08/05/2018
کالم : فہیم احمد خان
*عطائی ڈاکٹرز اور عدالتی فیصلہ...*
چودھویں صدی میں یورپ طاعون بیماری کی لپیٹ میں آگیا..اور تقریباً 8 کروڑ لوگ موت کے منہ میں چلے گئے جسے بلیک ڈیتھ کا نام دیا گیا...یوریشیا اور یورپ میں ہنگامی بنیادوں پر بیماری پر قابو پانے کے لئے ہزاروں غیر تربیت یافتہ معالج بطور رضا کار دور افتادہ علاقوں میں بھیجنے شروع کئے جنہیں Plague Doctors کا نام دیا گیا.... جو غریب لوگوں کے علاج معالجے کے لئے کمر بستہ ہوئے...
یہ سلسلہ چار صدیوں تک جاری رہا بالآخر اٹھارویں صدی کے آخر میں اس بیماری اور اس کے دیگر اثرات سے بچاو کی مہم کے نتیجے میں اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا..اس بیماری نے آدھی سے زیادہ دنیا کو متاثر کیا اور پلاگ ڈاکٹرز کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا....جوں جوں طب کے شعبہ نے ترقی کی میڈیکل سائنس نے پلاگ ڈاکٹرز کو Quake ڈاکٹرز کا ٹھپہ لگا دیا..جسے ہم عطائی ڈاکٹر کہتے ہیں..... غریب, مسکین لوگ اپنے علاج کے لئے عطائی ڈاکٹرز کا رُخ کرتے ہیں.... پاک و ہند, مشرق وسطیٰ, اور چائنہ میں عطائی ڈاکٹر کی اہمیت واضح ہے...غریب لوگ جو مہنگے ڈاکٹر, ہسپتال یا جدید طریقہ علاج تک رسائی نہیں رکھتے ان کی آخری اُمید عطائی ڈاکٹر ہی ہوتے ہیں.پاکستان میں پی ایم اے کے مطابق 7 لاکھ عطائی ڈاکٹرز ہیں.....عطائیت کے خلاف حالیہ عدالتی فیصلے سے ہزاروں عطائی ڈاکٹرز جو پسماندہ علاقوں میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں... متاثر ہوں گے بلکہ لاکھوں غریب لوگ بھی....
ان عطائی ڈاکٹرز کا طرز علاج سپٹم یا مریض کی نشاندہی پر ہے جس میں ایک مشاہدے کے مطابق جسم میں درد, بخار, نزلہ زکام, بیرونی زخم یا چوٹ کا لگنا وغیرہ شامل ہے....اور سب سے زیادہ پین کلر انجیکشن شامل ہیں..ایک غریب بندہ محض 30 سے پچاس روپے میں اپنا علاج کرواتا ہے...کہیں اکا دُکا انجیکشن سے مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے.... کیونکہ علاج کا دارو مدار ٹیسٹ یا میڈیکل رپورٹ پہ نہیں صرف مریض کی نشاندہی پر ہوتا ہے.. ہمارے ہاں رپورٹس پر دوائی لینے کا رواج خال خال ہے...غریب بندہ کہاں سے اتنا پیسہ خرچ کرے....اس عدالتی فیصلہ کے بعد جس میں پولیس کو فوری ایکشن لینے کے اختیارات دے دئے ہیں ایک نئی بحث کو چھیڑ دیا گیا ہے...حکومت کو چاہئے کہ وہ رورل ہیلتھ سینٹرز کو فعال کریں.ادویات کی مکمل فراہمی ممکن ہو...پھر عطائی ڈاکٹر پہ ایکشن لیا جاتا ورنہ بیچارے غریب لوگ کہاں جائیں....آج بھی پوری دنیا میں جگہ جگہ عطائی ڈاکٹرز ہیں... اور عطائی کو گالی بنا دیا گیا ہے....سچ پو چھئے تو یہ ڈاکٹرز فرسٹ ایڈ کا کام دیتے ہیں وگرنہ میرے مشاہدہ میں آج تک نہیں آیا کہ یہ ڈاکٹرز دل, گردوں یا کینسر پہ لوگوں کا علاج کر رہے ہیں...
یہ محض جسم میں درد کی دوا دیتے ہیں یا چوٹ لگنے پر مرہم پٹی کرتے ہیں....دُورافتادہ, پسماندہ علاقوں میں ان کی خد.مات قابل تحسین ہیں...یہ لاکھ غیر ہنر مند سہی مگر ان کا تجربہ ایک ایم بی بی ایس سے کہیں زیادہ ہوتا ہے.محترم چیف جسٹس صاحب اپنے فیصلے پہ نظر ثانی کیجئے...ایک ایسا ادارہ بنائیں جو معمولی بیماریوں اور طریقہ علاج پر ان عطائی ڈاکٹرز کی تربیت کرے....ان کے لئے ایک ضابطہ اخلاق بنایا جائے...علاج کرنے کی حدود طے کی جائیں.....یہ رضا کار ہیں وگرنہ یقین جانیں محض بخار کے علاج کے لئے 500 دیہاڑی کمانے والا مزدور اپنے بخار کے علاج کے لئے ایک ہزار خرچ کر بیٹھے گا....یہ فیصلے ترقی یافتہ ملکوں یا قوموں کے لئے ہے جہاں ڈسپرین بھی ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر نہیں ملتی..... عطائیت کو ختم کرنا اگر ضروری ہے تو پھر ہر قصبے میں ہسپتال بنائیں جہاں 24 گھنٹے سروس ہو اور تمام ادویات کی مکمل فراہمی بھی...
آخری سوال
کیا حکومت نے مبینہ عطائیت ختم کرنے سے پہلے یا بعد میں کوئی پلان بنایا ۔
کیا بیسک ہیلتھ سینٹر۔ رورل ہیلتھ سنٹر میں عطائیت نہی ہوتی ایک یونین کونسل میں ایک بیسک ہیلتھ سینٹر تقریباً پانچ گاؤں میں ایک جس پر ایک ڈاکٹر ۔ڈسپینسر ۔ایل ایچ وی ۔ ہوتی ہے چلو ان گاؤں میں سے تمام عطائی ختم کر دیے جاتے ہیں تو ڈاکٹر تو چھ گھنٹے کے لیے آتا ہے ۔ اور ہفتے میں دو تین چھٹیاں بھی کرتا ہے تو سینٹر پر مریض آتے ہیں سینٹر بند نہی ہوتا ڈسپینسر ہی دوائی دیتا ہے وہاں یہ عطائیت نہی کیوں کہ حکومت کے پاس کو آپشن نہی مگر وہی ڈسپینسر گاؤں میں جاکر وہی کام کرے ڈیوٹی کے بعد تو عطائی کیا قانون ہے بلکے منافقت ہے چلو وہ بھی نہی بیٹھتا تو شہر سے بیس کلومیٹر دور گاؤں میں کسی کو بخار ہو گیا سر درد یا کوئی مسلہ تو جس غریب نے سارے دن میں تین سو کمائے ہیں وہ کہاں سے گاڑی لے گا ہزار روپے کرائے پر اور شہر جائے گا سرکاری ہسپتال میں
کیا ہر گاوں نہی چلو یونین کونسل کی سطح پر ڈاکٹر چوبیس گھنٹے موجود ہیں جواب نہی مسلہ یہ ہے کہ جو پلانگ کرتے ہیں ان کو یہ مسلے نہی ہیں اور اے سی والے کمرے میں بیٹھ کر غریب عوام کی قسمت کے فیصلے کرتے ہیں یہی حال آر ایچ سی کا ہے
اور چھاپے مارنے والے تو یہ کام شکار کرنے کی طرح کرتے ہیں کہ عام لوگوں کو ان کی طاقت کا پتہ چلے ہر گاوں کی سطح پر پانچ دن کے لیے سب بند کر دیں تو عوام کو بھی پتہ چلے اور حکمرانوں کو بھی۔.