24/01/2026
پردیس کی ساری تھکاوٹ ایک دم اتر گئی جب بیٹی کی گود میں سر رکھ کر لیٹا۔ لیکن جیسے جیسے چھٹیاں ختم ہو رہی ہیں، دل کو کچھ کچھ ہو رہا ہے کہ ہمیں پھر واپس اسی 'میٹھی جیل' میں چلے جانا ہے۔
کاش کہ ہماری سرکار اچھی ہوتی اور ہمیں یہیں کاروبار کے مواقع دیتی، تو آج ہمیں پردیس نہ جانا پڑتا۔ باقی اگر ہمارے نصیب میں وہیں کا رزق لکھا ہے، تو پھر بھی الحمدللہ۔ پرندے ہوں یا پردیسی، انہیں اڑ کر ہی اپنا رزق اکٹھا کرنا پڑتا ہے۔"
゚viralシ