Pak Railography

Pak Railography Documenting the rhythmic soul of Pakistan Railways. From the vintage charm of colonial stations to the cinematic beauty of the iron road.
(1)

عارف والہ ریلوے اسٹیشن۔ ہلکی ہلکی بارش اور سرخ رنگ کے پھولوں والی بوگن بیلیا۔
23/08/2026

عارف والہ ریلوے اسٹیشن۔ ہلکی ہلکی بارش اور سرخ رنگ کے پھولوں والی بوگن بیلیا۔

وادی بولان کا ٹرین آپریشن ایک عجوبہ سے کم نہیں۔ کوئٹہ سے سبی کی طرف جاتے ہوئے ہرک ریلوے اسٹیشن سے پہلے ادھر ٹرین کا رکن...
23/08/2026

وادی بولان کا ٹرین آپریشن ایک عجوبہ سے کم نہیں۔ کوئٹہ سے سبی کی طرف جاتے ہوئے ہرک ریلوے اسٹیشن سے پہلے ادھر ٹرین کا رکنا لازمی ہے تب ہی کانٹا تبدیل ہوتا ہے۔ اگر خدانخواستہ کسی وجہ سے بریک نہ لگے تو ٹرین جہنم لائن (کیچ سائڈنگ) پر چلی جاتی ہے۔

ہر ٹرین کے سفر کے پیچھے ایک ایسے شخص کی ذمہ داری ہوتی ہے جو لوکوموٹیو کیبن میں بیٹھ کر سینکڑوں مسافروں کو بحفاظت ان کی م...
23/08/2026

ہر ٹرین کے سفر کے پیچھے ایک ایسے شخص کی ذمہ داری ہوتی ہے جو لوکوموٹیو کیبن میں بیٹھ کر سینکڑوں مسافروں کو بحفاظت ان کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ پاکستان ریلوے میں حنیف غازی صاحب بھی ایسے ہی قابل اور تجربہ کار ڈرائیوروں میں شمار ہوتے ہیں۔ لاہور شیڈ سے وابستہ حنیف غازی نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک بڑا حصہ انجن کے ساتھ گزارا ہے، اور برسوں کے تجربے نے انہیں اپنے کام میں خاص مہارت عطا کی ہے۔

ٹرین ڈرائیونگ صرف انجن چلانے کا نام نہیں، بلکہ ہر لمحے سگنل، رفتار، ٹریک اور مسافروں کی حفاظت پر نظر رکھنے کی ذمہ داری ہے۔ رات کی ڈیوٹی ہو، لمبا سفر ہو یا مشکل موسم، ایک ماہر ڈرائیور کو ہر وقت پوری توجہ کے ساتھ فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ حنیف غازی صاحب جیسے تجربہ کار ڈرائیور اپنی محنت، نظم و ضبط اور برسوں کے تجربے سے اسی ذمہ داری کو نبھاتے آئے ہیں۔

شاید ٹرین میں بیٹھے زیادہ تر مسافر ڈرائیور کا نام بھی نہ جانتے ہوں، لیکن جب ٹرین بحفاظت اپنی منزل تک پہنچتی ہے تو اس کے پیچھے حنیف غازی جیسے ماہر ڈرائیوروں کی مہارت، تجربہ اور ذمہ داری بھی شامل ہوتی ہے۔ ایسے لوگ پاکستان ریلوے کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کا تجربہ نئی نسل کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔

آخر کار سندھ کے لوگوں کی آواز سن لی گئی۔ پاکستان ریلوے بہت جلد موہنجو دڑو پسنجر ٹرین دوبارہ سے چلانے جا رہا ہے۔ کوٹری ...
23/08/2026

آخر کار سندھ کے لوگوں کی آواز سن لی گئی۔ پاکستان ریلوے بہت جلد موہنجو دڑو پسنجر ٹرین دوبارہ سے چلانے جا رہا ہے۔ کوٹری سے روہڑی براستہ سہون شریف، دادو، لاڑکانہ، حبیب کوٹ، سکھر ایک اچھی سہولت۔ اس دفعہ اس کو اتنا کامیاب بنائیں کہ دوبارہ کبھی بند نہ ہو۔

پہلی نظر میں اس منظر کو دیکھ کر شاید آپ کو یقین ہی نہ آئے کہ یہ کسی ریلوے اسٹیشن کی تصویر ہے۔ دور تک پھیلی ہوئی سبز گھاس...
23/08/2026

پہلی نظر میں اس منظر کو دیکھ کر شاید آپ کو یقین ہی نہ آئے کہ یہ کسی ریلوے اسٹیشن کی تصویر ہے۔ دور تک پھیلی ہوئی سبز گھاس، بڑے بڑے درخت اور خوبصورت باغیچے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سندھ کے کسی پرسکون باغ میں آ بیٹھے ہوں، لیکن جناب، یہ ٹنڈو آدم جنکشن ریلوے اسٹیشن ہے۔ اس اسٹیشن کی سب سے خوبصورت بات اس کے کشادہ اور سرسبز باغیچے ہیں، جہاں گھاس کی ہریالی اور درختوں کا سایہ مسافروں کو چند لمحوں کے لیے سفر کی تھکن بھلا دیتا ہے۔ ٹرین کا انتظار کرتے ہوئے اگر کوئی ایسی جگہ بیٹھنے کو مل جائے تو انتظار بھی بوجھ نہیں لگتا۔ شور شرابے اور دھوپ کے بجائے سامنے ہریالی ہو تو ریلوے اسٹیشن کا ماحول ہی بدل جاتا ہے۔

ٹنڈو آدم جنکشن کی یہ خوبصورتی خود بخود پیدا نہیں ہوئی۔ ان باغیچوں کو سرسبز رکھنے، گھاس کی دیکھ بھال کرنے اور اسٹیشن کے ماحول کو خوشگوار بنانے کے پیچھے یقیناً یہاں کے عملے کی محنت شامل ہے۔ پاکستان کے کئی ریلوے اسٹیشن وقت کے ساتھ اپنی رونق اور خوبصورتی کھو چکے ہیں، ایسے میں ٹنڈو آدم جنکشن کو اس طرح سرسبز و شاداب دیکھنا واقعی خوشی کی بات ہے۔ اس خوبصورت ماحول کو برقرار رکھنے پر ٹنڈو آدم جنکشن کے عملے کو داد دینا تو بنتا ہے۔

خان پور کا نام آتے ہی یہاں کے مشہور پیڑے یاد آ جاتے ہیں، لیکن ریلوے کے شوقین کے لیے اس شہر کی ایک اور پہچان بھی ہے۔ ایک ...
23/08/2026

خان پور کا نام آتے ہی یہاں کے مشہور پیڑے یاد آ جاتے ہیں، لیکن ریلوے کے شوقین کے لیے اس شہر کی ایک اور پہچان بھی ہے۔ ایک زمانے میں خان پور ایک اہم ریلوے جنکشن ہوا کرتا تھا، کیونکہ یہاں سے چاچڑاں شریف جانے والی برانچ لائن نکلتی تھی۔ یہ ریلوے لائن خان پور سے کوٹلہ پٹھان، ججہ عباسیاں اور ظاہر پیر سے ہوتی ہوئی چاچڑاں شریف تک جاتی تھی۔ وقت کے ساتھ یہ لائن بند ہوگئی اور اس کا ٹریک بھی اکھاڑ دیا گیا، یوں خان پور کا جنکشن اسٹیٹس بھی ماضی کا حصہ بن گیا۔

میرا خان پور جانا بھی ریلوے کے شوق میں ہوا۔ میں ریلوے فوٹوگرافی کے لیے یہاں پہنچا تو سوچا کہ جب خان پور آئے ہیں تو یہاں کے مشہور پیڑے بھی ضرور چکھنے چاہییں۔ ایک دوست مجھے شہر کی ایک دکان پر لے گیا اور کہا کہ خان پور کے پیڑے آزمانے ہیں تو یہیں سے لیتے ہیں۔ میں نے بھی پیڑے لیے اور سچ کہوں تو ذائقہ مجھے بہت پسند آیا۔ نرم، میٹھے اور دودھ کی خوشبو لیے یہ پیڑے واقعی خان پور کی خاص سوغات محسوس ہوئے۔

اب خان پور کے مقامی دوستوں سے ایک سوال ہے، کیا میں نے واقعی پیڑے کھانے کے لیے صحیح جگہ کا انتخاب کیا تھا؟ یا خان پور میں اس سے بھی بہتر پیڑے کہیں اور ملتے ہیں؟ اگر آپ خان پور کے رہنے والے ہیں تو اپنی رائے ضرور بتائیں، اگلی بار خان پور آؤں تو شاید ریلوے کے ساتھ ساتھ پیڑوں کی تلاش بھی پہلے سے بہتر ہو!

ریل گاڑی کے سفر کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ دیہی علاقوں سے گزرتے ہوئے ہرے بھرے کھیت کھلیان آنکھوں کو سکون دیتے ہیں۔ ساتھ ہ...
22/08/2026

ریل گاڑی کے سفر کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ دیہی علاقوں سے گزرتے ہوئے ہرے بھرے کھیت کھلیان آنکھوں کو سکون دیتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ کسانوں کی محنت بھی نظر آتی ہے۔ زمین کا سینہ چیر کے اناج اگانا آسان کام نہیں۔ اللہ سے دعا ہے ہمارے ملک کو ایسے ہی سر سبز و شاداب رکھے۔

22/08/2026

15 ستمبر سے سندھ کی لائف لائن موہنجو دڑو پسنجر ٹرین بحال کرنے کا اعلان۔ مبارک ہو!

میرا کراچی صرف روشنیوں، بلند عمارتوں اور سمندر کا شہر نہیں، یہ اُن لوگوں کا شہر بھی ہے جو اپنے خالی ہاتھوں میں خواب لے ک...
22/08/2026

میرا کراچی صرف روشنیوں، بلند عمارتوں اور سمندر کا شہر نہیں، یہ اُن لوگوں کا شہر بھی ہے جو اپنے خالی ہاتھوں میں خواب لے کر یہاں آتے ہیں اور محنت کے سہارے اپنی زندگی بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تقسیم کے بعد لاکھوں لوگ اس شہر میں آ کر بسے، پھر ملک کے مختلف حصوں سے روزگار کی تلاش میں آنے والے لوگوں نے کراچی کو مزید رنگوں اور زبانوں کا شہر بنا دیا۔ یہاں کسی کے پاس بڑی دکان ہے تو کوئی ریڑھی چلاتا ہے، کوئی بندرگاہ پر مزدوری کرتا ہے، کوئی بس چلاتا ہے، تو کوئی صبح سویرے اپنے بچوں کے لیے ناشتہ کمانے نکل پڑتا ہے۔ شاید اسی لیے کراچی کو صرف شہر کہنا کافی نہیں، یہ ایک امید ہے، ایک ایسا شہر جو غریب کو بھی اپنے دامن میں جگہ دیتا ہے اور اسے آگے بڑھنے کا موقع دیتا ہے۔ کراچی میں غربت ہمیشہ سے ایک حقیقت رہی ہے، لیکن اس شہر کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ بہت سے لوگ محنت، ہنر اور تعلیم کے ذریعے اپنی اگلی نسل کے لیے بہتر زندگی بنا سکے۔ میرا کراچی تھکا ہوا ضرور ہے، مشکلات میں گھرا ہوا ضرور ہے، مگر آج بھی اس کی سڑکوں پر لاکھوں لوگوں کے قدم ایک ہی امید کے ساتھ چلتے ہیں، شاید کل آج سے بہتر ہو۔ یہی میرا کراچی ہے، غریب پرور، محنت کشوں کا شہر، جہاں ہر آنے والا اپنے حصے کی ایک چھوٹی سی دنیا بنانے کا خواب لے کر آتا ہے۔

روہڑی جنکشن پر اس بھائی سے کیلے خریدے جو کہ بہت مزیدار تھے۔ سندھ کا کیلا اپنی مٹھاس کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔
22/08/2026

روہڑی جنکشن پر اس بھائی سے کیلے خریدے جو کہ بہت مزیدار تھے۔ سندھ کا کیلا اپنی مٹھاس کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pak Railography posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share