02/07/2026
راجه پورس (جنہیں تاریخی طور پر راجہ پورو بھی کہا جاتا ہے) قدیم برصغیر کے ایک عظیم الشان بادشاہ تھے، جن کی حکومت دریائے ہائڈاسپس (جہلم) اور اسیسنز (چناب) کے درمیانی علاقے پر تھی، جو کہ موجودہ دور میں بنیادی طور پر پنجاب، پاکستان کا حصہ ہے۔
اگرچہ قدیم برصغیر کی اپنی تحریروں میں ان کا ذکر کم ملتا ہے، لیکن یونانی مورخین کی کتابوں میں ان کا نام سنہری حروف سے لکھا گیا ہے، کیونکہ وہ وہ واحد حکمران تھے جنہوں نے سکندرِ اعظم (Alexander the Great) کی عالمی فتوحات کے سامنے انتہائی سخت اور بہادرانہ مزاحمت دکھائی۔
ابتدائی زندگی اور سلطنت
راجہ پورس کا تعلق "پورو" قبیلے سے تھا، جو کہ پنجاب کے زرخیز میدانوں میں آباد تھا۔ چوتھی صدی قبل مسیح (4th Century BCE) تک ان کی سلطنت اس علاقے کی ایک خوشحال اور طاقتور ریاست بن چکی تھی۔
ان کے پڑوسی اور حریف، ٹیکسلا کے راجہ امبھی نے سکندرِ اعظم کی آمد پر لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے تھے اور اپنی بقا کے لیے یونانیوں سے ہاتھ ملا لیا تھا۔ لیکن راجہ پورس نے کسی بھی غیر ملکی طاقت کے سامنے جھکنے سے صاف انکار کر دیا۔ جب سکندر نے انہیں پیغام بھیجا کہ وہ اطاعت قبول کریں اور ٹیکس (خراج) دیں، تو پورس نے تاریخی جواب دیا کہ "میں سکندر سے اپنی سرحد پر ضرور ملوں گا، لیکن ہاتھوں میں تلوار لے کر۔"
معرکۂ جہلم / ہائڈاسپس کی جنگ (326 قبل مسیح)
راجہ پورس کی تاریخ کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن باب جہلم کی جنگ ہے، جو دریائے جہلم کے کنارے لڑی گئی۔ اسے سکندرِ اعظم کی زندگی کی سب سے مشکل اور خونریز ترین جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
جنگی حکمتِ عملی
جب سکندر اپنی فوج کے ساتھ جہلم پہنچا، تو اس نے دیکھا کہ راجہ پورس ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ دوسرے کنارے پر صف آرا ہیں۔ مونسون کی بارشوں کی وجہ سے دریا میں شدید طغیانی تھی، اور اسے پار کرنا بظاہر ناممکن تھا۔ پورس کے پاس ایک بہت بڑا دفاعی ہتھیار بھی تھا: 200 عظیم الجثہ جنگی ہاتھیوں کی فرنٹ لائن۔ یونانی گھوڑے اور سپاہی اس سے پہلے کبھی اتنی بڑی تعداد میں ہاتھیوں کے سامنے نہیں لڑے تھے۔
سکندر کا رات کی تاریکی میں دریا پار کرنا
سکندر کو اندازہ ہو گیا کہ سامنے سے حملہ کرنا خودکشی کے برابر ہوگا۔ اس نے ایک چال چلی۔ کئی دنوں تک اس کی فوج دریا کے کنارے شور مچاتی اور جنگی مشقیں کرتی رہی تاکہ پورس کا دھیان بٹایا جا سکے۔ پھر، ایک رات جب شدید طوفان اور بارش ہو رہی تھی، سکندر اپنی فوج کے ایک حصے (تقریباً 11,000 سپاہیوں) کو لے کر خاموشی سے چند میل اوپر کی طرف گیا اور وہاں سے دریا پار کر کے پورس کی فوج پر اچانک پیچھے سے حملہ کر دیا۔
ایک خونی مقابلہ
راجہ پورس نے فوراً اپنے بیٹے کو ایک دستے کے ساتھ سکندر کو روکنے کے لیے بھیجا، لیکن وہ یونانیوں کے سامنے نہ ٹک سکے۔ اس کے بعد دونوں بڑی فوجیں آمنے سامنے آئیں۔
یہ جنگ انتہائی ہولناک تھی۔ پورس کے جنگی ہاتھیوں نے یونانی پیادہ فوج کو پیروں تلے کچل ڈالا اور ان کے گھوڑے ہاتھیوں کی چنگھاڑ سے خوفزدہ ہو کر بھاگنے لگے۔ یونانیوں نے بڑی مشکل سے ہاتھیوں پر قابو پایا، جب ان کے نیزہ بازوں نے ہاتھیوں کی آنکھوں اور سونڈوں کو نشانہ بنایا، جس سے زکمی ہاتھی پاگل ہو کر پیچھے مڑے اور خود اپنی ہی فوج کو نقصان پہنچانے لگے۔
راجہ پورس کی گرفتاری اور تاریخی مکالمہ
اپنی فوج کو بکھرتا ہوا دیکھنے اور خود شدید زخمی ہونے کے باوجود، راجہ پورس نے میدانِ جنگ سے بھاگنے سے انکار کر دیا۔ وہ اپنے شاہی ہاتھی پر سوار آخری وقت تک لڑتے رہے، یہاں تک کہ زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے نڈھال ہو گئے۔
سکندر پورس کی اس غیر معمولی بہادری سے بے حد متاثر ہوا۔ جب زخمی اور قیدی راجہ پورس کو سکندر کے سامنے لایا گیا، تو سکندر نے ان سے پوچھا: "آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟"
راجہ پورس نے فخر سے سر اٹھا کر وہ تاریخی جملہ کہا جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا:
"میرے ساتھ وہ سلوک کرو، جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے۔"
سکندر نے حیرت سے پوچھا: "کیا اس کے علاوہ آپ کی کوئی اور خواہش نہیں؟" پورس نے جواب دیا: "ان الفاظ میں سب کچھ آ گیا ہے: ایک بادشاہ کی طرح۔"
انجام اور تاریخی اثرات
پورس کی اس انا، غیرت اور شجاعت نے سکندر کا دل جیت لیا۔ اس نے نہ صرف پورس کی جان بخشی بلکہ ان کی سلطنت بھی انہیں واپس کر دی۔ یہی نہیں، بلکہ سکندر نے اردگرد کے دیگر مفتوحہ علاقے بھی پورس کی حکومت میں شامل کر دیے، جس سے پورس اپنے علاقے کے سب سے طاقتور حکمران بن گئے۔
تاہم، اس جنگ نے سکندر کی ناقابلِ شکست فوج کے حوصلے توڑ دیے۔ پورس کی فوج سے لڑنے کے بعد جب یونانیوں نے سنا کہ آگے گنگا کے میدانوں میں نندا سلطنت کے پاس اس سے بھی کئی گنا بڑے ہاتھیوں کے لشکر موجود ہیں، تو انہوں نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا اور بغاوت کر دی۔ یوں، پورس کی بہادری وہ اہم وجہ بنی جس نے سکندر کو ہندوستان سے واپس مڑنے پر مجبور کیا۔
وفات
سکندرِ اعظم کی 323 قبل مسیح میں بابل (Babylon) میں وفات کے بعد، یونانی سلطنت کمزور پڑ گئی۔ راجہ پورس نے کچھ عرصہ اپنی حکومت برقرار رکھی۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ تقریباً 317 قبل مسیح میں، ایک یونانی جنرل یوڈیموس (Eudemus) کی سازش یا چندرا گپت موریا کے عروج کے دور میں پیدا ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے نتیجے میں انہیں قتل کر دیا گیا، اور ان کی سلطنت موریا خاندان کا حصہ بن گئی۔