Lag gaya visa

Directions Contact the business

Lag gaya visa Visa, Travel and tourism information

پاکستانی اور ڈنکی کے نت نئے طریقے! 🌍😳جب ایران والا راستہ متاثر ہوا تو یورپ جانے کے خواہش مندوں نے نئے راستے تلاش کرنا شر...
11/10/2026

پاکستانی اور ڈنکی کے نت نئے طریقے! 🌍😳

جب ایران والا راستہ متاثر ہوا تو یورپ جانے کے خواہش مندوں نے نئے راستے تلاش کرنا شروع کر دیے۔ پہلے کچھ لوگ ایران اور عراق زیارات کے لیے جاتے، پھر وہاں سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن خطے کے حالات بدلے تو یہ راستہ بھی مشکل ہو گیا۔ دبئی کے آپشن میں بھی رکاوٹیں آئیں، تو بعض لوگوں کی نظریں آذربائیجان کے شہر باکو پر جا ٹھہریں۔

کہانی صرف راستے بدلنے کی نہیں، بلکہ ان طریقوں کی ہے جن کے ذریعے بعض ایجنٹ لوگوں کو یورپ پہنچانے کے خواب دکھاتے ہیں۔ کوئی باکو کے ذریعے آگے جانے کی کوشش کرتا ہے، تو کوئی عمرہ ویزے پر سعودی عرب جا کر وہاں سے کسی یورپی ملک پہنچنے کا ارادہ بناتا ہے۔ تاہم، ہر مسافر کا مقصد ایک جیسا نہیں ہوتا، اور قانونی ویزے پر سفر کرنا بذاتِ خود کسی غلط کام کی علامت نہیں۔

ملائیشیا کا طریقہ بھی سن لیں! 🇲🇾

بعض دعووں کے مطابق، کچھ لوگوں کو ورکر ویزے پر ملائیشیا بھیجا جاتا ہے، لیکن وہاں ان کی کاروباری حیثیت ظاہر کرنے کے لیے مبینہ طور پر جعلی کمپنیوں، بینک اسٹیٹمنٹس اور فرضی پروفائلز کا سہارا لیا جاتا ہے۔ بعد میں انہی دستاویزات کی بنیاد پر یورپ جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے معاملات میں دھوکا دہی اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔

اب بیلاروس کا معاملہ بھی سمجھ لیں! 🇧🇾

بیلاروس یورپی یونین کا حصہ نہیں، لیکن اس کی سرحدوں کے ذریعے یورپ میں داخل ہونے کی کوششوں کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس بعض اوقات لوگوں کو ایک ملک سے دوسرے ملک لے جانے کے نام پر بھاری رقم وصول کرتے ہیں اور انہیں خطرناک حالات میں چھوڑ دیتے ہیں۔

سینیگال، موریطانیہ، مصر اور لیبیا جیسے ممالک کے راستوں سے بھی یورپ پہنچنے کی کوششوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ بعض لوگ قانونی ویزے پر تیسرے ملک جاتے ہیں، مگر بعد میں غیر قانونی اور خطرناک راستوں کا انتخاب کر لیتے ہیں۔

⚠️ یاد رکھیں! 2023 میں یونان کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے کے المناک واقعے میں سیکڑوں افراد ہلاک یا لاپتا ہوئے۔ پاکستانی شہری بھی اس سانحے کا شکار بنے۔

اس پورے کھیل میں سب سے زیادہ فائدہ اکثر ان لوگوں کو ہوتا ہے جو بیرونِ ملک پہنچانے کے خواب بیچتے ہیں، جبکہ اپنی جمع پونجی، گھر اور زمین تک فروخت کرنے والے خاندان قرض، دھوکے، گرفتاری، ملک بدری اور جان کے خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے: آخر کب تک پاکستانی نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنی جان خطرے میں ڈالتے رہیں گے؟

بیرونِ ملک جانا، ترقی کرنا اور اپنے بچوں کا مستقبل بہتر بنانا ہر شخص کا حق اور خواب ہے۔ لیکن جعلی دستاویزات، ویزے کے غلط استعمال اور انسانی اسمگلروں کے ذریعے منزل حاصل کرنے کی کوشش انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

ہمیں ایسے قانونی اور محفوظ راستوں کے بارے میں آگاہی پھیلانی چاہیے جو لوگوں کو دھوکے سے بچائیں اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔

آپ کی کیا رائے ہے؟ پاکستانی نوجوانوں کو بیرونِ ملک روزگار کے قانونی مواقع کیوں نہیں مل پاتے، اور اس مسئلے کا مستقل حل کیا ہونا چاہیے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور لکھیں۔ 👇

17/09/2026
پاکستان کا سب سے منافع بخش کاروبار سٹوڈنٹ کو بیرون ملک بھجنا ہے ۔ جس میں کچھ نہیں کرنا بس فری میں ایپلی کیشن ڈالنی ہے او...
16/09/2026

پاکستان کا سب سے منافع بخش کاروبار سٹوڈنٹ کو بیرون ملک بھجنا ہے ۔ جس میں کچھ نہیں کرنا بس فری میں ایپلی کیشن ڈالنی ہے اور ان پڑھ عوام کو بیوقوف بنانا ہے - ایک سٹوڈنٹ سے دس سے تیس لاکھ جھاڑنا ہے ۔ ایجنٹ نے آسٹریلیا کا ویزہ لگوا دیا سارا گاؤں ڈھول بجاتے ہوئے مبارک دینے ایجنٹ کے گھر پہنچ گیا ۔ جی بالکل یہ پاکستان کا واقعہ ہے۔ اگر تو پرمانینٹ ویزہ 189 ہے پھر تو بنتا ہے مگر سٹوڈنٹ ویزے پہ ایسا کرنا حماقت ہے ۔ ان پچھلے دو مہینوں میں آسٹریلیا میں تقریباً تین ملین یعنی تیس لاکھ لوگوں نے جان بوجھ کر ایکسپائرڈ فوڈ کھائی ہے تاکہ ان کے پاس کچھ پیسہ بچ سکے ۔ ہاؤسنگ کرائسز ہے رینٹ کی قیمتیں بے انتہا بڑھ چکی ہیں ۔ لوگ امیگریشن کے سخت خلاف ہو چکے ہیں کہ باہر سے لوگ کیوں آ رہے ہیں ۔ بالکل ایسے ہی جیسے پاکستان میں فوج کو مسائل کی جڑ سمجھا جاتا ہے آسٹریلیا میں مائیگرینٹس کو سمجھا جاتا ہے ۔ حکومت اس پہ ابھی سوچ رہی ہے کہ کیسے سٹوڈنٹس اور ٹمپریری امیگریشن کو ملک سے نکالا جائے تاکہ ہاؤسنگ کرائسز کم ہو ۔ آسٹریلیا میں اس وقت اسی ہزار شاید گریجوایٹ ویزہ ہولڈرز ہیں اور دو لاکھ سے زیادہ ان کے گھر والے ہیں ۔ حکومت اس بارے بھی سوچ رہی ہے کہ کیسے اس پہ بھی پابندی لگا دی جائے ۔ سٹوڈنٹ جو باہر سے آتے تھے وہ اوبر وغیرہ کر لیتے تھے ابھی تیل کی قیمتیں ڈبل ہو چکی ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ تقریباً فری ہے جس وجہ سے یہ کام بھی ٹھپ ہو چکا ہے ۔ لیگلی آپ صرف چوبیس گھنٹے کام کر سکتے ہیں اور دیسی باس آپ کو گیارہ ڈالر دیتا ہے جس سے آپ کا گزارہ ہونا بھی مشکل ہے ۔ باقی میں حیران ان والدین پہ ہوں جو ایجنٹوں کی باتوں میں آکر اپنے پندرہ سولہ سال کے بچوں کو بھیج رہے ہیں ۔ ایک اور بات رہے آسٹریلیا اسائلم کو تقریبا نہیں مانتا اور نوے فیصد ایپلی کیشنز رد ہی کرتا ہے ۔ یوکے اور یورپ میں پھر بھی اپروو ہو جاتی ہے ۔ رہی بات ایجنٹ کی تو ایک ایجنٹ جب تک آپ کی تعلیم مکمل نہیں ہوتی اس سے بیس تیس لاکھ کما چکا ہوتا ہے بغیر کچھ کیے ۔ اگر آپ ایک لاکھ دے رہے ہیں تو بیس سے تیس ہزار ڈالر ایجنٹ کا پکا ہے ۔اگر جانا ہے تو ان ملکوں میں جاؤ تعلیم فری ہے یا معقول ہے جیسے جرمنی اسپین فرانس جاپان یا یوروپ اور کچھ سال کام کا تجربہ حاصل کرکے سیدھا پرمانینٹ ویزہ اپلائی کرو۔

افریکہ میں کینیا اور تنزانیہ کی سرحدوں پر دریائے مارا کے کنارے زیبرا اور وائلڈ بیسٹ جمع ہونا شروع ہوگئے ہوں گے. صدیوں سے...
13/08/2026

افریکہ میں کینیا اور تنزانیہ کی سرحدوں پر دریائے مارا کے کنارے زیبرا اور وائلڈ بیسٹ جمع ہونا شروع ہوگئے ہوں گے. صدیوں سے ہر سال جولائی سے ستمبر کے درمیان یہ ریوڑ دریائے مارا کے کنارے جمع ہو کر دریا کے پانی کو دیکھ رہا ہوتا ہے.

اس پانی میں مگرمچھ بھی جمع ہو رہے ہوتے ہیں. کیونکہ اگلے کچھ دنوں میں ایک یہ زیبرے اور وائلڈ بیسٹ دریا کو ضرور کراس کریں گے. یہ جانتے ہوئے بھی کہ دریا کا تیز بہاو ناہموار سطح اور خونی مگرمچھوں کا میلہ لگا ہوا ہے. یہ صدیوں کی رسم ہے.

موسم نے ایک کنارے کی گھاس ختم کر دی ہے. دوسری طرف کی گھاس کیلئے یہ خونی دریا کراس کرنا ہے. تب یہ بے زباں جانور اپنی جبلت پر کچھ حساب کتاب کرتے ہیں. یہ جمع ہونا شروع ہوتے ہیں یہاں تک کے تعداد لاکھوں میں چلی جائے. اس کے بعد کسی دن یہ اچانک یلغار کر کے دریا پار کریں گے.

ان میں ایسے بدنصیب ہوں گے جو یہ دریا پار نہیں کر پائیں گے. لیکن لاکھوں میں یہ چند درجن بدنصیب کون ہوں گے.؟ چونکہ یہ معلوم نہیں ہوتا تو ایک طرف کی یقینی بھوک کی سسکتی موت سے دوسری طرف کی بقا کی خواہش ہر ایک کو دریا میں چھلانگ لگانے پر مجبور کر دیتی ہے.

غریب ملکوں کے بچے جب خواب سجائے دور دراز ملکوں کی سرحدوں و سمندروں میں مر رہے ہوتے ہیں تب دریا مارا کا یہ کنارہ آنکھوں کے آگے گھوم جاتا ہے. زیبروں اور جنگلی گائے بیلوں کا حساب سادہ ہے. آخر یہ خونی مگرمچھ کتنا گوشت کھا لیں گے.؟ انسانی مگرمچھوں کا حساب پیچیدہ ہے کیونکہ یہ خود بھی کھاتے ہیں اور اپنی نسلوں کیلئے بھی غریبوں کا خون جمع کرتے ہیں.

انسانی معاشرے کے انسان نما خونی مگرمچھ دریا مارا کے مگرمچھوں سے زیادہ خطرناک ہیں. ان کی بھوک ختم ہی نہیں ہوتی. کیونکہ مارا کے مگرمچھ کی بھوک جبلت ہے اور انسانی مگرمچھ کی بھوک حرص و ہوس ہے.

کیا آپ جانتے ہیں ؟  کینیڈا کے پاسپورٹ کو دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس میں2026ء میں ساتویں پوزیشن حاصل ہے۔ کینیڈین شہری د...
08/07/2026

کیا آپ جانتے ہیں ؟
کینیڈا کے پاسپورٹ کو دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس میں2026ء میں ساتویں پوزیشن حاصل ہے۔ کینیڈین شہری دنیا کے 182 ممالک اور خطوں میں بغیر پیشگی ویزا (یا ویزا آن ارائیول کے ساتھ) سفر کر سکتے ہیں ۔عالمی درجہ بندی میں یہ شمالی امریکہ کا سب سے مضبوط پاسپورٹ ہے جو امریکی پاسپورٹ جس کی پوزیشن دسویں ہے سے کافی بہتر ہے۔کمزور ترین پاسپورٹس کی فہرست میں پاکستان ایک بار پھر نچلے نمبروں پر موجود ہے۔
یکم جولائی کو جاری کی گئی فہرست میں بتایا گیا کہ سنگاپور کے پاسپورٹ رکھنے والے افراد 192 ممالک میں ویزا کے بغیر سفر کرسکتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات' جاپان اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر موجود ہیں جن کے پاسپورٹس رکھنے والے افراد کو 188 ممالک میں ویزا فری رسائی حاصل ہے۔
اس فہرست میں سفر کی آسانی پر توجہ مرکوز کرکے ممالک کی درجہ بندی کی جاتی ہے اور امریکی پاسپورٹ 10 ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے جو کسی زمانے میں دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ سمجھا جاتا تھا۔
اسی درجہ بندی میں پاکستان کمزور ترین پاسپورٹ رکھنے والا چوتھا ملک قرار پایا ہے۔
مجموعی طور پر پاکستانی پاسپورٹ کے حصے میں 100 واں نمبر آیا اور اس پر 30 ممالک میں ویزا فری داخلہ ممکن ہے۔
پاکستان سے نیچے عراق (101)' شام (102) اور افغانستان (103) رہے۔
پاکستان سے اوپر یمن 99 ویں' صومالیہ 98 ویں' نیپال 97 ویں، شمالی کوریا اور بنگلا دیش 96 ویں' فلسطین اور ایران 95 ویں' اریٹیریا 94 ویں جبکہ سری لنکا اور لیبیا93 ویں نمبر پر موجود ہیں۔

Jazeera Airways announced the start of daily flights from Saudi Arabia’s Qaisumah Airport and the United Arab Emirates’ ...
23/03/2026

Jazeera Airways announced the start of daily flights from Saudi Arabia’s Qaisumah Airport and the United Arab Emirates’ Al Ain Airport from Wednesday.

Passengers will be safely transported by bus from Kuwait to Qaisumah Airport. Passengers holding Kuwaiti residency can obtain a Saudi entry visa at the border. Those holding a visit visa will need to obtain an entry visa before traveling through Saudi territory.
✈️🌍

جرمنی — زمین پر سب سے بہترین ملک (میرا اصل تجربہ)جب میں پہلی بار جولائی 2024 میں جرمنی آیا تھا، تو مجھے اندازہ نہیں تھا ...
23/03/2026

جرمنی — زمین پر سب سے بہترین ملک (میرا اصل تجربہ)

جب میں پہلی بار جولائی 2024 میں جرمنی آیا تھا، تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ ملک میری زندگی کا سب سے بڑا موڑ ثابت ہوگا۔
یہاں کا ماحول، سیکھنے کا کلچر اور نظام دیکھ کر فوراً یقین ہوگیا کہ:

"جرمنی ہی میری اصل منزل ہے۔"

اسی لیے 2025 میں میں دوبارہ جرمنی واپس آیا — اس بار اپنی پڑھائی جاری رکھنے اور بہتر مستقبل بنانے کے لیے۔

---

✅ 1 — مفت تعلیم اور بہترین اسٹوڈنٹ لائف

جرمنی وہ ملک ہے جہاں تعلیم بالکل مفت ہے، مگر معیار دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں جیسا۔

✅ ٹیوشن فیس نہیں
✅ DAAD جیسی اسکالرشپس
✅ عالمی معیار کی لیبارٹریز اور ریسرچ
✅ اسٹوڈنٹ لائف ایک لگژری

یقیناً یہاں طالب علم ہونا ایک اعزاز لگتا ہے—
ہر چیز میں ڈسکاؤنٹ، ہر طرف سیکیورٹی، بہترین سہولیات، مکمل سپورٹ۔

---

✅ 2 — سفر کی آزادی (DB ٹکٹ)

سیمسٹر فیس کے ساتھ ملنے والا DB ٹکٹ آپ کو پورے جرمنی میں مفت سفر کی سہولت دیتا ہے:

🚆 ٹرینیں
🚌 بسیں
⛴️ فیریاں
🌍 سرحدی ممالک کے کچھ شہروں تک سفر بھی ممکن

2024 میں میں جرمنی کے ساتھ آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ بھی گیا تھا۔
جِنہیں سفر کا شوق ہے — جرمنی اُن کے لیے جنت ہے۔

---

✅ 3 — یورپ کی سب سے مضبوط جاب مارکیٹ

جرمنی کی جاب مارکیٹ اتنی مضبوط ہے کہ میرے فن لینڈ، پرتگال اور اٹلی کے دوست بھی یہاں آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جرمنی میں طلبہ:

✅ اپنا خرچہ آسانی سے نکال لیتے ہیں
✅ پڑھائی اور کام ساتھ ساتھ چل جاتا ہے
✅ چاہیں تو پاکستان پیسے بھیج سکتے ہیں (لیکن ضروری نہیں)

تقریباً ہر فیلڈ میں نوکریاں موجود ہیں۔

---

✅ 4 — ہر جگہ پاکستانی طلبہ

پاکستان کے حالات کی وجہ سے بہت سے پاکستانی اسٹوڈنٹس جرمنی آرہے ہیں، اس لیے ہر شہر اور ہر یونیورسٹی میں پاکستانی کمیونٹی موجود ہوتی ہے۔

میری کیمسٹری ڈپارٹمنٹ میں ہم 9 پاکستانی ہیں۔
اور میرے شہر ساہیوال کی ایک لڑکی، جو پہلے UK میں تھی — وہ بھی جرمنی پڑھنے آئی ہے۔
لڑکیاں یہاں خود کو بہت محفوظ محسوس کرتی ہیں، حتیٰ کہ شیئرڈ رومز میں بھی کوئی خوف نہیں ہوتا۔
حلال کھانا بھی بہت آسانی سے مل جاتا ہے۔

---

✅ 5 — زندگی بہت آسان

جرمنی کی چھوٹی چھوٹی چیزیں زندگی کو بہت آرام دہ بنا دیتی ہیں:

✅ صاف پینے کا پانی، ہر جگہ (گرم/ٹھنڈا)
✅ بہترین پبلک ٹرانسپورٹ
✅ مختلف کلچرز کے لوگ
✅ اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کی آزادی
✅ پرامن، صاف اور محفوظ ماحول

جرمنی نے مجھے وہ سب کرنے کی آزادی دی جو میں پاکستان میں مالی یا سماجی دباؤ کی وجہ سے نہیں کر سکتا تھا۔

ویزہ ریشو؟
تقریباً 99% — بس دستاویزات درست ہونے چاہئیں۔

---

🎓 ایڈمیشن گائیڈ (آسان اور سادہ)

✅ بیچلرز
• ایف ایس سی / 12ویں جماعت + پاکستان سے بیچلرز کے 2 سمسٹر
• 12,000 یورو بلوکڈ اکاؤنٹ
• جرمنی میں بیچلرز 3 سال کا ہوتا ہے
• تلاش کے لیے DAAD بہترین ویب سائٹ ہے

✅ ماسٹرز
• ماسٹرز میں داخلہ نسبتاً آسان ہے
• 2 سال کا تجربہ ہو تو DAAD اسکالرشپ بھی ممکن
• بلوکڈ اکاؤنٹ ضروری
• 2 طریقے:

1. براہ راست یونیورسٹی (فری)

2. Uni-Assist (70 یورو + یونیورسٹی فیس)

✅ پی ایچ ڈی
• پہلے سپروائزر ڈھونڈیں
• منظوری مل جائے تو تقریباً مفت پی ایچ ڈی

---

✅ آخر میں ایک سچی بات

میں کنسلٹنٹ نہیں ہوں۔
کبھی کسی سے پیسے نہیں لیے۔
میرا مقصد بس اصل، سچی اور آسان گائیڈنس دینا ہے — جیسی میں نے خود محسوس کی۔

اگر آپ محفوظ، آسان، مفت تعلیم والا ملک چاہتے ہیں،
جہاں جابز، ٹریول اور بے شمار مواقع ہوں—

تو جرمنی آپ کی زندگی کا بہترین فیصلہ بن سکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات  کے صدر الشیخ محمد بن زاید حفظه الله ایران جنگ کے بعد  پہلا بیان انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات دلکش،...
11/03/2026

متحدہ عرب امارات کے صدر الشیخ محمد بن زاید حفظه الله ایران جنگ کے بعد پہلا بیان
انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات دلکش،خوبصورت اور رول ماڈل ہے۔ دشمن امارات کی ظاہری خوبصورتی سے دھوکا نہ کھائیں۔
امارات کی جلد سخت ہے اور گوشت کڑوا ہے
ہم آسان شکار نہیں ہیں۔" 🇦🇪
اور ہم اس جنگ سے نکل کر مزید طاقت کے ساتھ ترقی کے افق پر ابھریں گے
یہ پیغام ہمارے وطن کی مضبوطی، ثابت قدمی اور قیادت کے اس عزم کی یاد دہانی ہے کہ وہ خاندان کے ہر فرد کے تحفظ کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔
ہم متحد ہیں، اور اپنے ملک اور اس میں بسنے والے چاہیے مواطن ہو یا مقیم پر فخر کرتے ہیں۔
اللہ پاک امارات اور اس کے لوگوں کی حفاظت فرمائے۔
Lag gaya visa

Hotel balcony?Nah… airplane pool ✨✈️
04/02/2026

Hotel balcony?
Nah… airplane pool ✨✈️

پاکستانیوں کو جب 40 سال کی عمر میں یورپ /کینیڈا جانے کا ٹھیک طریقہ پتہ چلتا ہے تو پھر پوچھتے ہیں۔۔۔۔۔"اسی اوتھے جا کے کر...
04/02/2026

پاکستانیوں کو جب 40 سال کی عمر میں یورپ /کینیڈا جانے کا ٹھیک طریقہ پتہ چلتا ہے تو پھر پوچھتے ہیں۔۔۔۔۔"اسی اوتھے جا کے کراں گے کیہہ"(اس عمر میں اب ہم وہاں جا کر کریں گے کیا ؟

کیا آپ کے ساتھ بھی یہی کنفیوژن ہے ۔اس کا بہت آسان حل ہے ۔اگر آپ میں انرجی کا لیول بہتر ہے ۔سست ،کاہل نہیں ہیں تو سچ پوچھیے باہر جانے کی عمر ہی یہی ہے ۔آپ کام پر پوری توجہ دے سکتے ہیں ۔وقت ضائع نہیں کرتے اللہ کے قدرے قریب ہو جاتے ہین ۔تھوڑی بہت آخرت کی فکر شروع کر دیتے ہیں۔۔اپنے آپکو سمیٹ کر چلتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق 40 سے 50 سال کا عمر کا حصہ آئیڈیل سمجھا جاتا ہے کیونکہ آپ کی عقل جوان ہوتی ہے ۔شعور کافی حد تک پروان چڑھ چکا ہوتا ہے۔اس ایج بریکٹ کا ضرور فائدہ اٹھائیں ۔اللہ کی زمین بہت بڑی ہے ۔اور مجموعی طور پر بہت اچھے انسان بستے ہیں۔

اگر آپ خوف زدہ ہیں ۔کم ہمت ہیں تو میٹرک کے فورا بعد اپنے بچوں کو پڑھنے کے لیے بھیج دیں۔ لیکن ان کی تیاری بہت چھوٹی عمر میں شروع کروانی پڑے گی کیونکہ میٹرک کا بچہ چھوٹا ہوتا ہے اسے کچھ چیزوں کی تربیت دی جانی چاہیے ۔خود پاکستان میں رہیں۔پاکستان کہیں نہیں جا رہا ۔یہ کبھی بھی ڈیفالٹ بھی نہیں کرے گا اور ٹھیک بھی نہیں چلے گا ۔اس کی فیکٹری سیٹنگ ایسی ہی کی گئ ہے ۔یہ نہ مایوسی ہے اور نہ خوف بلکہ ننگی حقیقت ہے ۔اسے اب مان لیں یا بیس سال بعد۔

اگر آپ واقعی ہی سنجیدہ ہیں کہ آپکے بچے بہتر معیشت و پرسکون ممالک میں سیٹل ہوں تو آپکو بہت پہلے سے پلاننگ کرنی پڑے گی ۔اگر بہت اچھے پروفائل کی جاب نہیں ہے تو ایک کمپنی رجسٹر کریں ۔اکاونٹ کو خالی نہ چھوڑیں۔دس بیس لاکھ ضرور رکھیں ۔سالانہ بھلے 50 ہزار روپے ٹیکس دیں ۔چیمبر آف کامرس سے رجسٹر ہوں ۔سال میں ایک آدھ بار کسی ملک کا وزٹ کر لیں ۔عمرے کیساتھ دوبئ یا ترکی کا وزٹ کر لیں ۔۔اگر آپ اس کلاس سے بجی تعلق نہیں رکھتے تو پریشان نہ ہوں ۔سکالرشپس کی صورت میں آپکے بچے مفت پڑھ سکتے ہیں۔اور بیرون ملک سیٹل ہو سکتے ہیں۔قریبا 50 ممالک پاکستانیوں کو سکالرشپس دیتے ہیں۔چوتھا طریقہ بھی ہے ۔۔۔۔۔وہ یہاں نہیں بتایا جا سکتا

آپکے پلاٹ ۔زمین اگر آپ کو آپکی زندگی میں فائدہ نہیں دے رہے تو ان کا کیا فائدہ ۔ان سے فائدہ لیں ۔یہ نعمتیں شو مارنے کے لیے نہیں ہیں بلکہ فائدہ اٹھانے کے لیے ہیں۔اگر پلاٹ یا زمین کا ٹکڑا بیچنے سے آپکی اور آپکے بچو ں کی زندگی سہل ہو جاتی ہے تو ضرور کریں۔ضرورت پڑنے پر ۔اپنے پیسوں کو اپنے پلاٹس کو اپنی زندگی میں اپنے ہاتھوں سے خرچ خریں۔

اگر آپ اپنے بچوں کے مستقبل بارے پریشان ہیں تو ہمارا گیارہ سالہ پلان مسائل کو بہت حد تک کم کر دے گا۔دس سال بعد پچھتانے کی بجائے بروقت کچھ اقدام اٹھائیں ۔

اللہ پاک ہجرت آسان بنائے اور بہتر لوگوں کا ساتھ دے

Lag gaya visa
Saad Waqas Malik

Address

Dubai

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lag gaya visa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Lag gaya visa:

Shortcuts

Share

Category