Pakistan Train's

Pakistan Train's We trying to show real face off pakistan railway

رحمان بابا ایکسپریس کے مسافروں کے مسائل 🚆میں اس پوسٹ کے ذریعے اعلیٰ حکام، خصوصاً وزیرِ ریلوے کی توجہ رحمان بابا ایکسپریس...
25/04/2026

رحمان بابا ایکسپریس کے مسافروں کے مسائل 🚆
میں اس پوسٹ کے ذریعے اعلیٰ حکام، خصوصاً وزیرِ ریلوے کی توجہ رحمان بابا ایکسپریس کے مسافروں کو درپیش مشکلات کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔
یہ ٹرین خیبر پختونخوا اور کراچی کے درمیان سفر کرنے والوں کے لیے ایک اہم سہولت ہے، لیکن سندھ کے چھوٹے اسٹیشنوں پر غیر ضروری اور بار بار رکنے کی وجہ سے اس کی کارکردگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ کئی اسٹیشن کم آمدن رکھتے ہیں، پھر بھی ٹرین وہاں رکتی ہے جس سے غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے۔ حالانکہ اس ٹرین کو گرین لائن کی طرح ایک تیز رفتار سروس ہونا چاہیے تھا۔
بار بار رکنے کی وجہ سے ٹرین اکثر خیبر پختونخوا رات دیر سے پہنچتی ہے، جس سے سوات، دیر، صوابی، باجوڑ اور دیگر بالائی علاقوں کے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رات کے وقت نہ تو مناسب پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب ہوتی ہے اور نہ ہی ہر کوئی مہنگی پرائیویٹ گاڑی برداشت کر سکتا ہے۔
اسی وجہ سے کراچی سے آنے والے بہت سے مسافر جہانگیرہ، نوشہرہ اور پشاور ریلوے اسٹیشنوں پر رات گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو کہ انتہائی تکلیف دہ صورتحال ہے۔
مزید یہ کہ جب یہ ٹرین شروع ہوئی تھی تو کراچی سے پشاور کا سفر تقریباً 26 گھنٹوں میں مکمل ہوتا تھا، لیکن اب یہی سفر 32 سے 40 گھنٹوں میں طے ہو رہا ہے۔
لہٰذا گزارش ہے کہ کم آمدن والے اسٹیشنوں پر غیر ضروری اسٹاپس ختم کیے جائیں اور ٹرین کی روانگی کا وقت کراچی سے دوپہر 12:00 بجے کے بجائے صبح 9:30 بجے کیا جائے تاکہ مسافر دن کے وقت اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔
امید ہے کہ حکام اس مسئلے کا فوری نوٹس لیں گے اور خیبر پختونخوا کے عوام کو ریلیف فراہم کریں گے۔

پاکستان ریلوے کا یہ نیا پریس ریلیز، جس میں بغیر اجازت ویڈیو بنانے اور پوسٹ کرنے پر پابندی لگانے کی بات کی گئی ہے، نہایت ...
25/04/2026

پاکستان ریلوے کا یہ نیا پریس ریلیز، جس میں بغیر اجازت ویڈیو بنانے اور پوسٹ کرنے پر پابندی لگانے کی بات کی گئی ہے، نہایت تشویشناک ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں شفافیت اور عوامی احتساب بنیادی اصول ہیں، لیکن اس طرح کے اقدامات ان اصولوں کو کمزور کرتے ہیں۔

بجائے اس کے کہ مسائل کو حل کیا جائے، پاکستان ریلوے نے ویڈیوگرافی اور پوسٹس پر پابندی لگا دی ہے۔ اگر عوام اپنے ہی قومی اداروں کی کارکردگی کو ریکارڈ بھی نہ کر سکیں اور اسے شیئر بھی نہ کر سکیں تو مسائل سامنے کیسے آئیں گے؟ کیا یہ فیصلہ بہتری کے لیے ہے یا حقیقت کو چھپانے کے لیے؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ ادارے تنقید کو برداشت کریں اور اس سے سیکھیں، نہ کہ آوازوں کو دبانے کی کوشش کریں۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دیکھیں، بولیں اور سوال اٹھائیں۔

📍اہم اطلاععوام ایکسپریس کے جنگ شاہی اور جھمپیر ریلوے اسٹیشنز کے لوکل سٹاپس کو کل سے ختم کردیا گیا ہے.
24/04/2026

📍اہم اطلاع
عوام ایکسپریس کے جنگ شاہی اور جھمپیر ریلوے اسٹیشنز کے لوکل سٹاپس کو کل سے ختم کردیا گیا ہے.

نواب شاہ ریلوے اسٹیشن پر اسٹالز کی مبینہ بوگز  نیلامی، شدید تنازع کھڑا ہوگیا نواب شاہ: ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم ہال میں...
24/04/2026

نواب شاہ ریلوے اسٹیشن پر اسٹالز کی مبینہ بوگز نیلامی، شدید تنازع کھڑا ہوگیا

نواب شاہ: ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم ہال میں آج وینڈنگ اسٹالز۔کار پارکنگ کی نیلامی نے بڑا تنازع کھڑا کر دیا، جہاں ٹھیکیداروں نے نیلامی کو مکمل طور پر بوگز، غیر شفاف اور مبینہ ملی بھگت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے سخت احتجاج کیا ہے تفصیلات کے مطابق نواب شاہ ریلوے پلیٹ فارم ایک پر اسٹال نمبر 1، 3 اور 4 کی بولی لگائی گئی جس میں اسٹال نمبر 1 بشیر اعوان، اسٹال نمبر 3 سید علی حیدر شاہ جبکہ اسٹال نمبر 4 اسحاق عباسی سمیت دیگر ٹھیکیداروں نے حاصل کیے تاہم نیلامی کے اختتام کے فوراً بعد ہی سی ایم آئی نفیس احمد ۔نومان عباسی کی جانب سے یہ ہدایت دی گئی کہ ڈی سی او سکھر محسن سیال کے حکم پر اسٹال نمبر 1 کی جگہ تبدیل کر کے اسے اسٹال نمبر 5 سے آگے منتقل کیا جائے اس اچانک فیصلے پر متاثرہ ٹھیکیدار بشیر اعوان نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسٹالز کی جگہ تبدیل کرنا مقصود تھا تو نیلامی سے قبل ہی تمام اسٹالز کی نئی ترتیب دی جاتی، لیکن بولی مکمل ہونے کے بعد صرف ایک ہی اسٹال کو نشانہ بنانا کھلی ناانصافی ہے ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ان کے کاروبار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے مزید برآں متاثرہ ٹھیکیدار نے الزام عائد کیا کہ سکھر ڈویژن کے بعض افسران نے مبینہ طور پر رشوت لے کر دوسرے ٹھیکیدار کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی، جس کے باعث ان کے اسٹال کی جگہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا انہوں نے سوال اٹھایا کہ نیلامی کے بعد صرف ان کے اسٹال کو ہی کیوں ٹارگٹ کیا گیا دوسری جانب دیگر ٹھیکیداروں نے بھی نیلامی کے عمل کو “دو نمبر” اور ملی بھگت پر مبنی قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غیر شفاف نیلامی سے نہ صرف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی بلکہ اعتماد بھی مجروح ہوا ہے۔
متاثرہ ٹھیکیداروں نے پاکستان ریلوے کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ آج کی تمام نیلامی کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور ازسرِنو شفاف انداز میں بولی کروائی جائے انہوں نے مطالبہ کیا کہ نئی نیلامی (ڈی سی او) اور ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ (ڈی ایس) کی نگرانی میں کرائی جائے اور میڈیا نمائندگان کو بھی مدعو کیا جائے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
ٹھیکیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری عملدرآمد نہ کیا گیا تو وہ قانونی کارروائی اور احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے

بہاولنگر سے سمہ سٹہ کی لوپ لائن دیکھیںاس اسٹیشنوں کی تفصیلی فہرست آج بہت عرصے بعد ڈی ایس آفس ملتان سے ملی ہے۔ بہاولنگر س...
23/04/2026

بہاولنگر سے سمہ سٹہ کی لوپ لائن دیکھیں
اس اسٹیشنوں کی تفصیلی فہرست آج بہت عرصے بعد ڈی ایس آفس ملتان سے ملی ہے۔
بہاولنگر سے فورٹ عباس ٹریک کے نشانات اور متروکہ عمارات ابھی بھی موجود ہیں لیکن فورٹ عباس سے قعطل العمارہ اور سمہ سٹہ تک اسٹیشنوں کا علم بہت ہی کم لوگوں کو ہوگا۔
آپ اب فورٹ عباس سے سمہ سٹہ تک کے اسٹیشنوں کا فاصلہ اور انکے نام دیکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔ غالباً اس سیکشن کو جنگ عظیم دوم میں اکھاڑ دیا تھا۔ اس لائن کو بھی ریاست بہاولپور کے نواب صاحب نے تعمیر کروایا تھا اور یہ چولستان میں آمدورفت کا واحد ذریعہ تھی۔
آج بھی یہاں کے ٹرانسپورٹ کے مسائل موجود ہیں۔

یہ ریلوے لائن اور اسکی زمینیں ملتان ریلوے ڈویژن کے زیرنگرانی ہے۔

ڈنمارک میں دو مسافر ٹرینوں میں تصادم، متعدد افراد زخمیکوپن ہیگن: دو مسافر ریل گاڑیوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں متعدد ...
23/04/2026

ڈنمارک میں دو مسافر ٹرینوں میں تصادم، متعدد افراد زخمی

کوپن ہیگن: دو مسافر ریل گاڑیوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ حادثہ جمعرات کی صبح دارالحکومت کوپن ہیگن کے شمالی علاقے میں پیش آیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کے فوری بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی تاہم کئی افراد کو معمولی اور درمیانے درجے کی چوٹیں آئیں۔

حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ریلوے ٹریک پر ٹرین سروس عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تکنیکی ماہرین بھی موقع پر پہنچ گئے ہیں۔

سپر ایکسپریس — پاکستان ریلویز کی ایک یادگار داستانسپر ایکسپریس پاکستان ریلویز کی ان نمایاں ٹرینوں میں شمار ہوتی ہے جنہوں...
23/04/2026

سپر ایکسپریس — پاکستان ریلویز کی ایک یادگار داستان

سپر ایکسپریس پاکستان ریلویز کی ان نمایاں ٹرینوں میں شمار ہوتی ہے جنہوں نے ایک زمانے میں مسافروں کے دلوں پر راج کیا۔ اس تیز رفتار ریل گاڑی کا آغاز 1970 میں کیا گیا، جب اسے ملک کے دو بڑے اور اہم شہروں، لاہور اور کراچی، کے درمیان چلایا گیا۔ اپنے دور میں یہ ٹرین رفتار، سہولت اور وقت کی پابندی کے حوالے سے ایک منفرد حیثیت رکھتی تھی، اور اسے ان شہروں کے درمیان سفر کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔

ابتدائی کامیابی کے بعد پاکستان ریلویز نے اس ٹرین کے روٹ اور آپریشن میں مختلف تجربات کیے۔ انہی تجربات کے تحت سپر ایکسپریس کو سرگودھا سے کراچی براستہ فیصل آباد چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس نئے نظام کے تحت ایک دلچسپ طریقہ کار اپنایا گیا: ٹرین کی کچھ بوگیاں لاہور سے خانیوال تک لائی جاتی تھیں، جبکہ باقی حصہ سرگودھا سے فیصل آباد کے راستے خانیوال پہنچتا تھا۔ خانیوال میں دونوں حصوں کو آپس میں جوڑ کر مکمل ٹرین کی صورت میں کراچی روانہ کیا جاتا تھا۔

یہ نظام اپنی نوعیت میں منفرد ضرور تھا، لیکن بظاہر یہ تجربہ زیادہ دیر تک کامیاب نہ رہ سکا۔ اس کی ناکامی کی وجوہات کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں، تاہم ممکن ہے کہ انتظامی مشکلات، وقت کی پابندی کے مسائل یا آپریشنل پیچیدگیوں کی وجہ سے اسے ختم کرنا پڑا ہو۔

بعد ازاں سپر ایکسپریس کو مستقل طور پر سرگودھا سے کراچی کے درمیان چلایا جانے لگا۔ اس روٹ پر یہ ٹرین نہایت کامیاب رہی اور اپنے وقت کی مقبول ترین اور قابلِ اعتماد ریل گاڑیوں میں شمار ہونے لگی۔ مسافر اس کی رفتار، سہولیات اور نسبتاً بہتر سروس کی وجہ سے اسے ترجیح دیتے تھے۔

تاہم، 2012 میں پاکستان ریلویز نے اس تاریخی ٹرین کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ سرکاری طور پر اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ریلوے کے پاس اس ٹرین کو چلانے کے لیے مناسب انجن دستیاب نہیں تھے۔ اس فیصلے کے بعد سپر ایکسپریس کی سروس معطل کر دی گئی، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ تاحال یہ ٹرین دوبارہ بحال نہیں کی جا سکی۔

سپر ایکسپریس آج بھی ان لوگوں کے لیے ایک خوبصورت یاد ہے جنہوں نے اس میں سفر کیا یا اس کے سنہرے دور کو دیکھا۔ یہ نہ صرف ایک ٹرین تھی بلکہ پاکستان ریلویز کی تاریخ کا ایک اہم باب بھی تھی، جو بہتر منصوبہ بندی اور وسائل کی دستیابی کے ساتھ شاید آج بھی کامیابی سے چل سکتی تھی۔

  جناب   صاحب نے آج    کا اہم دورہ کیا جہاں انہوں نے چیئرمین پورٹ قاسم اتھارٹی سے تفصیلی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران خورد...
22/04/2026

جناب صاحب نے آج کا اہم دورہ کیا جہاں انہوں نے چیئرمین پورٹ قاسم اتھارٹی سے تفصیلی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران خوردنی تیل (Edible Oil) کی مؤثر ترسیل کے لیے نئے ٹرمینل کے قیام سے متعلق امور پر جامع تبادلۂ خیال کیا گیا اور اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
بعد ازاں چیئرمین ریلوے نے ( QICT # ) اور DP World کا بھی دورہ کیا، جہاں ریلوے کے ذریعے کارگو کی ترسیل میں اضافے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر نجی شعبے کے اشتراک سے کنٹینر ٹرانسپورٹ کے توسیعی منصوبوں پر بھی غور کیا گیا، تاکہ ملک میں لاجسٹکس کے نظام کو مزید مؤثر اور فعال بنایا جا سکے۔
دورے کے دوران سیکرٹری ٹو چیئرمین سید مظہرعلی شاہ، جنرل منیجر حفیظ اللہ، ایڈیشنل جنرل منیجر انفراسٹرکچر حماد مرزا، ایڈیشنل جنرل منیجر ٹریفک محمد صفیان سرفراز ڈوگر، ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ #کراچی جمشید عالم سمیت دیگر اعلیٰ افسران بھی ہمراہ موجود تھے۔

🛤️ *چیف انجینئر/اوپن لائن کی جہانیاں تا خانیوال موٹر ٹرالی انسپیکشن — 22 اپریل 2026*آج *چیف انجینئر/اوپن لائن جناب عرفان...
22/04/2026

🛤️ *چیف انجینئر/اوپن لائن کی جہانیاں تا خانیوال موٹر ٹرالی انسپیکشن — 22 اپریل 2026*

آج *چیف انجینئر/اوپن لائن جناب عرفان الحق صاحب* نے *جہانیاں سے خانیوال اسٹیشن* تک موٹر ٹرالی کے ذریعے تفصیلی انسپیکشن کی۔

*ہمراہ:*
ڈی ای این-ون اور ڈی ای این-تھری ملتان، اے ای این لودھراں، اور پانچ (05) *زیرِ تربیت اے ای اینز*۔

*انسپیکشن کے اہم نکات:*
✅ لیول کراسنگز کا معائنہ
✅ پوائنٹس اینڈ کراسنگز کی جانچ
✅ ریلوے پلوں کی حالت چیک کی گئی
✅ کروز اور الائنمنٹ کا جائزہ
✅ ریل جوڑوں کی ویلڈنگ کا معیار پرکھا گیا

*نوجوان افسران کی تربیت پر خصوصی توجہ:*
زیرِ تربیت اے ای اینز کی *عملی تربیت اور استعدادِ کار* بڑھانے پر خاص زور دیا گیا تاکہ ان کی تکنیکی سمجھ بوجھ اور فیلڈ تجربے میں اضافہ ہو۔ چیف انجینئر/اوپن لائن نے فیلڈ سٹاف سے ملاقات کی اور *سیفٹی رولز* پر سختی سے عملدرآمد کی تلقین کی۔

اس طرح کی انسپیکشنز نہ صرف *حفاظت اور مینٹیننس کے معیار* کو یقینی بناتی ہیں بلکہ *نوجوان افسران کی پیشہ ورانہ ترقی* کے لیے موقع پر سیکھنے کا بہترین ذریعہ بھی ہیں۔

پاکستان ریلوے ایک محفوظ، مضبوط اور پیشہ ورانہ ریلوے نظام کے لیے پرعزم

**"دسمبر 2026 تک تمام ٹرینیں انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کی ہو جائیں گی" — وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی**یہ دعویٰ یقیناً سننے میں ...
22/04/2026

**"دسمبر 2026 تک تمام ٹرینیں انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کی ہو جائیں گی" — وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی**

یہ دعویٰ یقیناً سننے میں خوش آئند ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ریلوے کی موجودہ حالت واقعی اس قابل ہے کہ چند مہینوں میں اسے “انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ” پر لایا جا سکے؟

آج بھی:

* کئی ٹرینیں گھنٹوں تاخیر کا شکار رہتی ہیں
* کوچز کی حالت خستہ حال ہے
* صفائی اور سہولیات کا معیار انتہائی کمزور ہے
* حادثات اور ٹریک کی خرابیاں معمول بن چکی ہیں

ایسے میں اچانک یہ دعویٰ کہ چند مہینوں میں سب کچھ بدل جائے گا، محض ایک بیان زیادہ لگتا ہے، حقیقت کم۔

اگر واقعی بہتری لانی ہے تو:

* پہلے ٹریک کی مرمت اور جدید سگنلنگ سسٹم لایا جائے
* پرانی بوگیوں کو تبدیل کیا جائے
* عملے کی تربیت اور احتساب کو یقینی بنایا جائے
* مسافروں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں

عوام کو صرف وعدے نہیں، عملی تبدیلی چاہیے۔ جب تک زمینی حقائق نہیں بدلتے، ایسے بیانات محض کاغذی دعوے ہی رہیں گے۔

**پاکستان ریلوے کو ترقی کے لیے الفاظ نہیں، عمل کی ضرورت ہے۔**

محترم شہری،آپ کو دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے۔ ٹرین کبھی لیٹ ہو جائے، موسم بدل جائے، حالات سخت ہو جائیں… مگر آپ کا سفر جاری رہ...
21/04/2026

محترم شہری،

آپ کو دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے۔ ٹرین کبھی لیٹ ہو جائے، موسم بدل جائے، حالات سخت ہو جائیں… مگر آپ کا سفر جاری رہتا ہے۔ یہ صرف سفر نہیں، یہ رشتہ ہے۔ ریل سے محبت کا رشتہ۔

سوچیے… جب ایک ٹرین کراچی سے روانہ ہوتی ہے اور سینکڑوں کلومیٹر کا طویل فاصلہ طے کرتے ہوئے ملتان پہنچتی ہے، تو یہ سیدھا سا راستہ نہیں ہوتا۔ اس کے درمیان پل ہیں، لیول کراسنگز ہیں، گنجان آبادیاں ہیں، ایسے مقامات ہیں جہاں حفاظتی وجوہات کی بنا پر رفتار کم کرنی پڑتی ہے۔ کہیں ٹریک کی مرمت جاری ہوتی ہے، کہیں سگنلنگ کا عمل احتیاط مانگتا ہے، اور کہیں ٹرین کو رک کر دوسری ٹرین کو گزرنے دینا ہوتا ہے۔

پھر ایک اور اہم پہلو ہے عوامی شعور۔
ٹریک پر ٹرس پاسنگ، غیر قانونی کراسنگ، مویشیوں کا اچانک آ جانا، حتیٰ کہ بعض افراد کا سیلفی یا ویڈیو بنانے کے لیے پٹری کے قریب کھڑا ہو جانا۔ یہ سب صرف تاخیر نہیں، بلکہ سنگین خطرات کو دعوت دینا ہے۔ ایک لمحے کی لاپرواہی پورے نظام کو متاثر کر دیتی ہے۔

اب ذرا اسٹیشن کا منظر دیکھیے۔

ٹرین جیسے ہی پلیٹ فارم پر پہنچتی ہے، اسے فوراً واپس روانہ نہیں کیا جاتا۔ پورا ریک مکینیکل انجینئرز اور ٹیکنیکل اسٹاف کے حوالے کیا جاتا ہے۔ بریک سسٹم، وہیل انسپیکشن، برقی نظام، کوچز کی سروسنگ ہر مرحلہ مکمل جانچ سے گزرتا ہے۔ جب تک مکمل اطمینان نہ ہو، فٹنس سرٹیفیکیٹ جاری نہیں ہوتا۔ پھر نیا انجن لگایا جاتا ہے، جو اس پورے ریک کو محفوظ طریقے سے اگلی منزل تک لے جانے کی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ تب جا کر سیٹی بجتی ہے… اور سفر دوبارہ شروع ہوتا ہے۔

ہر انتظامی ڈویژن اپنی سطح پر پوری کوشش کرتا ہے کہ ٹرین بروقت اور بحفاظت روانہ ہو۔ مگر اتنے طویل فاصلے، بدلتے موسم، غیر متوقع رکاوٹیں اور بعض اوقات انسانی غفلت یہ سب عوامل تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں۔ ہر تاخیر کے پیچھے ایک وجہ ہوتی ہے، اور اکثر وہ وجہ حفاظت ہوتی ہے۔

اور اب ایک ضروری بات۔

سوشل میڈیا پر بیٹھ کر بغیر مکمل معلومات کے بے جا تنقید کرنا، سیفٹی اور انتظامی معاملات میں مداخلت کرنا، اور ہر مسئلے کو سنسنی بنا دینا یہ نہ دانشمندی ہے اور نہ حب الوطنی۔ جنہیں نظام کی پیچیدگی، فنی تقاضوں اور حفاظتی ذمہ داریوں کا ادراک نہیں، وہ محض چند منٹ کی ویڈیو یا پوسٹ دیکھ کر فیصلے صادر کر دیتے ہیں۔

اختلاف رائے ہر شہری کا حق ہے، مگر غیر ذمہ دارانہ تبصرے، اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوششیں، اور حقائق جانے بغیر الزام تراشی یہ رویہ کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ اگر نیت اصلاح کی ہو تو انداز بھی مہذب اور معلومات پر مبنی ہونا چاہیے۔ لیکن اگر مقصد محض توجہ حاصل کرنا یا انتشار پھیلانا ہو، تو یہ رویہ معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔

یہ ملک ہم سب کا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص بغیر علم کے تکنیکی اور حفاظتی فیصلوں پر حکم لگانا شروع کر دے۔ کچھ معاملات تجربے، تربیت اور ذمہ داری کے دائرے میں آتے ہیں۔ ان کا احترام ضروری ہے۔

ریلوے صرف پٹڑیوں اور انجنوں کا نام نہیں، یہ ایک ڈسپلن، محنت اور ذمہ داری کا نظام ہے۔
آئیے، تنقید کریں مگر شعور کے ساتھ۔ سوال اٹھائیں مگر معلومات کے ساتھ۔ اور اگر ساتھ دینا ہے، تو ذمہ داری کے ساتھ۔

کیونکہ مضبوط ادارے جذبات سے نہیں، نظام اور احتساب سے چلتے ہیں۔
❤️🇵🇰❤️

     #راولپنڈی ڈویژن،  نے ڈویژنل افسران کے ہمراہ  #راولپنڈی   کا دورہ کیا، جہاں موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر راولپنڈی/اسلا...
21/04/2026

#راولپنڈی ڈویژن،
نے ڈویژنل افسران کے ہمراہ #راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر راولپنڈی/اسلام آباد میں پبلک و پرائیویٹ ٹرانسپورٹ سروس کی بندش کے باعث مسافروں کے غیر معمولی رش کا جائزہ لیا گیا۔

دورے کے دوران مسافروں کی سہولت، ٹکٹنگ کے نظام، ویٹنگ ایریاز، صفائی ستھرائی اور سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ نے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کیں کہ مسافروں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے اور کسی بھی قسم کی دشواری سے بچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

انہوں نے مزید ہدایت کی کہ اضافی عملہ تعینات کیا جائے، معلوماتی کاؤنٹرز کو فعال رکھا جائے اور ٹرین آپریشن کو بروقت یقینی بنایا جائے تاکہ مسافروں کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔

مسافروں کو محفوظ، آرام دہ اور بروقت سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں

Address

Multan

Telephone

+923088388719

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Train's posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pakistan Train's:

Share