13/08/2026
افریکہ میں کینیا اور تنزانیہ کی سرحدوں پر دریائے مارا کے کنارے زیبرا اور وائلڈ بیسٹ جمع ہونا شروع ہوگئے ہوں گے. صدیوں سے ہر سال جولائی سے ستمبر کے درمیان یہ ریوڑ دریائے مارا کے کنارے جمع ہو کر دریا کے پانی کو دیکھ رہا ہوتا ہے.
اس پانی میں مگرمچھ بھی جمع ہو رہے ہوتے ہیں. کیونکہ اگلے کچھ دنوں میں ایک یہ زیبرے اور وائلڈ بیسٹ دریا کو ضرور کراس کریں گے. یہ جانتے ہوئے بھی کہ دریا کا تیز بہاو ناہموار سطح اور خونی مگرمچھوں کا میلہ لگا ہوا ہے. یہ صدیوں کی رسم ہے.
موسم نے ایک کنارے کی گھاس ختم کر دی ہے. دوسری طرف کی گھاس کیلئے یہ خونی دریا کراس کرنا ہے. تب یہ بے زباں جانور اپنی جبلت پر کچھ حساب کتاب کرتے ہیں. یہ جمع ہونا شروع ہوتے ہیں یہاں تک کے تعداد لاکھوں میں چلی جائے. اس کے بعد کسی دن یہ اچانک یلغار کر کے دریا پار کریں گے.
ان میں ایسے بدنصیب ہوں گے جو یہ دریا پار نہیں کر پائیں گے. لیکن لاکھوں میں یہ چند درجن بدنصیب کون ہوں گے.؟ چونکہ یہ معلوم نہیں ہوتا تو ایک طرف کی یقینی بھوک کی سسکتی موت سے دوسری طرف کی بقا کی خواہش ہر ایک کو دریا میں چھلانگ لگانے پر مجبور کر دیتی ہے.
غریب ملکوں کے بچے جب خواب سجائے دور دراز ملکوں کی سرحدوں و سمندروں میں مر رہے ہوتے ہیں تب دریا مارا کا یہ کنارہ آنکھوں کے آگے گھوم جاتا ہے. زیبروں اور جنگلی گائے بیلوں کا حساب سادہ ہے. آخر یہ خونی مگرمچھ کتنا گوشت کھا لیں گے.؟ انسانی مگرمچھوں کا حساب پیچیدہ ہے کیونکہ یہ خود بھی کھاتے ہیں اور اپنی نسلوں کیلئے بھی غریبوں کا خون جمع کرتے ہیں.
انسانی معاشرے کے انسان نما خونی مگرمچھ دریا مارا کے مگرمچھوں سے زیادہ خطرناک ہیں. ان کی بھوک ختم ہی نہیں ہوتی. کیونکہ مارا کے مگرمچھ کی بھوک جبلت ہے اور انسانی مگرمچھ کی بھوک حرص و ہوس ہے.