25/04/2026
رحمان بابا ایکسپریس کے مسافروں کے مسائل 🚆
میں اس پوسٹ کے ذریعے اعلیٰ حکام، خصوصاً وزیرِ ریلوے کی توجہ رحمان بابا ایکسپریس کے مسافروں کو درپیش مشکلات کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔
یہ ٹرین خیبر پختونخوا اور کراچی کے درمیان سفر کرنے والوں کے لیے ایک اہم سہولت ہے، لیکن سندھ کے چھوٹے اسٹیشنوں پر غیر ضروری اور بار بار رکنے کی وجہ سے اس کی کارکردگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ کئی اسٹیشن کم آمدن رکھتے ہیں، پھر بھی ٹرین وہاں رکتی ہے جس سے غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے۔ حالانکہ اس ٹرین کو گرین لائن کی طرح ایک تیز رفتار سروس ہونا چاہیے تھا۔
بار بار رکنے کی وجہ سے ٹرین اکثر خیبر پختونخوا رات دیر سے پہنچتی ہے، جس سے سوات، دیر، صوابی، باجوڑ اور دیگر بالائی علاقوں کے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رات کے وقت نہ تو مناسب پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب ہوتی ہے اور نہ ہی ہر کوئی مہنگی پرائیویٹ گاڑی برداشت کر سکتا ہے۔
اسی وجہ سے کراچی سے آنے والے بہت سے مسافر جہانگیرہ، نوشہرہ اور پشاور ریلوے اسٹیشنوں پر رات گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو کہ انتہائی تکلیف دہ صورتحال ہے۔
مزید یہ کہ جب یہ ٹرین شروع ہوئی تھی تو کراچی سے پشاور کا سفر تقریباً 26 گھنٹوں میں مکمل ہوتا تھا، لیکن اب یہی سفر 32 سے 40 گھنٹوں میں طے ہو رہا ہے۔
لہٰذا گزارش ہے کہ کم آمدن والے اسٹیشنوں پر غیر ضروری اسٹاپس ختم کیے جائیں اور ٹرین کی روانگی کا وقت کراچی سے دوپہر 12:00 بجے کے بجائے صبح 9:30 بجے کیا جائے تاکہ مسافر دن کے وقت اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔
امید ہے کہ حکام اس مسئلے کا فوری نوٹس لیں گے اور خیبر پختونخوا کے عوام کو ریلیف فراہم کریں گے۔