Lag gaya visa

Lag gaya visa Visa, Travel and tourism information

Jazeera Airways announced the start of daily flights from Saudi Arabia’s Qaisumah Airport and the United Arab Emirates’ ...
23/03/2026

Jazeera Airways announced the start of daily flights from Saudi Arabia’s Qaisumah Airport and the United Arab Emirates’ Al Ain Airport from Wednesday.

Passengers will be safely transported by bus from Kuwait to Qaisumah Airport. Passengers holding Kuwaiti residency can obtain a Saudi entry visa at the border. Those holding a visit visa will need to obtain an entry visa before traveling through Saudi territory.
✈️🌍

جرمنی — زمین پر سب سے بہترین ملک (میرا اصل تجربہ)جب میں پہلی بار جولائی 2024 میں جرمنی آیا تھا، تو مجھے اندازہ نہیں تھا ...
23/03/2026

جرمنی — زمین پر سب سے بہترین ملک (میرا اصل تجربہ)

جب میں پہلی بار جولائی 2024 میں جرمنی آیا تھا، تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ ملک میری زندگی کا سب سے بڑا موڑ ثابت ہوگا۔
یہاں کا ماحول، سیکھنے کا کلچر اور نظام دیکھ کر فوراً یقین ہوگیا کہ:

"جرمنی ہی میری اصل منزل ہے۔"

اسی لیے 2025 میں میں دوبارہ جرمنی واپس آیا — اس بار اپنی پڑھائی جاری رکھنے اور بہتر مستقبل بنانے کے لیے۔

---

✅ 1 — مفت تعلیم اور بہترین اسٹوڈنٹ لائف

جرمنی وہ ملک ہے جہاں تعلیم بالکل مفت ہے، مگر معیار دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں جیسا۔

✅ ٹیوشن فیس نہیں
✅ DAAD جیسی اسکالرشپس
✅ عالمی معیار کی لیبارٹریز اور ریسرچ
✅ اسٹوڈنٹ لائف ایک لگژری

یقیناً یہاں طالب علم ہونا ایک اعزاز لگتا ہے—
ہر چیز میں ڈسکاؤنٹ، ہر طرف سیکیورٹی، بہترین سہولیات، مکمل سپورٹ۔

---

✅ 2 — سفر کی آزادی (DB ٹکٹ)

سیمسٹر فیس کے ساتھ ملنے والا DB ٹکٹ آپ کو پورے جرمنی میں مفت سفر کی سہولت دیتا ہے:

🚆 ٹرینیں
🚌 بسیں
⛴️ فیریاں
🌍 سرحدی ممالک کے کچھ شہروں تک سفر بھی ممکن

2024 میں میں جرمنی کے ساتھ آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ بھی گیا تھا۔
جِنہیں سفر کا شوق ہے — جرمنی اُن کے لیے جنت ہے۔

---

✅ 3 — یورپ کی سب سے مضبوط جاب مارکیٹ

جرمنی کی جاب مارکیٹ اتنی مضبوط ہے کہ میرے فن لینڈ، پرتگال اور اٹلی کے دوست بھی یہاں آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جرمنی میں طلبہ:

✅ اپنا خرچہ آسانی سے نکال لیتے ہیں
✅ پڑھائی اور کام ساتھ ساتھ چل جاتا ہے
✅ چاہیں تو پاکستان پیسے بھیج سکتے ہیں (لیکن ضروری نہیں)

تقریباً ہر فیلڈ میں نوکریاں موجود ہیں۔

---

✅ 4 — ہر جگہ پاکستانی طلبہ

پاکستان کے حالات کی وجہ سے بہت سے پاکستانی اسٹوڈنٹس جرمنی آرہے ہیں، اس لیے ہر شہر اور ہر یونیورسٹی میں پاکستانی کمیونٹی موجود ہوتی ہے۔

میری کیمسٹری ڈپارٹمنٹ میں ہم 9 پاکستانی ہیں۔
اور میرے شہر ساہیوال کی ایک لڑکی، جو پہلے UK میں تھی — وہ بھی جرمنی پڑھنے آئی ہے۔
لڑکیاں یہاں خود کو بہت محفوظ محسوس کرتی ہیں، حتیٰ کہ شیئرڈ رومز میں بھی کوئی خوف نہیں ہوتا۔
حلال کھانا بھی بہت آسانی سے مل جاتا ہے۔

---

✅ 5 — زندگی بہت آسان

جرمنی کی چھوٹی چھوٹی چیزیں زندگی کو بہت آرام دہ بنا دیتی ہیں:

✅ صاف پینے کا پانی، ہر جگہ (گرم/ٹھنڈا)
✅ بہترین پبلک ٹرانسپورٹ
✅ مختلف کلچرز کے لوگ
✅ اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کی آزادی
✅ پرامن، صاف اور محفوظ ماحول

جرمنی نے مجھے وہ سب کرنے کی آزادی دی جو میں پاکستان میں مالی یا سماجی دباؤ کی وجہ سے نہیں کر سکتا تھا۔

ویزہ ریشو؟
تقریباً 99% — بس دستاویزات درست ہونے چاہئیں۔

---

🎓 ایڈمیشن گائیڈ (آسان اور سادہ)

✅ بیچلرز
• ایف ایس سی / 12ویں جماعت + پاکستان سے بیچلرز کے 2 سمسٹر
• 12,000 یورو بلوکڈ اکاؤنٹ
• جرمنی میں بیچلرز 3 سال کا ہوتا ہے
• تلاش کے لیے DAAD بہترین ویب سائٹ ہے

✅ ماسٹرز
• ماسٹرز میں داخلہ نسبتاً آسان ہے
• 2 سال کا تجربہ ہو تو DAAD اسکالرشپ بھی ممکن
• بلوکڈ اکاؤنٹ ضروری
• 2 طریقے:

1. براہ راست یونیورسٹی (فری)

2. Uni-Assist (70 یورو + یونیورسٹی فیس)

✅ پی ایچ ڈی
• پہلے سپروائزر ڈھونڈیں
• منظوری مل جائے تو تقریباً مفت پی ایچ ڈی

---

✅ آخر میں ایک سچی بات

میں کنسلٹنٹ نہیں ہوں۔
کبھی کسی سے پیسے نہیں لیے۔
میرا مقصد بس اصل، سچی اور آسان گائیڈنس دینا ہے — جیسی میں نے خود محسوس کی۔

اگر آپ محفوظ، آسان، مفت تعلیم والا ملک چاہتے ہیں،
جہاں جابز، ٹریول اور بے شمار مواقع ہوں—

تو جرمنی آپ کی زندگی کا بہترین فیصلہ بن سکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات  کے صدر الشیخ محمد بن زاید حفظه الله ایران جنگ کے بعد  پہلا بیان انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات دلکش،...
11/03/2026

متحدہ عرب امارات کے صدر الشیخ محمد بن زاید حفظه الله ایران جنگ کے بعد پہلا بیان
انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات دلکش،خوبصورت اور رول ماڈل ہے۔ دشمن امارات کی ظاہری خوبصورتی سے دھوکا نہ کھائیں۔
امارات کی جلد سخت ہے اور گوشت کڑوا ہے
ہم آسان شکار نہیں ہیں۔" 🇦🇪
اور ہم اس جنگ سے نکل کر مزید طاقت کے ساتھ ترقی کے افق پر ابھریں گے
یہ پیغام ہمارے وطن کی مضبوطی، ثابت قدمی اور قیادت کے اس عزم کی یاد دہانی ہے کہ وہ خاندان کے ہر فرد کے تحفظ کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔
ہم متحد ہیں، اور اپنے ملک اور اس میں بسنے والے چاہیے مواطن ہو یا مقیم پر فخر کرتے ہیں۔
اللہ پاک امارات اور اس کے لوگوں کی حفاظت فرمائے۔
Lag gaya visa

Hotel balcony?Nah… airplane pool ✨✈️
04/02/2026

Hotel balcony?
Nah… airplane pool ✨✈️

پاکستانیوں کو جب 40 سال کی عمر میں یورپ /کینیڈا جانے کا ٹھیک طریقہ پتہ چلتا ہے تو پھر پوچھتے ہیں۔۔۔۔۔"اسی اوتھے جا کے کر...
04/02/2026

پاکستانیوں کو جب 40 سال کی عمر میں یورپ /کینیڈا جانے کا ٹھیک طریقہ پتہ چلتا ہے تو پھر پوچھتے ہیں۔۔۔۔۔"اسی اوتھے جا کے کراں گے کیہہ"(اس عمر میں اب ہم وہاں جا کر کریں گے کیا ؟

کیا آپ کے ساتھ بھی یہی کنفیوژن ہے ۔اس کا بہت آسان حل ہے ۔اگر آپ میں انرجی کا لیول بہتر ہے ۔سست ،کاہل نہیں ہیں تو سچ پوچھیے باہر جانے کی عمر ہی یہی ہے ۔آپ کام پر پوری توجہ دے سکتے ہیں ۔وقت ضائع نہیں کرتے اللہ کے قدرے قریب ہو جاتے ہین ۔تھوڑی بہت آخرت کی فکر شروع کر دیتے ہیں۔۔اپنے آپکو سمیٹ کر چلتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق 40 سے 50 سال کا عمر کا حصہ آئیڈیل سمجھا جاتا ہے کیونکہ آپ کی عقل جوان ہوتی ہے ۔شعور کافی حد تک پروان چڑھ چکا ہوتا ہے۔اس ایج بریکٹ کا ضرور فائدہ اٹھائیں ۔اللہ کی زمین بہت بڑی ہے ۔اور مجموعی طور پر بہت اچھے انسان بستے ہیں۔

اگر آپ خوف زدہ ہیں ۔کم ہمت ہیں تو میٹرک کے فورا بعد اپنے بچوں کو پڑھنے کے لیے بھیج دیں۔ لیکن ان کی تیاری بہت چھوٹی عمر میں شروع کروانی پڑے گی کیونکہ میٹرک کا بچہ چھوٹا ہوتا ہے اسے کچھ چیزوں کی تربیت دی جانی چاہیے ۔خود پاکستان میں رہیں۔پاکستان کہیں نہیں جا رہا ۔یہ کبھی بھی ڈیفالٹ بھی نہیں کرے گا اور ٹھیک بھی نہیں چلے گا ۔اس کی فیکٹری سیٹنگ ایسی ہی کی گئ ہے ۔یہ نہ مایوسی ہے اور نہ خوف بلکہ ننگی حقیقت ہے ۔اسے اب مان لیں یا بیس سال بعد۔

اگر آپ واقعی ہی سنجیدہ ہیں کہ آپکے بچے بہتر معیشت و پرسکون ممالک میں سیٹل ہوں تو آپکو بہت پہلے سے پلاننگ کرنی پڑے گی ۔اگر بہت اچھے پروفائل کی جاب نہیں ہے تو ایک کمپنی رجسٹر کریں ۔اکاونٹ کو خالی نہ چھوڑیں۔دس بیس لاکھ ضرور رکھیں ۔سالانہ بھلے 50 ہزار روپے ٹیکس دیں ۔چیمبر آف کامرس سے رجسٹر ہوں ۔سال میں ایک آدھ بار کسی ملک کا وزٹ کر لیں ۔عمرے کیساتھ دوبئ یا ترکی کا وزٹ کر لیں ۔۔اگر آپ اس کلاس سے بجی تعلق نہیں رکھتے تو پریشان نہ ہوں ۔سکالرشپس کی صورت میں آپکے بچے مفت پڑھ سکتے ہیں۔اور بیرون ملک سیٹل ہو سکتے ہیں۔قریبا 50 ممالک پاکستانیوں کو سکالرشپس دیتے ہیں۔چوتھا طریقہ بھی ہے ۔۔۔۔۔وہ یہاں نہیں بتایا جا سکتا

آپکے پلاٹ ۔زمین اگر آپ کو آپکی زندگی میں فائدہ نہیں دے رہے تو ان کا کیا فائدہ ۔ان سے فائدہ لیں ۔یہ نعمتیں شو مارنے کے لیے نہیں ہیں بلکہ فائدہ اٹھانے کے لیے ہیں۔اگر پلاٹ یا زمین کا ٹکڑا بیچنے سے آپکی اور آپکے بچو ں کی زندگی سہل ہو جاتی ہے تو ضرور کریں۔ضرورت پڑنے پر ۔اپنے پیسوں کو اپنے پلاٹس کو اپنی زندگی میں اپنے ہاتھوں سے خرچ خریں۔

اگر آپ اپنے بچوں کے مستقبل بارے پریشان ہیں تو ہمارا گیارہ سالہ پلان مسائل کو بہت حد تک کم کر دے گا۔دس سال بعد پچھتانے کی بجائے بروقت کچھ اقدام اٹھائیں ۔

اللہ پاک ہجرت آسان بنائے اور بہتر لوگوں کا ساتھ دے

Lag gaya visa
Saad Waqas Malik

آج کینیڈا میں مائنس 21 ڈگری۔اللہ کی پناہ۔۔افیہ صرف ایک عدد نہیں،یہ وہ لمحہ ہے جہاں قدرت انسان کو للکارتی ہے۔آسمان سے برف...
18/01/2026

آج کینیڈا میں مائنس 21 ڈگری۔
اللہ کی پناہ۔۔اف
یہ صرف ایک عدد نہیں،
یہ وہ لمحہ ہے جہاں قدرت انسان کو للکارتی ہے۔
آسمان سے برف نہیں گرتی،
برف حملہ آور ہوتی ہے۔ یہ
کینیڈا میں برفباری نہیں بلکہ سنو اسٹارم کی ا یک چیخ ہے۔مجھے
اپنی پوری زندگی میں پہلی دفعہ کینیڈا میں اس سخت سردی میں وقت گزارنے کا موقع ملا ۔سوچ رہی ہوں کہ یہ
جما دینے والی سردی۔۔۔
میری کیونکہ یہ پہلی سردی ہے اس لیے میں چاہنے کے باوجود بھی باہر نہیں جا سکتی ۔اف۔اپ کو یہ پڑھ کر حیرت ہوگی دیکھ کر بھی کہ زندگی ویسے رواں دواں ہے کہیں کوئی کمی نہیں ائی سڑکوں پہ بے شک سفیدی ہے لیکن ٹریفک جام نہیں ہے سردیوں میں گاڑیوں کے ٹائر اور ہوتے ہیں گرمیوں میں اور ہوتے ہیں اس لیے انہیں سڑک پر چلنے کے لیے کوئی دقت نہیں ہوتی اسی طرح جوتے لباس ٹوپیاں سب کچھ سردیوں کے لیے سپیشل ہوتا ہے ۔انتظامات بہت اعلی ۔۔اس سردی میں سانس لینا صرف مشکل ہی نہیں بلکہ ازمائش ہے
روڈز اپنی پہچان کھو دیتے ہیں۔ایسے لگتا ہےسڑکیں سفید کفن اوڑھے بیٹھی ہیں گاڑیاں سفید برف میں قید
دروازے بند، ، زندگی جیسے “Pause” پر چلی گئی
ہوا اتنی تیز کہ لگتا ہے سانس بھی جم جائے گا۔
برف ایسے برس رہی ہے جیسے آسمان زمین کو ڈھانپ دینا چاہتا ہو،
گاڑیاں برف کے نیچے دفن،
اور زندگی… تھم سی گئی ہے۔
اسکول بند ہیں،
بچوں کی ہنسی گھروں کے اندر قید ہے،
لیکن ماں باپ کے لیے آزمائش ختم نہیں ہوتی۔
برف خود صاف کرنی ہے…
شفل ہاتھ میں پکڑ کر،
ہاتھ سن ہو جاتے ہیں،
چہرہ جلتا ہے،
اور ہوا جیسے دشمن بن کر حملہ آور ہو۔
ایسے میں باہر نکلنا ہمت کا کام ہے،
اور گھر کے اندر رہنا بھی صبر کا امتحان۔
لیکن ذمہ داریاں نہیں رکتیں…
اور دل میں بس ایک ہی سوال:
کیا آج بھی ہمت جیتے گی؟
برف صاف کرنا صرف راستہ نہیں کھولتا،
یہ حوصلہ بڑھاتا ہے،
یہ بتاتا ہے کہ
پردیس میں زندگی
آسان نہیں…
مگر ممکن ضرور ہے۔
کینیڈا کی یہ سردی
ہمیں یہ سبق دیتی ہے اور
یہ سکھاتی ہے کہ
جو ٹھنڈ میں کھڑا رہنا سیکھ لے
وہ زندگی کے ہر طوفان میں کھڑا رہتا ہے۔
یہ سردی نہیں آزمائش ہے…
اور آزمائشیں کمزوروں کو توڑتی نہیں،
مضبوط بناتی ہیں۔
اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو

Follow Lag gaya visa

کینیڈا کی سردی میں انسانیت کی تپش: ایک خاموش انقلابکینیڈا بھر میں مہربانی اور ہمدردی ہمیشہ شور مچا کر نہیں آتی، کبھی کبھ...
08/01/2026

کینیڈا کی سردی میں انسانیت کی تپش: ایک خاموش انقلاب
کینیڈا بھر میں مہربانی اور ہمدردی ہمیشہ شور مچا کر نہیں آتی، کبھی کبھی یہ خون جما دینے والی سردی میں خاموشی سے کسی کا انتظار کرتی ہے۔
ہر سال جب کینیڈا میں درجہ حرارت گرتا ہے اور برفباری اپنے پنجے گاڑ لیتی ہے، تو یہاں کے شہروں اور قصبوں میں ایک حیرت انگیز منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس مہم کے لیے نہ کوئی پریس ریلیز جاری ہوتی ہے، نہ فنڈ ریزنگ کے بینر لگتے ہیں اور نہ ہی تعریفیں سمیٹنے کے لیے تقریریں کی جاتی ہیں۔ بس عام سے لوگ کڑاکے کی سردی میں باہر نکلتے ہیں اور اپنے پیچھے "گرمی" چھوڑ جاتے ہیں۔
کسی باڑ پر لٹکا ہوا ایک کوٹ، پارک کے بینچ پر رکھا ہوا ایک مفلر، یا درخت کی شاخ میں پھنسائے گئے دستانے۔ نہ دینے والے کا نام، نہ کوئی شرط، اور نہ ہی کوئی سوال۔ بس جیب یا آستین میں چھپا ایک چھوٹا سا ہاتھ سے لکھا ہوا رقعہ: "اگر آپ کو سردی لگ رہی ہے، تو براہِ کرم اسے لے لیں۔"
ونی پیگ (Winnipeg) سے لے کر ریجینا (Regina) تک، لوگوں نے اس انسانی جبلت کو ایک غیر رسمی مہم میں بدل دیا ہے۔ لوگ وہ کوٹ عطیہ کر دیتے ہیں جن کی انہیں ضرورت نہیں ہوتی، کچھ لوگ مفلر بنتے ہیں یا تھوک کے حساب سے دستانے خریدتے ہیں۔ وہ ان چیزوں کو کسی عمارت کے اندر تالوں میں رکھنے کے بجائے کھلی جگہوں پر چھوڑ دیتے ہیں جہاں ضرورت مند کو اپنی غربت کا ثبوت دینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
ریجینا کے وکٹوریہ پارک میں، سردیوں کی صبح اکثر کسی معجزے سے کم نہیں ہوتی۔ راتوں رات وہاں سینکڑوں ہاتھ سے بنے ہوئے رنگ برنگے مفلر نمودار ہو جاتے ہیں جو دھند اور کہر کے درمیان انسانیت کا رنگ بھر دیتے ہیں۔ وہاں کوئی پہرہ نہیں دیتا، کوئی حساب نہیں رکھتا۔ گزرنے والا ہر ضرورت مند اسے اٹھا سکتا ہے۔
کیملوپس (Kamloops) میں ایک رضاکار خاتون اپنی تمام شامیں ٹوپیاں اور مفلر بننے میں گزارتی ہے۔ وہ اس کے بارے میں سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ نہیں کرتی۔ جب برفباری کی پیشگوئی ہوتی ہے، تو وہ چپکے سے نکلتی ہے اور درختوں کی نیچی شاخوں پر انہیں لٹکا دیتی ہے اس احتیاط کے ساتھ کہ کوئی اسے دیکھ نہ لے۔
اوٹاوا اور ونی پیگ جیسے شہروں میں "اسکارف بمبنگ" (Scarf Bombing) اب ایک روایت بن چکی ہے۔ بس اسٹاپس، کھمبے اور درخت اون کی گرمائش سے ڈھک دیے جاتے ہیں۔ صبح تک کچھ غائب ہو جاتے ہیں، دوپہر تک نئے آ جاتے ہیں۔
کوئی نہیں پوچھتا کہ اس کا حقدار کون ہے، کوئی بینک بیلنس چیک نہیں کرتا۔ کیونکہ سردی بھی کسی سے سوال نہیں کرتی۔

جان بچانے والا عمل: کینیڈا کی سردی میں 'فراسٹ بائٹ' (جسم کا جم جانا) چند منٹوں میں ہو سکتا ہے۔ بے گھر افراد یا وہ لوگ جو گرم کپڑے خریدنے کی سکت نہیں رکھتے، ان کے لیے یہ کوٹ زندگی اور موت کے درمیان ایک ڈھال ثابت ہوتے ہیں۔
عزتِ نفس کی حفاظت: خیراتی اداروں کے سامنے لائن میں لگنا یا اپنی ضرورت مندی ظاہر کرنا بعض اوقات انسان کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ یہ خاموش طریقہ کار ضرورت مند کو بغیر کسی شرمندگی کے مدد فراہم کرتا ہے۔
کمیونٹی کا اتحاد: یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ ایک معاشرہ صرف حکومت یا اداروں پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ عام شہری ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی ذمہ داری خود اٹھاتے ہیں۔
یہ مہربانی کی ایسی شکل ہے جو نمود و نمائش سے پاک ہے۔
کینیڈا کی سڑکوں پر لٹکے یہ کوٹ اور مفلر صرف کپڑے نہیں، بلکہ ایک پیغام ہیں کہ: 'آپ اکیلے نہیں ہیں'۔ کسی نمائش کے بغیر، کسی تعریف کی تمنا کیے بغیر، اجنبیوں کی جانب سے اجنبیوں کے لیے ایک خوبصورت تحفہ۔ کاش یہ احساس ہم سب کے دلوں میں زندہ ہو جائے۔
بس نہیں دیتے تو کینڈا والے ویزا نہیں دیتے۔ 🤣

Canada is reopening its skies to Middle Eastern airlines, and that shift is about to test how competitive Canadian carri...
07/01/2026

Canada is reopening its skies to Middle Eastern airlines, and that shift is about to test how competitive Canadian carriers really are.

Ottawa has approved a sharp increase in passenger flights from the United Arab Emirates and Saudi Arabia, easing limits that were imposed after years of diplomatic tension. The move allows up to 35 weekly passenger flights from the UAE and 14 from Saudi Arabia, alongside unlimited cargo services. Canadian airlines receive reciprocal rights, but the balance may not be equal.

Aviation analyst John Gradek says Middle Eastern carriers arrive with a built-in advantage. Their premium-heavy business models allow them to sell economy seats cheaply while still delivering standout onboard service. That combination is hard for Canadian airlines to match.

Air Canada insists it already competes with the best globally and points to its expanded partnership with Emirates. But as more Gulf carriers enter the market, Canadian passengers may soon expect higher standards at the same prices.

کہتے ہیں دنیا کا کوئی کنارہ نہیں لیکن اس کے باوجود ایک مقام ایسا بھی ہے جسے "اینڈ آف دی ورلڈ" کہتے ہیں۔ یعنی دنیا یہاں خ...
07/01/2026

کہتے ہیں دنیا کا کوئی کنارہ نہیں لیکن اس کے باوجود ایک مقام ایسا بھی ہے جسے "اینڈ آف دی ورلڈ" کہتے ہیں۔ یعنی دنیا یہاں ختم ہو جاتی ہے

ناروے کے شہر شون کے شمال کا مقام "اینڈ آف دی ورلڈ" کہلاتا ہے۔ اس مقام پرنارویجن سمندر دنیا کے 20 فیصد حصے کے مالک بحراوقیانوس سے ملتا ہے اور خشکی ‏کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے ۔دنیا بھر سے ناروے آنے والے افراد اس مقام پر پہنچنا اپنی خوش قسمتی قرار دیتے ہیں۔

پانی میں ڈوبی چٹانیں اور صدیوں پرانے ٹوکری والے لائٹ ہائوس کا انداز اس مقام کو اور بھی دلچسپ بناتا ہے۔ اینڈ آف دی ورلڈ نامی اس مقام کا صرف نام ہی جازبیت کی نشانی نہیں۔ یہاں سرد ہوائیں اور تیز دھوپ دونوں ساتھ ساتھ ملتے ہیں۔
ویسے تو دنیا گول ہے لیکن جسے بھی اینڈ آف دی ورلڈ دیکھنا ہو یہیں آتا ہے اور موسم کا خوب لطف اٹھاتا ہے۔

23/12/2025

نوجوانوں میں ڈپریشن کی سب سے بڑی وجہ
یورپ سے دوری ہے

Address

Dubai

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lag gaya visa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Lag gaya visa:

Share

Category