اس واقعے نے آزادی کی تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی۔
​۳۔ تقسیمِ ہند اور ہجرت کا منظر (1947)
​لاہور ریلوے اسٹیشن کی تاریخ کا سب سے حساس اور دردناک باب 1947ء میں تقسیمِ ہند کے وقت لکھا گیا۔ یہ اسٹیشن تاریخ کی سب سے بڑی انسانی ہجرت کا مرکزی نقطہ بن گیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی "آزادی کی ٹرینیں" (Refugee trains) اسی اسٹیشن پر آ کر رکتی اور یہاں سے روانہ ہوتی تھیں۔ اس دور میں اسٹیشن نے جہاں لاکھوں لوگوں کو اپنے نئے وطن پہنچنے کی خوشی میں روتے دیکھا، وہاں ہجرت کے دوران ہونے والے فسادات اور انسانی المیوں کا بھی خاموش گواہ رہا۔

راجه پورس (جنہیں تاریخی طور پر راجہ پورو بھی کہا جاتا ہے) قدیم برصغیر کے ایک عظیم الشان بادشاہ تھے، جن کی حکومت دریائے ہ...
02/07/2026

راجه پورس (جنہیں تاریخی طور پر راجہ پورو بھی کہا جاتا ہے) قدیم برصغیر کے ایک عظیم الشان بادشاہ تھے، جن کی حکومت دریائے ہائڈاسپس (جہلم) اور اسیسنز (چناب) کے درمیانی علاقے پر تھی، جو کہ موجودہ دور میں بنیادی طور پر پنجاب، پاکستان کا حصہ ہے۔
​اگرچہ قدیم برصغیر کی اپنی تحریروں میں ان کا ذکر کم ملتا ہے، لیکن یونانی مورخین کی کتابوں میں ان کا نام سنہری حروف سے لکھا گیا ہے، کیونکہ وہ وہ واحد حکمران تھے جنہوں نے سکندرِ اعظم (Alexander the Great) کی عالمی فتوحات کے سامنے انتہائی سخت اور بہادرانہ مزاحمت دکھائی۔
​ابتدائی زندگی اور سلطنت
​راجہ پورس کا تعلق "پورو" قبیلے سے تھا، جو کہ پنجاب کے زرخیز میدانوں میں آباد تھا۔ چوتھی صدی قبل مسیح (4th Century BCE) تک ان کی سلطنت اس علاقے کی ایک خوشحال اور طاقتور ریاست بن چکی تھی۔
​ان کے پڑوسی اور حریف، ٹیکسلا کے راجہ امبھی نے سکندرِ اعظم کی آمد پر لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے تھے اور اپنی بقا کے لیے یونانیوں سے ہاتھ ملا لیا تھا۔ لیکن راجہ پورس نے کسی بھی غیر ملکی طاقت کے سامنے جھکنے سے صاف انکار کر دیا۔ جب سکندر نے انہیں پیغام بھیجا کہ وہ اطاعت قبول کریں اور ٹیکس (خراج) دیں، تو پورس نے تاریخی جواب دیا کہ "میں سکندر سے اپنی سرحد پر ضرور ملوں گا، لیکن ہاتھوں میں تلوار لے کر۔"
​معرکۂ جہلم / ہائڈاسپس کی جنگ (326 قبل مسیح)
​راجہ پورس کی تاریخ کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن باب جہلم کی جنگ ہے، جو دریائے جہلم کے کنارے لڑی گئی۔ اسے سکندرِ اعظم کی زندگی کی سب سے مشکل اور خونریز ترین جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
​جنگی حکمتِ عملی
​جب سکندر اپنی فوج کے ساتھ جہلم پہنچا، تو اس نے دیکھا کہ راجہ پورس ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ دوسرے کنارے پر صف آرا ہیں۔ مونسون کی بارشوں کی وجہ سے دریا میں شدید طغیانی تھی، اور اسے پار کرنا بظاہر ناممکن تھا۔ پورس کے پاس ایک بہت بڑا دفاعی ہتھیار بھی تھا: 200 عظیم الجثہ جنگی ہاتھیوں کی فرنٹ لائن۔ یونانی گھوڑے اور سپاہی اس سے پہلے کبھی اتنی بڑی تعداد میں ہاتھیوں کے سامنے نہیں لڑے تھے۔
​سکندر کا رات کی تاریکی میں دریا پار کرنا
​سکندر کو اندازہ ہو گیا کہ سامنے سے حملہ کرنا خودکشی کے برابر ہوگا۔ اس نے ایک چال چلی۔ کئی دنوں تک اس کی فوج دریا کے کنارے شور مچاتی اور جنگی مشقیں کرتی رہی تاکہ پورس کا دھیان بٹایا جا سکے۔ پھر، ایک رات جب شدید طوفان اور بارش ہو رہی تھی، سکندر اپنی فوج کے ایک حصے (تقریباً 11,000 سپاہیوں) کو لے کر خاموشی سے چند میل اوپر کی طرف گیا اور وہاں سے دریا پار کر کے پورس کی فوج پر اچانک پیچھے سے حملہ کر دیا۔
​ایک خونی مقابلہ
​راجہ پورس نے فوراً اپنے بیٹے کو ایک دستے کے ساتھ سکندر کو روکنے کے لیے بھیجا، لیکن وہ یونانیوں کے سامنے نہ ٹک سکے۔ اس کے بعد دونوں بڑی فوجیں آمنے سامنے آئیں۔
​یہ جنگ انتہائی ہولناک تھی۔ پورس کے جنگی ہاتھیوں نے یونانی پیادہ فوج کو پیروں تلے کچل ڈالا اور ان کے گھوڑے ہاتھیوں کی چنگھاڑ سے خوفزدہ ہو کر بھاگنے لگے۔ یونانیوں نے بڑی مشکل سے ہاتھیوں پر قابو پایا، جب ان کے نیزہ بازوں نے ہاتھیوں کی آنکھوں اور سونڈوں کو نشانہ بنایا، جس سے زکمی ہاتھی پاگل ہو کر پیچھے مڑے اور خود اپنی ہی فوج کو نقصان پہنچانے لگے۔
​راجہ پورس کی گرفتاری اور تاریخی مکالمہ
​اپنی فوج کو بکھرتا ہوا دیکھنے اور خود شدید زخمی ہونے کے باوجود، راجہ پورس نے میدانِ جنگ سے بھاگنے سے انکار کر دیا۔ وہ اپنے شاہی ہاتھی پر سوار آخری وقت تک لڑتے رہے، یہاں تک کہ زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے نڈھال ہو گئے۔
​سکندر پورس کی اس غیر معمولی بہادری سے بے حد متاثر ہوا۔ جب زخمی اور قیدی راجہ پورس کو سکندر کے سامنے لایا گیا، تو سکندر نے ان سے پوچھا: "آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟"
​راجہ پورس نے فخر سے سر اٹھا کر وہ تاریخی جملہ کہا جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا:
​"میرے ساتھ وہ سلوک کرو، جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے۔"
​سکندر نے حیرت سے پوچھا: "کیا اس کے علاوہ آپ کی کوئی اور خواہش نہیں؟" پورس نے جواب دیا: "ان الفاظ میں سب کچھ آ گیا ہے: ایک بادشاہ کی طرح۔"
​انجام اور تاریخی اثرات
​پورس کی اس انا، غیرت اور شجاعت نے سکندر کا دل جیت لیا۔ اس نے نہ صرف پورس کی جان بخشی بلکہ ان کی سلطنت بھی انہیں واپس کر دی۔ یہی نہیں، بلکہ سکندر نے اردگرد کے دیگر مفتوحہ علاقے بھی پورس کی حکومت میں شامل کر دیے، جس سے پورس اپنے علاقے کے سب سے طاقتور حکمران بن گئے۔
​تاہم، اس جنگ نے سکندر کی ناقابلِ شکست فوج کے حوصلے توڑ دیے۔ پورس کی فوج سے لڑنے کے بعد جب یونانیوں نے سنا کہ آگے گنگا کے میدانوں میں نندا سلطنت کے پاس اس سے بھی کئی گنا بڑے ہاتھیوں کے لشکر موجود ہیں، تو انہوں نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا اور بغاوت کر دی۔ یوں، پورس کی بہادری وہ اہم وجہ بنی جس نے سکندر کو ہندوستان سے واپس مڑنے پر مجبور کیا۔
​وفات
​سکندرِ اعظم کی 323 قبل مسیح میں بابل (Babylon) میں وفات کے بعد، یونانی سلطنت کمزور پڑ گئی۔ راجہ پورس نے کچھ عرصہ اپنی حکومت برقرار رکھی۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ تقریباً 317 قبل مسیح میں، ایک یونانی جنرل یوڈیموس (Eudemus) کی سازش یا چندرا گپت موریا کے عروج کے دور میں پیدا ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے نتیجے میں انہیں قتل کر دیا گیا، اور ان کی سلطنت موریا خاندان کا حصہ بن گئی۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ (جنہیں "شیرِ پنجاب" بھی کہا جاتا ہے) سکھ سلطنت کے بانی اور ایک عظیم جنگجو تھے، جنہوں نے 19ویں صدی کے ...
02/07/2026

مہاراجہ رنجیت سنگھ (جنہیں "شیرِ پنجاب" بھی کہا جاتا ہے) سکھ سلطنت کے بانی اور ایک عظیم جنگجو تھے، جنہوں نے 19ویں صدی کے آغاز میں شمال مغربی برصغیر پر ایک طاقتور حکومت قائم کی۔
​ان کی زندگی اور دورِ حکومت کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
​1۔ ابتدائی زندگی اور اقتدار کا آغاز
​رنجیت سنگھ 1780ء میں گوجرانوالہ (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں چیچک کی بیماری کی وجہ سے ان کی بائیں آنکھ کی بینائی چلی گئی، لیکن اس کے باوجود وہ ایک بہترین شہسوار اور تلوار باز بنے۔ انہوں نے محض 12 سال کی عمر میں اپنے والد کی وفات کے بعد اپنی مِسل (قبیلے) کی قیادت سنبھالی۔ 1801ء میں، صرف 20 سال کی عمر میں، انہوں نے لاہور پر قبضہ کر کے خود کو پنجاب کا مہاراجہ قرار دیا۔
​2۔ سلطنت کی وسعت
​ان کے دور میں سکھ سلطنت کی سرحدیں بہت وسیع ہوئیں۔ ان کی حکومت میں درج ذیل علاقے شامل تھے:
​پورا خطہِ پنجاب (موجودہ پاکستانی اور بھارتی پنجاب)
​کشمیر اور لداخ
​پشاور اور خیبر پختونخوا کے علاقے
​انہوں نے افغانستان کی طرف سے ہونے والے حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور درہِ خیبر کے راستے ہونے والی بیرونی مداخلت کو ہمیشہ کے لیے روک دیا۔
​3۔ جدید فوج (خالصہ آرمی)
​مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ انہوں نے روایتی جنگجوؤں کو "خالصہ آرمی" کی شکل میں ایک منظم اور پیشہ ور فوج بنایا۔ انہوں نے نیپولین کی فوج کے فرانسیسی اور یورپی جرنیلوں کو ملازمت پر رکھا تاکہ وہ ان کی فوج کو جدید یورپی جنگی مہارتیں اور توپ خانے کا استعمال سکھا سکیں۔
​4۔ رواداری اور ثقافتی خدمات
​سیکولر حکومت: رنجیت سنگھ خود ایک پکے سکھ تھے، لیکن ان کا دربار مذہبی رواداری کا بہترین نمونہ تھا۔ ان کے سب سے قریبی وزیر، جرنیل اور مشیر مسلمان اور ہندو بھی تھے (جیسے ان کے مشہور وزیرِ خارجہ فقیر عزیز الدین)۔
​گولڈن ٹیمپل: انہوں نے امرتسر میں سکھوں کی سب سے مقدس عبادت گاہ، ہرمندیر صاحب پر سونے کی چادریں چڑھوائیں، جس کے بعد اسے "گولڈن ٹیمپل" کہا جانے لگا۔
​کوہِ نور ہیرا: دنیا کا مشہور کوہِ نور ہیرا ایک طویل عرصے تک ان کے پاس رہا، جسے وہ خاص موقعوں پر اپنے بازو پر سجاتے تھے۔
​وفات اور سلطنت کا خاتمہ
​مہاراجہ رنجیت سنگھ کا انتقال 1839ء میں لاہور میں ہوا، اور ان کی آخری رسومات (سمادھی) لاہور فورٹ (شاہی قلعہ) کے بالکل ساتھ ادا کی گئیں۔ وہ واحد شخصیت تھے جو پوری سلطنت کو جوڑے ہوئے تھے۔ ان کی وفات کے بعد سکھ سلطنت اندرونی سازشوں کا شکار ہو گئی اور بالاخر 1849ء میں انگریزوں (برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی) نے پنجاب پر قبضہ کر لیا۔
​آج بھی تاریخ میں انہیں پنجاب کی تاریخ کی ایک انتہائی بااثر اور طاقتور شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
​کیا آپ ان کی زندگی، ان کی جنگوں، یا لاہور میں ان کے دورِ حکومت کے بارے میں کچھ مزید جاننا چاہتے ہیں؟

اندرون لاہور کی تنگ گلیوں، تاریخی دروازوں اور رونق سے بھرپور بازاروں میں ایک ایسا جادو ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ بھی مدہم ...
28/06/2026

اندرون لاہور کی تنگ گلیوں، تاریخی دروازوں اور رونق سے بھرپور بازاروں میں ایک ایسا جادو ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ بھی مدہم نہیں ہوتا۔ یہاں کی ہر اینٹ ایک داستان سناتی ہے اور ہر موڑ پر صدیوں پرانی تاریخ، ثقافت اور لازوال ورثہ سانس لیتا محسوس ہوتا ہے

لاہور کا مشہور جین مندر (جین دگمبر مندر) شہر کے تاریخی اور ثقافتی نقوش کا ایک اہم حصہ ہے، جو پرانی انارکلی کے قریب لٹن ر...
28/06/2026

لاہور کا مشہور جین مندر (جین دگمبر مندر) شہر کے تاریخی اور ثقافتی نقوش کا ایک اہم حصہ ہے، جو پرانی انارکلی کے قریب لٹن روڈ پر واقع ہے۔
​دہائیوں سے لاہوریوں کے لیے یہ نام صرف ایک مصروف چوراہے ("جین مندر چوک") یا میٹرو اسٹیشن کی وجہ سے جانا جاتا تھا، لیکن حالیہ برسوں میں اس تاریخی عمارت کو ایک نیا جیون ملا ہے۔
​تاریخ اور بحالی کے اہم مراحل
​مندر کی تعمیر: یہ مندر لگ بھگ 1940ء میں روایتی شیکھر (Shikhara) طرزِ تعمیر پر بنایا گیا تھا، جس کی خاص پہچان اس کا مخروطی (تیز تکون والا) گنبد ہے جو پہاڑ کی چوٹی سے مشابہت رکھتا ہے۔
​1992ء کے واقعات: 1992ء میں بھارت میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد، یہاں ردعمل میں ایک مشتعل ہجوم نے اس مندر کو شدید نقصان پہنچایا (اس غلط فہمی میں کہ یہ ایک ہندو مندر ہے)۔ اس واقعے کے بعد مندر کا صرف مرکزی گنبد ہی بچ سکا تھا اور یہ جگہ تقریباً 30 سال تک کھنڈر بنی رہی۔
​اورنج لائن میٹرو کا دور: 2016ء میں اورنج لائن میٹرو ٹرین کی تعمیر کے دوران اس جگہ کو صاف کر کے محفوظ کیا گیا، اور بالکل اس کے سامنے ایک جدید ترین انارکلی اسٹیشن تعمیر کیا گیا۔
​2022ء میں بحالیِ نو: پاکستان کی سپریم کورٹ کے احکامات پر، متروکہ وقف املاک بورڈ (ETPB) نے اقلیتوں کے اس تاریخی مقام کی مکمل بحالی کا کام شروع کیا۔ مندر کے اصل بچ جانے والے گنبد کو کرین کی مدد سے دوبارہ مضبوط بنیادوں پر نصب کیا گیا، اس کی خوبصورت پلستر کاری کی گئی اور جون 2022ء میں اسے دوبارہ کھول دیا گیا۔
​آج یہ مندر لاہور کی کثیر الثقافتی اور قدیم تاریخ کی علامت بن کر چمک رہا ہے، جسے اورنج لائن سے گزرنے والے مسافر واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mayra Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mayra Pakistan:

Shortcuts

Share