سیر و سیاحت

سیر و سیاحت قل سیروا فی الارض ۔۔۔
سفر وسیلہ ظفر ہے ۔۔
اپنے سفروں کی ?

09/09/2026

ہرنائی اسٹیشن کی تنہائی

سبًی ہرنائی ریل روٹ کا پارٹ 8

ہرنائی اور گردونواح
غڑمی کہاں ؟ پری چشمہ کدھر ؟
سبّی سے ہرنائی تک بلوچستان میں 1800 کلومیٹر
وام تنگی ندّی کی کہانی
10 شہروں کے ہرنائی سے فضائی و زمینی فاصلے

سال 2021 کے ہمارے سفر کا پہلا مرحلہ " سنّاٹوں کی مسیحائی "

میرا ایک شعر ہے کہ ،،
محل ہیں قائم شاہ گئے
کیسے کیسے عالی جاہ گئے
چھ مئی 2021 کی شام کے 5 بج رہے تھے جب میں ہم سفر کے ہمراہ ہرنائی ریلوے اسٹیشن کی پارکنگ میں اپنی ننھی جیپ کھڑی کرکے ہرنائی اسٹیشن کی کسی محل نما بلند وبالا شاندار عمارت میں داخل ہوا ،، عمارت بتاتی تھی کہ یقیناً اُس کی تعمیرِ نو ہوئی ہے ،، اسٹیشن زرد رنگ کا نیا چمکتا دمکتا لباس زیبِ تن کیے ہوئے تھا ،، ہم اُس سے سلام دعا کرتے ہوئے پلیٹ فارم پر پہنچے تو اُس کی شان اور جاہ و جلال نے ہمیں بہت متاثر کیا ،، پلیٹ فارم بھی کسی محل کے کشادہ صحن کی طرح بے داغ ، نفیس اور صاف ستھرا ،، میں نے پلیٹ فارم کے وسط میں کھڑے ہوکر چہار اطراف نظریں گھمائیں ،، اتنے وسیع و عریض پلیٹ فارم پر ہم سفر اور میرے علاوہ اور کوئی بھی دکھائی نہ دیا ،، بہترین طرزِ تعمیر کا شاہکار ہرنائی کا اسٹیشن مجھے بالکل یک و تنہا دکھائی دیا ،، بالکل ایسا لگا کہ کوئی سُونا سُونا مکان ہو جو مکینوں کے بنا کھڑا ہو اور بڑی کربناک تنہائی کا شکار ہو ،، ہرنائی کا یہ اسٹیشن تو کسی محل جیسی شان و شوکت کا حامل تھا لیکن ہر سو پھیلی ویرانی میں بالکل تنہا سر اُٹھائے کھڑا تھا ،، تب اُس کا زرد رنگ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ تنہائی نے اُس کے پورے سراپے کا خون نچوڑ لیا ہو اور یہ اکیلا پن اُس کے وجود کی سب سُرخی اور بشاشت کھا گیا ہو ،، اسٹیشن کی بلند وبالا زرد عمارت گویا انجانے دکھ کے باعث سکتے کے عالَم میں تھی ،، پلیٹ فارم آزردہ اور اُس کے سامنے بچھی پٹریاں گہری اداسی کا شکار ،،
اسٹیشن کی سب رونقیں تو ریل گاڑی کی آمد و رفت سے ہی ہوتی ہیں ،، ابھی میری گزشتہ قسط میں جب ریل گاڑی اسی ہرنائی اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر داخل ہوئی تو کس قدر والہانہ انداز سے اس عالیشان زرد چولا پہنے اسٹیشن نے ریل گاڑی کو بڑے پیار سے لپک کر اپنی گود میں اُٹھا لیا تھا ،، مسافروں اور ریل کا استقبال کرنے والے جمِّ غفیر کے لیے وسیع و عریض پلیٹ فارم نے اپنی باہیں وا کردی تھیں ،، اسٹیشن کے صحن میں ایک میلے کا سا سماں تھا ،، خوشیوں کے رنگ ہر سو دمکتے تھے ،، پلیٹ فارم کے سامنے بچھی پٹریاں ریل کے پہیوں سے پھوٹتے موسیقی کے سُروں کی ترنگ سے تھرکتی تھیں ،، غرضیکہ اِک جہانِ رنگ وبو یہاں آباد تھا ،،
جبکہ چھ مئی 2021 کی شام یہاں ہُو کا عالَم تھا ،،
ہر سُو بکھری ویرانی ، اِک عالَمِ ہُو
بس ہم اور تنہائی نہ کوئی رنگ نہ بُو
پھر اچانک ہمیں پٹری کے ساتھ ساتھ ایک سیاہ پوش بوڑھا شخص سیاہ چادر لپیٹے اورسر پر سیاہ پگڑی باندھے دور سامنے سے آتا دکھائی دیا ،،
ہم پٹری سے ذرا بلند پلیٹ فارم پر کھڑے اُسے دیکھ رہے تھے ،، وہ ہم سے کچھ قریب ہوا تو میں نے پلیٹ فارم کے کنارے پر پہنچ کر اُسے سلام کیا اور از راہِ مذاق اُس سے پُوچھا کہ " بھائی گاڑی کب آئے گی ؟ ہم کب سے یہاں انتظار میں کھڑے ہیں "
میرے اس غیر متوقّع سوال پر بوڑھا شخص بھونچکا ہوکر میرے سامنے رک گیا ،، پہلے تو ہاتھ اُٹھا کر اُس نے میرے زوردار سلام کا جواب دیا ،، پھر گویا ہوا
" گاڑی کدھر ؟ بہت عرصہ گزر گیا جب ادھر گاڑی چلتا تھا "
میں نے کہا کہ " بابا ! جب اسٹیشن موجود ہے ، پٹری بھی ہے تو گاڑی بھی تو چلنی چاہئیے نا ؟ "
" ہے تو سب کچھ ، لیکن معلوم نہیں کیا مسئلہ ہے ؟ کوئی گاڑی اب ادھر آتا ہی نہیں "
اتنا جواب دے کر وہ ایک قدم آگے بڑھا لیکن پھر حیرت سے ہم دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا کہ
" گاڑی تو ادھر آتا ہی نہیں ،، تم ادھر کس لیے آگیا ؟ "
اُس کے اس سوال پر میری رگِ شرارت پھڑک اٹھی
" بھائی ہم سڑک کے راستے یہاں آئے تھے ، سوچا تھا واپس ریل گاڑی سے چلے جائیں گے "
" ایسے خواہ مخواہ آگئے ، اِدھر کوئی گاڑی ماڑی نہیں آئے گا "
اُس نے ایک طرح سے ہمیں پکّی خبر دے دی اور پھر ہمارا ردّعمل دیکھنے کے لیے وہیں ٹہر کرمسکرا تے ہوئے ہمیں دیکھنے لگا
" چلیں ،، بہت اچھا کیا کہ آپ نے بتا دیا ،، اب واپس چلتے ہیں ہم "
میں نے اپنے تئیں اس پکّی خبر دینے پر اُس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہمارے حوالے سے اُس کی تشویش کو بھی رفع کردیا
بابا کے چہرے پر پہلے تو چند لمحوں تک مسکراہٹ بکھری اور چہرے پر خوشی دمکتی رہی کہ سنسان اسٹیشن پر گاڑی کا انتظار کرتے دو پریشان حال اجنبیوں کو درست صورتحال سے آگاہ کیا لیکن ہمیں یوں اپنے شہر کے ریلوے اسٹیشن سے مایوس و نامراد لوٹتے دیکھ کر اُس کی مسکان فوراً ہی اداسی میں بدل گئی ،، وہ اپنا سر جھکائے آگے بڑھ گیا ،، لیکن اُس کی یہ اُداسی دیکھ کر میں بھی کچھ دکھی ہوگیا کہ میں نے بابا سے ایسا مذاق کیوں کیا ،،
بوڑھا شخص تو اپنی راہ پر چلتا بنا البتّہ اُس کے سامنے سے ایک چھوٹا بچّہ ہمیں آتا دکھائی دیا جو ایک نظر بوڑھے شخص اور پلیٹ فارم پر ٹہلتے ہوئے ہم دونوں پر ڈالتا ہوا بنا رُکے آگے پٹری کے ساتھ بنی کچی راہ پر چلتا چلا گیا ،،
بعد ازاں ہم پلیٹ فارم کے آغاز پر نصب اسٹیشن کی نام کی تختی کے پاس کھڑے سیلفی لے رہے تھے تو نوجوانوں کی ایک ٹولی پلیٹ فارم سے کچھ دوری سے ریلوے لائن پار کرنے والی کچی راہ پر سے گزرتی ہوئی ہمارے قریب سے ہوکر پلیٹ فارم پر آپہنچی ،، یقیناً وہ بھی اس تجسّس میں ہوں گے کہ بھلا ایک اجنبی جوڑی کا ویران پلیٹ فارم اور اس اسٹیشن سے کیا لینا دینا ؟؟ وہ بولے تو کچھ نہیں بس حیرت زدہ نظروں سے ہم پر اچٹتی سی نگاہیں ڈال کرآگے بڑھ گئے ،،
ہم کچھ دیر پلیٹ فارم اور اسٹیشن کی حدود میں گھومتے پھرے ،، وہ اسٹیشن جو کبھی مسافروں کی چہل پہل اور ریل گاڑی کی آمدورفت کا گواہ ہوا کرتا تھا اب صرف اسٹیشن کے دونوں اطراف رہنے والے شہر کے باسیوں کے ادھر ادھر آنے جانے کی گزرگاہ بنا ہوا تھا ،،
سبط حسن صبا کا شعر ہے
دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن سے رستہ بنا لیا
یہاں بھی معاملہ کچھ اسی نوعیت کا تھا کہ اسٹیشن کہتا تھا
بند ہوئی ریل تو شہر باسیوں نے پھر
میرے در و دیوار کو رستہ بنا لیا
ہم نے خود یہ مشاہدہ کیا کہ لوگ اسٹیشن کے ایک طرف سے آتے اور عمارت سے نکل کر دوسری طرف چلے جاتے ،،
اسٹیشن کی یہ نو تعمیر شدہ عمارت اور اس کے سامنے سجا پلیٹ فارم تو شاندار تھا لیکن پٹریوں کے پار مال گاڑیوں والا پلیٹ فارم اپنی قدیم حالت میں اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا ،،
بہرحال اسٹیشن کی نو تعمیر شدہ عمارت اور پلیٹ فارم کی کیفیت سے امید کی ایک کرن خیال میں جگمگاتی تھی کہ جیسے 2006 میں یہاں چہل پہل ہوتی تھی اور ریل گاڑی کی سیٹی کی آواز اسٹیشن کے گردوپیش رہنے والوں کو سنائی دیتی تھی یہی اچھّے دن ان شاء اللہ ایک بار پھر ضرور آئیں گے اور ہرنائی کے مکین صرف 93 کلومیٹر دور واقع سبّی کے میدانوں تک جا پائیں گے اور اُن کی زرعی اراضی پر کاشت کی جانے والی اجناس و سبزیاں اور باغات کے تازہ پھلوں کی صوبے اور ملک کی دیگر منڈیوں تک آسان رسائی بھی ممکن ہوسکے گی ،،
سبّی ہرنائی ریل روٹ کی گزشتہ قسط میں ہم نے آپ کو اپنے اسی سفر کے بارے میں بتایا تھا کہ ہم 27 فروری 2021 کو سبّی سے نکلے اور سات روز تک بلوچستان میں ہی طویل سفر کے بعد 1800 کلومیٹر طے کرنے کے بعد 6 مارچ 2021 کو ہرنائی اسٹیشن پہنچے تھے ،، چلیں مختصراً یہ کہانی بھی سناتے چلیں کہ ہم نے ایک ہفتے تک بلوچستان میں کہاں کہاں کی خاک چھانی ؟
پہلے تو 27 فروری کی صبح سےدوپہر تک اپنے دوست حسن ناصر کے ہمراہ ناڑی ڈیم اور سبّی اسٹیشن سمیت شہر کے کچھ اور معروف مقامات کی سیر کرتے رہے ، دوپہر کو ایک بجے کے بعد سبّی کے دونوں دوستوں حسن ناصر اور قدرت اللہ لاشاری کے ہمراہ سبّی سے نکلے تو شام تک بی بی جانی کے مزار اور پھر بولان ندّی کے علاوہ کول پور کے ریلوے سٹیشن پر بھی گھوم پھر لیے ،، ہمارے دونوں دوست اپنی گاڑی میں ہماری رہنمائی کے لیے ہمارے آگے آگے تھے ،، انہوں نے ہمارے لیے شب کے قیام کا بندوبست مچھ میں ہی کرنا تھا ،، چنانچہ ہم کولپور سے واپس مچھ پہنچے ،، مچھ میں اُن کے جس دوست نے ہمارے قیام کا بندوبست کرنا تھا اُن سے تلاشِ بسیار اور رابطے کی ہرممکن کوشش کے باوجود ملاقات نہ ہوپائی ،،چنانچہ ہم خانہ بدوشوں نے وہیں مچھ میں ہی سڑک کنارے ایک ریسٹورنٹ کے کمرے میں رات گزارنے کی حامی بھرکر دونوں دوستوں کو الوداع کہہ دیا اور وہ واپس سبّی روانہ ہوگئے ،، یوں 27 فروری کی شب مچھ میں گزری ، صبح صبح مچھ سے نکلے تو کولپور ، سپیزند اور کوئٹہ کے قریب سے ہوتے ہوئے لک پاس کی طرف مڑ گئے اور وہاں سے براستہ نوشکی دالبندین جاپہنچے ،،28 فروری 2021 کی شب ہم نے دالبندین میں بسر کی ، وہاں سے یکم مارچ کی صبح نکلے تو نوک کنڈی سے ہوتے ہوئے سہ پہر کے کچھ دیر بعد پاک ایران سرحدی قصبے تفتان میں وارد ہو گئے ،، یکم مارچ کی شب تفتان میں قیام کیا ،، 2 مارچ کو تفتان سے نکلے اور دوبارہ دالبندین پہنچ گئے ،، 2 مارچ کی شب پھر دالبندین میں رُکے ،، 3 مارچ کی صبح دالبندین سے چلے تو کوئٹہ جا پہنچے ،، پیارے دوست عزیز احمد جمالی سے پہلی بار ملاقات ہوئی ،، گو کی ملاقات بہت مختصر رہی لیکن بہت یادگار اور شاندار رہی ،، ان تمام دنوں اور ملاقاتوں کی سب تفصیل سنّاٹوں کی مسیحائی نامی میرے سفرنامے میں مل جائے گی کہ جس کا سلسلہ سبّی ہرنائی والے اس روٹ کے قصّے مکمل کرنے کے بعد میں قسط وار بیان کروں گا ،، بہرحال 3 مارچ کی شب کوئٹہ میں بسر کی ،، 4 مارچ کی صبح کوئٹہ کو خیرآباد کہہ کرشیلا باغ اسٹیشن سے ہوتے ہوئے چمن پہنچ گئے ،، رات چمن میں ہی گزاری اور 5 مارچ کی صبح وہاں سے چلے تو بوستان اسٹیشن کی سیر کرتے ہوئے شام سے قبل زیارت پہنچ گئے ،، یہ ایک یخ شب تھی جو ہم نے زیارت میں گزاری ،، 6 مارچ 2021 کی صبح براستہ دوزخ تنگی ہم سہ پہر تک ہرنائی پہنچ گئے ،، سامان ایک ریسٹ ہاؤس میں رکھ کر کچھ تازہ دم ہوئے تو شام 5 بجے ہرنائی اسٹیشن سے ملاقات کے لیے چلے آئے ،، میں نے وڈیو میں ان تمام مقامات کے فاصلے نقشوں کی صورت دکھا دئیے ہیں جو کہ 1800 کلومیٹر سے بھی کچھ زائد ہی بنتے ہوں گے ،،
اب بات ہو جائے ہرنائی کے محلّ وقوع اور یہاں کے ندّی نالوں کی کہ ہمارے اس ریل روٹ اور ندّی نالوں کا ساتھ راستے بھر ایک تسلسل سے جاری وساری رہا ،، ہماری ریل روٹ کی اس کہانی کا پورا فوکس بھی اسی پر ہے کہ ہم ریلوے لائن، سبًی تا ہرنائی کے پورے راستے اور اس سے جُڑے معاملات پر ہی توجہ مرکوز رکھیں ،،
سب سے پہلے ہرنائی ریلوے اسٹیشن سے کچھ قبل آنے والے آخری پُل کے نیچے سے گزرنے والی غڑمی ندّی کا کھوج لگاتے ہیں ،، غڑمی کا سرسبز و زرخیز قصبہ ہرنائی کے شمال مشرقی مضافات میں واقع ہے ،غڑمی اور اُس کے مزید شمال میں واقع کان نامی قصبے کی پہاڑیوں میں سے متعدد جھرنے اور چشمے نکلتے ہیں جن کے ملاپ سے یہ حسین صاف شفاف گنگناتی ندّی جنم لیتی ہے اور علاقے کے سرسبز کھیت کھلیانوں کے بیچ سے گھومتی پھرتی ہرنائی کے شمال مشرق سے ہوتی ہوئی ہرنائی شہر کے مشرق میں پہنچ کر ریل اور سڑک کے الگ الگ پلوں کے نیچے سے ہوتی ہوئی ذرا آگے بڑھ کر ہرنائی کے مغربی سمت سے ہو کر شہر کے جنوب کے پہاڑوں کے دامن دامن جنوب مشرق کی جانب بڑھنے والی وام تنگی ندّی میں جاملتی ہے ،، غڑمی کا قصبہ ہرنائی کے شمال مشرق میں محض 5 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے ،، اپنے 2021 کے سفر کے دوران 7 مارچ کی دوپہر کا بیشتر وقت ہم نے غڑمی ندّی کی سنگت میں ہی گزارا تھا ،، ہرنائی میں ہمیں کوئٹہ کے رہائشی جس دوست کے توسّط سے یہاں پڑاؤ کے لیے ٹھکانہ ملا تھا ،، ہمارے کوئٹہ والے دوست کے وہ دوست ہماری آمد سے قبل ہی کسی ضروری مصروفیت کی بنا پر کسی اور شہر گئے ہوئے تھے ،، اس لیے ہم ہرنائی میں ایک اجنبی کی طرح وارد ہوئے اور اجنبیوں کی صورت ہی تھوڑا بہت گھوم پھر کر 8 مارچ کی صبح صبح یہاں سے براستہ سنجاوی ، لورالائی اور قلعہ سیف اللہ ژوب کی طرف چلے گئے تھے ،، یہاں کے معروف تفریحی مقام پری چشمے کی بابت پتہ تو چلا لیکن پتہ بتانے والے نے ہمیں یہ بھی خبر دے دی کہ ایک تو وہاں کا راستہ بہت خراب ہے اور دوسرا آجکل کچھ سیکورٹی کے مسئلہ بھی ہے ،، سو ہماری وہاں تک رسائی کی خواہش ابھری تو ضرور لیکن پھر ماند ہوکر دم توڑ گئی ،، کسی شہر میں کوئی شناسا نہ ہو تو ایسے دکھ تو جھیلنے پڑ ہی سکتے ہیں ،، سبّی ہرنائی ریل روٹ پر سفر کی تشنگی میں پری چشمہ نہ جا پانے کی تشنگی بھی شامل ہوگئی ،، ہم مسافر ان تشنگیوں کو بھی اللہ کی نعمت سمجھتے ہیں کہ یہی تشنگیاں جس علاقے سے وابستہ ہوں وہاں کسی نہ کسی وقت مستقبل میں دوبارہ سفر کرکے پہنچنے کا بہانہ بن جاتی ہیں ،، تشنگیوں کے ایسے تجربوں اور پھر اُن کے بہترین ازالے کے لیے کیے گئے متعدد سفر میرے سفروں کے خزانے کی پوٹلی میں محفوظ ہیں الحمدللہ ،،
اب آتے ہیں وام تنگی ندّی کی کہانی کی طرف کہ ہرنائی پہنچنے کے بعد جسے سنانے کا ہم نے وعدہ کیا تھا ،، ہرنائی کے شمال مغرب میں واقع بلند پہاڑوں کے اندر گھومتی پھرتی ایک ندّی ان پہاڑوں کی جنوبی حد پر موجود وام تنگی نامے ایک چٹانی درّے تک پہنچتی ہے اور پھر جب وہاں سے نکل کر وادی ہرنائی کی جانب جنوب مشرق میں اترتی پہاڑوں کے ڈھلوانی میدانوں کا رخ کرتی ہے تو وام تنگی نامی درّے کی وجہ سے اس کا نام وام تنگی ندّی کہلاتا ہے ،، ہرنائی کے شمال مغرب میں ہرنائی شہر سے تقریباً گیارہ بارہ کلومیٹر کے فضائی فاصلے کی دوری پر موجود وام تنگی درّے سے وام تنگی ندّی کی کہانی شروع ہوتی ہے ،، ان ڈھلوانوں سے مختلف نالوں کی صورت پھیل کر کشادہ پاٹ میں اترتی ندّی جب ہرنائی کے قریب تر ہوتی ہے تو شہر کو بارش کے دنوں میں اس کے سیلابی پانیوں اور ندی سے نکلتے نالوں کی طغیانی سے خطرہ درپیش آسکتا ہے ،، اس خطرے سے بچاؤ کے لیے زیادہ تر مدد تو قدرت نے ہرنائی شہر کو اُس کے ارد گرد موجود پہاڑیوں کی صورت فراہم کر رکھی ہے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ہرنائی شہر کے قریب ہی شمال مغرب اور مغربی سمت یہ پہاڑیاں موجود تھیں ،، اسی طرح شمال میں بھی پہاڑیاں تھیں لیکن شمال مغربی پہاڑیوں اور شمالی پہاڑیوں کے درمیان سوا کلومیٹر چوڑا وام تنگی ندّی کا پاٹ تھا ،، ندّی کے پاس نیچے نشیب میں جانے کے لیے دو ہی راستے تھے ، ایک راستہ ہرنائی کی شمال مغربی اور مغربی پہاڑیوں کے ساتھ ساتھ جنوب کی طرف جاتا تھا اور دوسرا ہرنائی کے شمال مغرب میں واقع پہاڑیوں اور شمال میں موجود پہاڑیوں کے درمیان سے جنوب مشرق کا رخ کرتا تھا ،، دراصل ہرنائی کو سیلاب و طغیانی سے محفوظ رکھنے کے لیے سوا کلومیٹر چوڑے اس راستے کو بند کرنا بہت ضروری تھا ،، چنانچہ دونوں پہاڑی سلسلوں کے بیچ کنکریٹ کی مضبوط دیوار کی صورت ایک ہرنائی حفاظتی بند تعمیر کیا گیا جس کی وجہ سے وام تنگی ندّی کے اصل اور بڑے بہاؤ کا رخ ہرنائی کے مغرب سے ہوکر جنوب میں موجود بلند پہاڑوں کے دامن تک ہوگیا ،، ندّی کا ہرنائی شہر کے مغرب سے ہو کر جنوب میں پہنچ جانا یوں بھی بہترین تھا کہ شہر کے شمال مغرب اور مغرب میں پہاڑیوں کی صورت قدرتی ڈھالیں بھی موجود تھیں ،، چند کمزور سے نالے وام تنگی ندّی سے نکل کر اس حفاظتی بند کے دائیں بائیں سے ضرور ہرنائی شہر کے شمالی اور شمال مشرقی مضافاتی بستیوں کا رخ کرتے ہیں لیکن وہ بجائے نقصان پہنچانے کے وہاں کی زرعی اراضی کی زرخیزی و شادابی کے لیے قدرت کا ایک قیمتی خزانہ ہیں ،، وہ کھیت کھلیانوں کو سیراب اور وہاں رہنے والے کو سرشار کرتے ہیں ،، خیر تو یوں وام تنگی ندی ہرنائی شہر کے مغرب سے ہوتی ہوئی جنوب میں موجود بلند پہاڑی سلسلے کے دامن میں جا پہنچتی ہے ،، یہاں چند پل رک کر پری چشمہ کے محلِّ وقوع کی بات کرلیتے ہیں ،، ہرنائی کے جنوب میں پہنچ کر جن بلند پہاڑوں کے دامن کے ساتھ ساتھ وام تنگی ندّی جنوب مشرق کا رخ کرکے بہنا شروع کرتی ہے ،، پری چشمہ انہی پہاڑوں کے عقب میں واقع ہے ،، ہرنائی شہر کے بالکل جنوب میں وام تنگی ندّی پار کرنے کے فوراٌ بعد ایک مقام ایسا موجود ہے کہ جہاں سے بالکل مزید جنوب کا رخ کرلیں تو پری چشمہ محض سوا کلومیٹر کے فضائی فاصلے کی دوری پر واقع ہے لیکن ظاہر ہے کہ بلند پہاڑ پر سیدھا اوپر چڑھ کر اُس کے پار جانا اور پھر اس پہاڑ کے بھی عین عقب میں موجود دوسرے پہاڑ کو چڑھ کر اُسے بھی پار کرکے اُس کے عین درمیان موجود ایک ذرا نشیبی وادی میں واقع پہاڑ کی پرتوں میں سجے اوپر تلے دو تالابوں اور ایک آبشار سے سجے پری چشمہ نامی مقام تک پہنچنا تو ناممکن ہے ،، اس لیے ندّی کو پار کرکے ایک کٹھن اور دشوار گزار راہ پہاڑی سلسلے کے دامن میں وام تنگی ندّی کے پہلو بہ پہلو پہلے تو جنوب مشرق میں آگے بڑھتی ہے پھر جنوبی پہاڑی سلسلے کی مشرقی حد جو کہ بمشکل ڈیڑھ دو کلومیٹر بعد ہی آجاتی ہے وہاں پہنچ کر وام تنگی ندّی تو ہرنائی کے جنوبی مضافاتی علاقے کے ساتھ ساتھ جنوب کی طرف بڑھ جاتی ہے ،، جبکہ پری چشمہ جانے والی راہ کچھ دیر تک جنوب میں بڑھنے کے بعد اس پہاڑی سلسلے کے عقب میں جانے کے لیے آگے جاکر مغربی سمت گھوم جاتی ہے اور یہاں واقع چند چھوٹی چھوٹی بستیوں کے قریب سے ہوکر اس پہاڑی سلسلے کے عقب میں موجود اسی دوسرے پہاڑ کی درمیانی گھاٹی تک پہنچنے کے لیے مغرب سے پھر شمال کی طرف چڑھ جاتی ہے ،، گھوم پھر کر آنے والی یہ راہ ہرنائی شہر کے جنوب میں ندّی پار کرنے کے مقام سے تقریباً پانچ سے چھ کلومیٹر طویل ہے ،، شنید ہے انگریزوں کے راج کے دور میں کسی حسین گوری کو چشمے کے اریب قریب چشمے کے پانی سے لطف اندوز ہوتا دیکھ کر یہ مشہور ہوگیا کہ اس چشمے پر پریاں نہاتی ہیں ،، بعد ازاں انگریز دیو یہاں سے نکل بھاگا تو پریاں بھی اُس کے ساتھ ہی رخصت ہوگئیں البتہ پری چشمہ نام ایسا مشہور ہوا کہ زبان زدِ عام ہوگیا ،، اس مقام کی ساخت بھی بہت منفرد اور انوکھی ہے کہ پہاڑ کی اوپر تلے موجود پرتوں میں سے ایک اوپر والی پرت میں پہاڑ کی جڑوں میں سے یہ چشمے پھوٹتے ہیں ، اس طرح ایک حسین وجمیل شیشے جیسا شفاف
تالاب تو عین ان چشموں کے پھوٹنے کے مقام پر بن جاتا ہے اور پھر اِس اوپر والی پرت سے خاصا نشیب میں ایک اور تالاب یوں وجود میں آتا ہے کہ اوپر والے تالاب کے بھر جانے کے بعد اضافی پانی اُس پرت کی حد سے ایک بڑے پرنالے کی صورت نیچے گرتا رہتا ہے ،، اس طرح ایک دلکش آبشار یا جھرنے کی صورت سے اوپر والے تالاب سے پانی نشیب میں مسلسل دوسرے تالاب میں گرتا رہتا ہے ،، یہی پری چشمے کے اس مقام کی انفرادیت ہے کہ اوپر تلے دو تالاب ، ایک آبشار اور اوپر والے تالاب میں چٹانی پرتوں کی جڑ ون سے پھوٹتے صاف شفاف پانی کے دلنشیں جھرنے ،،
لوٹتے ہیں وام تنگی ندّی کی کہانی کی طرف ،، وام تنگی ندی ان پہاڑوں کے ساتھ ساتھ پہلے تو جنوب مشرق کو چلی پھر ابھی ہرنائی شہر کر جنوب میں اس کے سامنے ہی تھی کہ شہر کے مشرق میں شمال مشرق سے اترنے والی غڑمی ندی ریل اور سڑک کے دو پلوں کے نیچے سے ہوکر مزید جنوب میں پہنچ کر وام تنگی ندی میں شامل ہوگئی ، غڑمی ندی کو اپنے اندر شامل کرکے ہرنائی کے جنوبی پہاڑی سلسلے کی مشرقی حد پر پہنچ کر وام تنگی ندّی کو ایک بار پھر جنوب میں پیش قدمی کا موقع مل گیا ،، ہرنائی کے جنوبی مضافاتی علاقے کے مغرب میں اُس کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ کر وام تنگی ندّی جنوب میں موجود سپین تنگی کی طویل پہاڑی پٹّی کی شمال مغربی حد تک پہنچ گئی ،، یہاں موجود ایک تنگ درّے میں سے ہوکر وام تنگی ندی سپین تنگی کی طویل پہاڑی پٹّی کے عقب میں جا پہنچی لیکن یہاں اُس کے سامنے موجود سپین تنگی ندّی کی دوسری طویل پہاڑی پٹّی نے اُس کا راستہ روک لیا ،، جنوب کی طرف بڑھنے کے لیے اب کوئی مزید درّہ نہ تھا چنانچہ اب آگے بڑھنے کا ایک ہی راستہ تھا کہ سپین تنگی ندّی کی ان دونوں پہاڑی پٹّیوں کے درمیان ہی جنوب مشرق کی طرف چلا جائے ،، ان دونوں پہاڑی پٹّیوں کی درمیانی جگہ اتنی زیادہ تنگ بھی نہ تھی کہ ندّی کو وہاں پھنس پھنسا کر آگے بڑھنا پڑتا ،، راستے میں کہیں کہیں اتنی زیادہ کشادگی بھی ہوتی کہ ندّی کے کسی بھی ایک طرف چھوٹی سی بستی اور اُس کے باسیوں کے کھیت کھلیان بھی موجود ہوتے ،، بہرحال ندّی ان دونوں طویل پہاڑی پٹّیوں کے بیچ ہی سفر کرنے پر مجبورتھی ،، بالآخر وام تنگی ندّی کا یہ طویل سفر اپنے اختتام کی طرف بڑھ گیا جب اُسے اپنے سامنے ریلوے لائن کا وہ پُل نظر آگیا کہ جس کے نیچے سے گزر کر اُسے شمال مغرب سے اترنے والی سپین تنگی ندّی کو اپنے اندر شامل کرکے اپنا ڈاڈا رکھ کر اپنا آگے کا سفر جاری رکھنا تھا ،، ریلوے لائن کے اس پُل کے نیچے سے گزر کر پُل کے مشرق میں سپین تنگی ندّی سے ملن کے مقام پر پہنچ کر وام تنگی ندّی کی کہانی اختتام کو پہنچی ،، اس مقام سے آگے پیشقدمی کرنے والی ڈاڈا ندّی کی کہانی ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں ،،
ہرنائی پہنچ کر میں غور کررہا تھا کہ جنوب میں موجود سبّی کی طرح ہرنائی کے باقی اطراف میں کون کون سے معروف شہر ہیں ، اُن کے ہرنائی سے فضائی فاصلے کتنے ہیں اور زمینی فاصلے بذریعہ سڑک کتنے ہیں تو سبّی سمیت میں نے ہرنائی کے چہار اطراف واقع 10 مختلف شہروں کا ایک جائزہ لیا اور گوگل کے نقشوں کی مدد سے اُن کے فاصلے دیکھے تو یہ حیرت انگیز حقیقت سامنے آئی کہ سبّی وہ واحد شہر ہے کہ فضائی فاصلے کے مقابلے میں اُس کا بذریعہ سڑک زمینی فاصلہ ہرنائی سے سب سے زیادہ ہے ،، نیچے ان شہروں کے نام اور فاصلے درج ہیں
کوہلو ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 126کلومیٹر ، بذریعہ سڑک 215 کلومیٹر ، فرق 89 کلومیٹر
میوند ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 90 کلو میٹر ، بذریعہ سڑک 284 کلومیٹر ، فرق 194 کلومیٹر
سبّی ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 63 کلومیٹر ، بذریعہ سڑک 327 کلومیٹر ، فرق 264 کلومیٹر
دُکّی ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 58 کلومیٹر ، بذریعہ سڑک 92 کلومیٹر ، فرق 34 کلومیٹر
سنجاوی ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 41 کلومیٹر ، بذریعہ سڑک 58 کلومیٹر ، فرق 17 کلومیٹر
لورالائی ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 73 کلومیٹر ، بذریعہ سڑک 91 کلومیٹر، فرق 18 کلومیٹر
چاؤتر ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 26 کلومیٹر ، بذریعہ سڑک براستہ زیارت 87 کلومیٹر ، فرق 61 کلومیٹر ، براستہ سنجاوی 91 کلومیٹر ، فرق 65 کلومیٹر
زیارت ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 36 کلومیٹر ، بذریعہ سڑک 63 کلومیٹر، فرق 27 کلومیٹر
کوئٹہ ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 89 کلومیٹر، بذریعہ سڑک 168 کلومیٹر ، فرق 79 کلومیٹر
مچھ ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 64 کلومیٹر ، بذریعہ سڑک 232 کلومیٹر ، فرق 168 کلومیٹر
فضائی اور زمینی فاصلے کا اتنا زیادہ فرق دیکھ کر اندازہ ہوا کہ فاصلوں کا یہی بڑا فرق دونوں شہریوں کے باسیوں کو مجبور کرتا ہے کہ بے چارے مجبوراً ندیوں کے پانیوں کو عبور کرکے تو کہیں انتہائی دشوار گزار پہاڑی درّوں اور گھاٹیوں میں چڑھتے اترتے تو کہیں مجبوراََ بمشکل ریلوے لائن تک پہنچ کر ان کے اوپر سے ہی خطرہ مول لے کر اپنی گاڑیوں کو پٹری پر سے گزارتے ہرنائی سے سبّی اور سبّی سے ہرنائی کے زمینی سفر پر مجبور ہو جاتے ہیں ،،
اپنی اگلی اور اس سیریز کی آخری قسط میں ہم ذکر کریں گے اس تباہ حال راہ کا جو ندی نالوں اور ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ چل کر ایک شہر سے دوسرے تک پہنچ پاتی ہے ،،

جاری ہے ،،

ملتے ہیں اگلی قسط میں ان شاء اللہ

#سنّاٹوں کی مسیحائی

05/09/2026

سُناڑی تا ہرنائی
سبّی ہرنائی ریل روٹ کا پارٹ 7

ندی کنارے سناڑی کا چھوٹا سا جنگل
اُگ رہا ہے بیچ پٹری کے بھی سبزہ طارق
پر رونق بازار کے درمیاں سے گزرتی ریلوے لائن

سال 2021 کے ہمارے سفر کا پہلا مرحلہ " سنّاٹوں کی مسیحائی "

سُناڑی اسٹیشن کا تباہ حال پلیٹ فارم لیکن اسٹیشن کے اردگرد ہرے بھرے کھیت اور کھلیان ، یہاں کی سب زرخیزی مرہونِ منّت ہے شمال مغرب سے اترنے والی آدم منڈا کے نالوں کی ،، ریلوے لائن نے یہاں سے نکل کر یکے بعد دیگرے آدم منڈا کے دو نالوں کو پار کیا ، ابھی تین مزید نالوں نے جنوب کی طرف اتر کر ریلوے لائن کے بائیں جانب بہتی ندّی سے ملنا تھا ،، یہ ندّی دراصل مزید آگے ملنے والے تین نالوں کی وجہ سے ہی وجود میں آئی تھی ،،
دو نالے پار کرنے کے بعد ریلوے لائن بائیں سمت مڑی اور خود ہی ندّی عبور کرکے سپین تنگی کی پہاڑی پٹًی کے پاس پہنچ گئی ،، ریلوے لائن نے جو پل پار کیا وہ دربلی پُل کہلاتا ہے ،، پُل پر داخل ہوتے ہی دائیں جانب ندّی کے کشادہ پاٹ میں لمبی لمبی گھاس اور خود روجنگلی پودوں کا ایک چھوٹا سا گھنا جنگل موجود ہے ،، دراصل یہاں ندّی کے پاٹ کے دائیں جانب ایک بڑا نشیبی میدان موجود ہے جس میں بارش کے دنوں میں آدم منڈا کے نالوں سے اترنے والے سیلابی پانی کے ساتھ آنے والی زرخیز مٹّی تہہ در تہہ جمع ہوگئی ہے اور یہاں مستقل طور پر اس قدرتی جنگل کی صورت اختیار کرگئی ہے ،، یہی زرخیز مٹّی ندّی کے کشادہ پاٹ کے عین درمیان بھی ایک ننھے سے جزیرے کی صورت اکٹھی ہوگئی ہے جس کے باعث پُل کے بائیں جانب بھی اس جزیرے میں اُگی ہوئی گھاس اور پودے لہلہاتے دکھائی دیتے ہیں ،، پُل کے بالکل آغاز میں دائیں جانب والے چھوٹے سے جنگل اور پھر ندی کے پاٹ میں پُل کے بائیں جانب موجود ہریالی نے اس پل کے دونوں اطراف کے نظاروں کو بہت دلکش بنادیا ہے ،، پُل پار کرنے کے فوراً ہی بعد آدم منڈا کا تیسرا نالا شمال سے اتر کر ریلوے لائن کے دائیں جانب بہتی ندّی میں آملا ،، ریلوے لائن اب اپنے بائیں جانب موجود پہاڑی پٹّی کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہی تھی ،، کچھ ہی آگے بڑھے تو سپین تنگی کی پہاڑی پٹّی اور اُس سے متصل چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کا سلسلہ شمال مغرب کے بجائے مغربی سمت مڑنا شروع ہوگیا ،، اِدھر شمال سے آدم منڈا کے مزید دو نالوں کو نیچے جنوب کی سمت اترنا تھا اس لیے ریلوے لائن بھی بائیں جانب کی پہاڑیوں کے ساتھ مغربی سمت گھومتی چلی گئی ،، آدم منڈا کے پہلے دو نالے بھی ریلوے لائن کے دائیں جانب اتر گئے تو ان دونوں نالوں کی وجہ سے ہی وجود میں أنے والی ندّی کا بھی اختتام ہوا ،، یہیں سے ہرنائی کی جنوبی مضافاتی علاقے کے میدانوں اور اس میں پھیلے ہوئی زرعی اراضی ، کھیت کھلیانوں اور چھوٹی چھوٹی بستیوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ،، پہاڑی پٹّی مغرب کی طرف بڑھتی چلی گئی جبکہ ریلوے لائن نے ہرنائی شہر تک پہنچنے کے لیے ہرنائی کے جنوبی مضافاتی علاقے میں پہنچتے ہی شمال کا رخ کرلیا ،، دونوں اطراف ہرے بھرے درخت اور پودے ، اُن کے عقب میں پھیلے سرسبز کھیت ،،
سن 2006 سے 2023 تک اس ریل روٹ کی 17 سالہ طویل بندش کے دوران اس میدانی علاقے سے گزرنے والی ریلوے لائن زمین میں دفن ہوگئی تھی جسے دوبارہ زندہ کرنے کے لیے دو سے تین فٹ تک کھدائی کرکے باہر نکالا گیا تھا ،، اس لیے یہاں دونوں اطراف موجود کھیت کھلیان اور باغات ذرا بلند تھے ،، ان زرعی زمینوں سے رِس کرآنے والے پانی اور کہیں کہیں ریلوے لائن کے درمیان سے پھوٹ نکلنے والے سیم کے پانی کے باعث کہیں کہیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پٹری کسی کیچڑ بھرے نالے میں بچھی ہوئی ہو ،، گردوپیش تو بھرپور ہریالی تھی ہی ،، ریلوے لائن کے درمیان بھی گھاس اور چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں اگی ہوئی تھیں ،،
مرزا غالب ایک بار جب ہرے بھرے بنگال میں سفر کررہے تھے تو کہا تھا کہ
اُگ رہا ہے درودیوار پہ سبزہ غالب
یہاں یہ کیفیت تھی
اُگ رہا ہے بیچ پٹری کے سبزہ طارق
دونوں اطراف بکھرے باغات کے درخت اور لہلہاتے پودے جابجا ریلوے لائن کے دونوں اطراف اتنا قریب آجاتے کہ لگتا پٹری کسی جنگل کے درمیان پہنچ گئی ہو ،، فضائیں باغوں کے درختوں کی خوشبو سے مہکتی تھیں ،،
ندّی نالوں ، چشموں ، جھرنوں اور آبشاروں کی حسین سرزمین ہرنائی کی لاجواب زرخیزی بلاشبہ قابلِ دید ہے ،،
ہرنائی اور سناڑی دونوں ہی زمین کی اس زرخیزی اور پانی کی فراوانی کے باعث اپنے بہترین پھلوں ، سبزیوں اور دیگر اجناس کی پیداوار کے حوالے سے مشہور ہیں ، اور جس کا ثبوت گردوپیش کے نظاروں کے ساتھ ساتھ خود گھاس اور پودوں سے لپٹی ریلوے لائن کی اپنی کیفیت دے رہی تھی ،، بستیوں کو آپس میں ملانے والی اور ہرنائی شہر تک جانے والی کچی راہیں بھی ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ چلتی تھیں ،، کہیں کسی چھوٹی سی آبادی کے گھر ریلوے لائن کے قریب موجود ہوتے تو بچّے اور بچًیاں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت ٹرین کے گزرنے کے منظر کا لطف اٹھاتے دکھائی دیتے ،، ان ہی کھیت کھلیانوں اور چھوٹی چھوٹی بستیوں سے گزرتی ہوئی ریلوے لائن اس ریل روٹ کے 19 ویں اور آخری پُل تک پہنچ گئی ،،
اس پُل کے نیچے سے گزرنے والی ندّی کا نام گوگل میپ میں پالوسِن ہے ، میں اِسے غڑمی ندّی کہوں تو بہتر ہوگا کیونکہ ہرنائی کے شمال اور شمال مشرقی مضافاتی علاقے میں واقع غُڑمی قصبے سے نکل کر صاف شفاف پانی کی یہ ندّی یہاں پہنچتی ہے اور پھر مزید جنوب میں بڑھ کر وام تنگی ندّی میں جاملتی ہے ،، مقامی لوگ اِس ندّی کو سُر پُل ندّی بھی کہتے ہیں کہ انگریزوں نے سر خ اینٹوں کے بڑے بڑے پختہ ستون بنا کر اُن پر ریلوے لائن کا یہ پُل بنایا تھا ،، سُرخ اینٹوں کا سُر پُل کے ساتھ مل کر اس ندّی کا نام بن گیا ،، بنا کسی حفاظتی ریلنگ کے صرف اینٹوں اور پتھروں کے ستونوں پر موجود ریلوے لائن کا یہ اچھا خاصا طویل پُل بہت بے مثال ہے ،، ریلوے لائن کے بائیں جانب یعنی جنوبی سمت قریب ہی سڑک کا پختہ پُل بھی موجود ہے ،،
پُل پار کرکے آگے بڑھی تو ریلوے لائن ہرنائی شہر کی حدود میں داخل ہوگئی ،، پہلے تو دونوں اطراف آبادی شروع ہوئی ، پھر جوں جوں شہر کے گنجان آباد حصّے میں داخل ہوئی شہر کی گہما گہمی اور چہل پہل کا آغاز ہوگیا ،، ریلوے لائن کے دونوں اطراف بازار ، منڈیاں ، دکانیں ، ٹھیلے اور ریڑھیاں بڑھتی چلی گئیں ،، شہر کی رونقوں کے بیچ سے گزرتی ہوئی ریلوے لائن بالآخر کچھ ہی دیر میں ہرنائی اسٹیشن کی حدود میں داخل ہوگئی ،، اسٹیشن کی شاندار عمارت اور صاف ستھرا بڑا پلیٹ فارم دائیں جانب موجود ،، بائیں جانب سامان کی نقل و حمل کے لیے بنایا گیا ذرا بدحال پلیٹ فارم کہ جس کی چھت آہنی شیڈز سے بنی تھی ،، دونوں پلیٹ فارمز پر لوگوں کی بڑی تعداد ٹرین اور اُس کے مسافروں کو خوش آمدید کہنے کے لیے موجود ،، ہرنائی ریلوے اسٹیشن کی یہ نئی عمارت 2017 یا 2018 میں تعمیر کی گئی تھی ،، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت کا اس ریلوے روٹ کو بحال کرنے کا ارادہ اور منصوبہ تو طے تھا ،،
ہم بھی 6 مارچ 2021 کو ہرنائی اسٹیشن پر موجود تھے لیکن تب یہ ریلوے روٹ بحال نہیں ہوا تھا ،، یہاں پہنچنے سے قبل ہم 27 فروری 2021 کو سبّی جنکشن کے اسٹیشن پر تھے ،، سبّی سے ہرنائی تک سڑک کے ذریعے آنے والا صاف ستھرا اور محفوظ راستہ کوئٹہ سے ہوکر ہی پہنچتا ہے جو کہ تقریباً 328 کلومیٹر طویل ہے ،، مختصر ترین راستہ اس ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ ہی ندّیوں میں سے ہی گھومتا پھرتا ، پانیوں میں سے گزر کر جابجا ندّیوں کو پار کرتا اور پر پیچ پہاڑی درّوں اور گھاٹیوں کی کٹھن اور پتھریلی راہوں سے گزرتا ہرنائی پہنچتا ہے وہ تقریباً سو کلومیٹر لمبا ہے ،، لیکن بارش کے دنوں میں جب ندّی نالے پہاڑوں سے اترتے سیلابی پانی کو ساتھ لے کر طغیانیوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو اس راستے پر سفر ناممکن ہو جاتا ہے ،، ہم سبّی سے چلے تو
تقریباً 1800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے ہرنائی پہنچے ،، ایسا کیونکر ہوا ؟ جبکہ ہم بلوچستان کی حدود میں ہی رہے اور وہیں سفر کرتے رہے ،، یہ بتائیں گے آپ کو اگلی قسط میں ان شاءاللہ ،،
ہرنائی اور اس کے گردونواح ، چاروں سمتوں میں موجود دس شہروں تک کے فاصلے اور وہاں تک رسائی کے راستوں کی تفصیل کے علاوہ ہرنائی کے دو معروف تفریحی مقامات پری چشمہ اور غڑمی کے محلِّ وقوع کے ساتھ ساتھ وام تنگی ندّی کی کہانی بھی آپ کو سنانی ہے ،، یہ سب ان شاء اللہ اگلی قسط میں ،،
فی الحال صرف اتنا کہ سُناڑی سے ہرنائی تک کیسے پہنچے
سناڑی اسٹیشن کے ڈیڑھ کلومیٹر بعد 16 واں پل
سولہویں پل کے ڈیڑھ کلومیٹر بعد 17 واں پل
سترھویں پل کے سوا کلومیٹر بعد 18 واں پل
اٹھارویں پل کے سوا 9 کلومیٹر بعد 19 واں اور آخری پل
آخری پل کے ایک کلومیٹر بعد ہرنائی اسٹیشن
سناری تا ہرنائی کا فاصلہ ساڑھے 14 کلومیٹر ، سبّی سے ہرنائی کا کل فاصلہ 93 کلومیٹر جبکہ ہرنائی کی سطح سمندر سے بلندی 3000 فٹ ہے ،، سبّی سطحِ سمندر سے محض 430 فٹ بلند ہے ،، اس طرح ہرنائی تک ریلوے لائن 2570 فٹ مزید بلند ہوگئی

جاری ہے

#سنّاٹوں کی مسیحائی

30/08/2026

سپین تنگی تا سُناڑی
سبّی تا ہرنائی ریل روٹ ،، پارٹ 6

اپنے 2021 کے سفرکا پہلا مرحلہ " سنّاٹوں کی مسیحائی "

ریلوے لائن کی دیکھ بھال کرنے والے محنت کشوں کو سلام
لائم اسٹون سے بنے دیوہیکل انڈے کا نظارہ
ویرانی و بیابانی ختم ہریالی و زرخیزی کا آغاز
ندّی کنارے حسین چراگاہیں اور کھیت کھلیان

سپین تنگی سے شمال کی سمت بڑھے ، نئے منظر نگاہوں کے سامنے سجنا شروع ہوئے ، نظاروں کا بھی عجب کھیل ہوتا ہے ، آگے بڑھتے ہوئے سامنے کا کوئی دلکش نظارہ رفتہ رفتہ قریب آنے لگتا ہے تو دل میں پیدا ہونے والی خوشی کی کیفیت دوچند ہوجاتی ہے ،، اسی خوشی کی تلاش میں منظرباز کی نگاہیں عموماً سامنے کی سمت ہی تکتی رہتی ہیں ،، میں بچپن میں جب بھی ٹرین میں سفر کرتا تھا تو کوشش کرتا تھا کہ اُس کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھوں کہ جس طرف سے ٹرین کے آگے بڑھنے والے نظارے دکھائی دیتے ہوں تاکہ دور آگے جوخوش کن نظارہ دکھائی دے وہ جلدی سے قریب آتا جائے ، جب نگاہیں اُسے اپنے اندر سما لیں تو وہ کسی نئے خوبصورت منظر کو دور آگے تلاش کرنا شروع کردیں اور دل اُس کے جلد ازجلد قریب تر ہونے کی چاہ میں بے تاب ہونے لگے ،، اس کے برعکس کبھی اپنی من پسند سیٹ نہ مل پاتی تو ایک عجیب سی اداسی سوچ پر چھا جاتی کہ کوئی پیارا منظر اچانک سامنے تو ضرور آتا لیکن پھر تیزی سے نگاہوں سے دور ہوتا چلا جاتا ،، کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا کہ میں ٹرین کے بائیں یا دائیں جانب کی کھڑکی کے پاس بیٹھا ہوتا اور ڈبّے کی دوسری طرف والی کھڑکی پر بھی نظر ڈالتا کہ دیکھوں تو دوسری طرف کیا نظارے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اور یہ محسوس کرتا کہ زیادہ تر حسین مناظرتو دوسری طرف بکھرے ہوئے ہیں تو دل مسوس کر رہ جاتا ، خاص طور پر پہاڑوں کے درمیان گھومتی پھرتی راہ پر کسی بس یا وین میں سفر کرتے وقت کبھی میری سیٹ ایسی کھڑکی والی ہوتی کہ جہاں سڑک کی وہ طرف مسلسل پہاڑوں کے ساتھ چلتی رہتی تو ایسا محسوس ہوتا کہ کھڑکی کے ساتھ ساتھ ایک دیوار چل رہی ہے جو نگاہوں اور مناظر کے سامنے حائل ہوگئی ہو جبکہ دوسری جانب نشیب میں بہتی ندی یا دریا کے گردوپیش کے سب نظارے دور دور تک دکھائی دے رہے ہوتے اور جب کہیں دریا یا ندی کو کسی پُل کے ذریعے بس یا وین پار کرلیتی اور ندی یا دریا میری کھڑکی کی طرف آجاتا تو گویا کہیں قیدمنظر یکایک کُھل جاتے ، اور پھرجونہی منظر آزاد ہوتے تو اداسی سے مضمحل ہوتی میری آنکھیں فوراً مناظر کی اس آزادی کی خوشی میں شریک ہوکر پوری طرح کُھل کر ہشّاش بشّاش ہو جاتیں ،،کبھی میں دیکھتا کہ کسی بھی طرف کی کھڑکی کے باہر انتہائی حسین و دلکش نظارے تو بکھرے ہوئے ہیں لیکن اس کھڑکی کے ساتھ بیٹھے شخص کو اُن نظاروں سے کوئی دلچسپی نہیں تو دل بہت دکھی ہو جاتا اور میری خواہش ہوتی کہ اپنی سیٹ سے اُٹھوں اور اُس شخص سے اپنی سیٹ بدل لوں ،، یہ سب سوچیں صرف بچپن کی حد تک نہیں رہیں بلکہ تاحال بھی قائم و دائم ہیں ،،
سپین تنگی اسٹیشن سے چلے تو آگے کے مناظر دیکھنے کے ساتھ ساتھ ہم نے پیچھے چھوڑتے نظاروں کی طرف عقب میں نگاہیں گھمائیں ،، پیچھے نگاہوں سے رفتہ رفتہ دور ہوتا اسٹیشن اور گردوپیش کے نظارے ،، لیکن یہاں نظاروں کے حوالے سے سوچ کا ایک نیا در بھی کھلتا ہے کہ قدرت کا کینوس اتنا عظیم اور وسیع و عریض ہوتا ہے کہ جہاں نظر صرف ارد گرد کے قریبی نظاروں تک محدود نہیں رہتی ،، اس کی وسعت اتنی لامحدود ہوتی ہے کہ پیچھے چھوڑتے قریب کے مناظر کے ساتھ دور دور تک بکھرے مناظر بھی قدرت کے اس عظیم کینوس پر سجے دکھائی دیتے ہیں ،، اور آپ صرف سامنے کی سمت ہی دیکھتے رہنے کی وجہ سے اُن کا لطف اٹھانے سے محروم رہ جاتے ہیں ،، ایسا ہی ایک منظر اسٹیشن کی حدود سے دو ڈھائی کلومیٹر آگے جانے کے بعد ہمیں اپنے عقب میں دکھائی دیتا ہے کہ جب سپین تنگی اسٹیشن کے مشرق میں پھیلے لائم اسٹون کا سلسلہ کوہ ایک ایسے زاویے سے نگاہوں کے سامنے سجتا ہے کہ گویا ایک دیوہیکل انڈہ دور کہیں رکھا ہو اور اُس کی اوپری ہموار بیضوی سطح آپ کو نظر آرہی ہو ،، اندازہ ہوا کہ عقب میں دور اپنی ہیئت بدلتے اچھوتے نظاروں کی دلکشی بھی بہت بے مثال اور لاجواب ہوتی ہے ،، بے شک قدرت کے عظیم کینوس پر سجے حسین مناظر ہر سمت سے ہی بھرپور کشش اور جدّت رکھتے ہیں ،، نگاہیں بھی ایک حد تک ہی دیکھ پاتی ہیں ، ایک وقت میں دائیں ، بائیں ، سامنے ،پیچھے ، اوپر یا نیچے لیکن قدرت کے عظیم الشان کینوس پر یہ اچھوتے اور حسین مناظر بیک وقت ان سب سمتوں میں پھیلے اور بکھرے ہوتے ہیں ،، ان سب نظاروں میں سے اپنی نگاہوں کی محدودیت کی حد تک ہی ہم دیکھ پاتے ہیں ،، بے شک خالقِ کائنات کی عظمت و کبریائی لامحدود ہے ،، سچّی بات ہے کہ اللہ جب کبھی مجھے ان انمول قدرتی مناظر تک رسائی کا موقع فراہم کرتا ہے تو میری نگاہیں ممکنہ حد تک چار سو گھومتی پھرتی ہیں اور قلب و نظر سبحان اللہ العلیّ العظیم کی تسبیح پڑھتے رہتے ہیں ،،
لائم اسٹون کے پہاڑوں کا یہ سلسلہ مشرق سے مزید مشرق کی طرف خاصا طویل ہے لیکن یہاں جس زاویے سے نگاہیں اُسے دیکھ پارہی تھیں وہ صرف اُس کی مشرقی حد کی انتہا ہی تھی اس لیے وہ طویل سلسلہ کوہ ایک انڈے کی بیرونی سطح کی مانند ہی دکھائی دے رہا تھا ،،
کبھی ساتھ ساتھ چلتی ندّی اور ریلوے لائن کے بیچ کچھ قدرتی چراگاہیں وارد ہوجاتیں جہاں گایوں کا کوئی ریوڑ وہاں چَرتا پھرتا دکھائی دے جاتا تو کہیں صاف شفاف پانی ریلوے لائن کے قریب ہی ذرا نشیب میں بہتا نظرآتا ،، کبھی اس شفاف ندّی میں بھیڑ بکریاں بھی پانی سے اپنی پیاس بجھا کر خود کو سرشار کرتی دکھائی دے جاتیں ،، ندًی ریلوے لائن کے دائیں جانب تھی جبکہ بائیں جانب سپین تنگی کی طویل پہاڑی پٹّی سے متصل چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں موجود تھیں ،، ایک مقام پر اچانک بائیں جانب والی یہ پہاڑیاں سیاہی مائل مٹی کی پہاڑیوں میں بدل گئیں ،، ریلوے لائن کے نیچے موجود سطحِ زمین بھی اسی مٹّی جیسی رنگت کی ہوگئی ،، مٹی کی ان پہاڑیوں والا یہ حصہ لینڈ سلائیڈنگ والا ایریا ہے ،، ان پہاڑیوں کے بیچ میں سے ہی کہیں کہیں اُن کے عقب میں موجود طویل پہاڑی پٹّی سے نکلنے والے چشمے اور نالے بھی دائیں جانب بہتی ندی کا رخ کرتے ہیں ،، گو کی ان نالوں کے لیے جابجا ریلوے لائن کے نیچے چھوٹی چھوٹی پلیاں بنائی گئی ہیں لیکن کہیں مٹّی سے بنی ان پہاڑیوں سے مٹّی پھسل پھسل کر ریلوے لائن پر آگرتی ہے تو کہیں لائن سے متصل بہتی ندّی اور بائیں جانب مٹی کی ان پہاڑیوں سے نیچے اترتے نالے مٹی کے اوپر بچھی لائن کی نیچے موجود زمین کی کٹاؤ کا باعث بن جاتے ہیں اور کہیں اس زمین میں شگاف بھی ڈال دیتے ہیں خاص طور پر بارش کے دنوں میں مٹی کی یہ پہاڑیاں اور یہ برساتی نالے اتنے خطرناک ہو جاتے ہیں کہ ریلوے لائن کے دھنس جانے اور بہہ جانے تک کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے ،، اسی لیے عمومًا اس مقام پر ریلوے کے گینگ مین اور مرمت کرنے والا عملہ موجود ہوتا ہے ،، عزیز احمد جمالی نے اس علاقے سے وابستہ اپنی ایک یاد کو تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ" سال 2001 میں اُن کا ایک دفعہ سپین تنگی جانا ہوا ،اسٹیشن سے ذرا پہلے ٹرین پٹری سے اتر گئی ، اسسٹنٹ کمشنر ہرنائی حفیظ جمالی اسی ٹرین میں سبّی جا رہے تھے۔ ریل کے ڈبوں کو دوبارہ پٹڑی پر چڑھانے کے لئے ریلیف ٹرین درکار تھی جو سبّی میں موجود تھی۔ اے سی صاحب انجن میں سوار ہوئے اور سبّی جا کر ریلیف ٹرین روانہ کی "
اسپین تنگی اسٹیشن سے تقریباً ساڑھے 8 کلومیٹر آگے بڑھنے کے بعد ریلوے لائن ندّی کو پار کرنے کے لیے پُل نمبر 15 پر پہنچ گئی ،، اسپین تنگی کے درّے سے گزر کر ہم چونکہ وادی ہرنائی میں داخل ہوچکے تھے اس لیے چہار اطراف پھیلی ویرانیوں اور سنّاٹوں کا زور اب کسی حد تک ٹوٹ چکا تھا ،، ندّی کے دونوں اطراف چراگاہیں اور چھوٹی چھوٹی بستیاں بھی موجود تھیں ،، اس کی گواہی ہمیں اِس پُل نے بھی دی ،،ایک طرف آہنی ریلنگ پر ایک شخص سکون سے چڑھا بیٹھا کھانےکی پوٹلی کھولے بیٹھا کچھ کھارہا تھا تو دوجی طرف پُل کے بڑے سے بلند پختہ ستون کی کشادہ جگہ پر ایک اور شخص اطمینان سے بیٹھا موبائل فون پر مصروفِ گفتگو تھا ،، ممکن ہے کہ یہ دونوں ریلوے کے کسی ٹھیکیدار کے ملازمین میں سے ہی ہوں ،، ہم نے اسپین تنگی پر پہنچنے کے بعد سے اب تک اس علاقے میں ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ چلنے والے ندّی نالوں کی بات نہیں کی تو آئیے ذرا کچھ پل اس پُل پر ٹہر کر اس علاقے کے گردوپیش کے ندی نالوں کی کھوج لگاتے ہیں ،،
سپین تنگی اسٹیشن کے مشرق میں واقع لائم اسٹون کے سلسلہ کوہ کے شمال سے کُریاک نامی ایک ندّی مشرق سے مغرب کی سمت گھومتی پھرتی سلسلہ کوہ کی مغربی انتہا تک پہنچ کر جنوب کا رُخ کرکے اسٹیشن کے مشرق میں کچھ ہی دوری پر نشیب میں بہتی اسپن تنگی ندّی سے آملتی ہے ،، ان دونوں ندیوں کے ملن کے مقام سے شمال کی طرف کچھ ہی آگے بڑھیں تو سناڑی اسٹیشن کے شمال مشرق میں موجود پہاڑوں سے اترنے والی تورائی نامی برساتی ندّی بھی جنوب مشرق کی طرف اتر کر اسپن تنگی ندّی میں شامل ہوجاتی ہے ،، مقامی زبان میں برساتی ندّی کو مَنڈا کہا جاتا ہے اس لیے اس خطّے میں یہ تورائی مَنڈا کہلاتی ہے ،، کُریاک ندّی اور تورائی مَنڈا کے ملاپ سے قبل اور اسپن تنگی تک پہنچنے سے پہلے شمال سے جنوب کی طرف ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ بہنے والی ندّی کا نام اسپین تنگی ندّی کا نام سراری ہوتا ہے ،، سراری ندّی میں ہی ریلوے لائن کے مغرب میں ساتھ ساتھ چلتی سپن تنگی کی طویل پہاڑی پٹّی سے اترنے والے ندّی نالے بھی شامل ہوتے رہتے ہیں ،، ہم جس پُل پر ٹہرے ہیں اْس پر سے سراری ندّی کو ہی عبور کرکے ریلوے لائن ندّی کے دائیں طرف مشرقی سمت آجاتی ہے ،، یوں سراری ندّی ریلوے لائن کے بائیں جانب شمال مغرب میں سُناڑی اسٹیشن کی طرف بڑھتی ہے ،، فی الوقت ہم ریلوے لائن کے سنگ سنگ بہتی ندیوں کی بات کررہے ہیں توسراری ندّی کے ساتھ اپنا سفر شمال مغرب کی سمت جاری رکھتے ہیں ،، سناڑی اسٹیشن تک کوئی اور ندّی دائیں جانب سے اتر کر سراری میں شامل نہیں ہوتی البتہ سُناڑی اسٹیشن کے مزید آگے بڑھیں تو سُناڑی اسٹیشن کے شمال مغرب کے پہاڑی سلسلے سے آدم منڈا نیچے اتر کرجنوب اور جنوب مشرقی سمت پھیلی پہاڑ کی ڈھلوانوں میں پہنچ کر 5 چھوٹے چھوٹے نالوں میں تقسیم ہوکر مزید جنوب اور جنوب مشرق کا رخ کرکے ریلوے لائن تک پہنچ جاتی ہے ،، آدم منڈا کے یہ پانچوں بچّے یکے بعد دیگرے ریلوے لائن کی قربت میں پہنچ کر اس کے ساتھ ساتھ شمال مغرب سے جنوب مشرق کی طرف بہتے ہیں ،، سُناڑی اور ہرنائی شہر کے جنوب مشرقی مضافاتی علاقوں کے کھیت کھلیانوں اور بستیوں تک پہنچنے سے قبل آدم منڈا سے نکلنے والے یہ نالے ہی ریلوے لائن کی شمال مشرقی سمت باقاعدہ ایک ندّی کی صورت اختیار کرتے ہیں جو کچھ آگے چل کر جنوب مغربی سمت میں واقع پہاڑی پٹّی سے اترنے والے نالوں کے ملنے کے بعد سراری نام رکھ کر جنوب مغرب تک بہتی پُل نمبر 15 کے نیچے سے گزرتی ہے ،، ان ندیوں کا تفصیلی نقشہ وڈیو میں موجود ہے ،،،
ریلوے لائن پُل نمبر 15 پار کرکے ندّی کی شمال مشرقی سمت پہنچی تو کچھ ہی آگے ریلوے لائن کے دائیں جانب بھی مٹّی کی پہاڑیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ،، ان پہاڑیوں کے پرے مزید شمال مشرق میں موجود پہاڑوں کی ڈھلوانوں سے نیچے نشیب کا رخ کرتے بارش کے پانی کے ریلے یہاں بھی ریلوے لائن پر مٹی کی پہاڑیوں سے لینڈ سلائیڈنگ کے ذریعے اُسے مٹّی تلے دبانے کی تخریب کاریاں کرتے رہتے ہیں ،، چنانچہ اس مقام پر بھی ریلوے لائن کو بحال رکھنے اور اُس کی مرمّت و اصلاح کی خدمات پر مامور محنت کش اپنے فرائض انجام دیتے نظر آتے ہیں ،، حقیقت یہ ہے کہ سبّی تا ہرنائی ریل روٹ پہاڑوں کی دشوار گزار گھاٹیوں اور اُن کے بیچ بہتے ندّی نالوں میں موجود انتہائی حسّاس اور مشکل ترین روٹ ہے کہ جسے معمولی سی بارش کے دوران پہاڑوں سے اترتے ندی نالوں اور شدید بارش کی صورت میں ندیوں میں آجانے والی طغیانی اورسیلابی ریلوں سے ہمیشہ تباہی و بربادی کا شدید خطرہ رہتا ہے ،، اتنی کٹھن راہوں پر ریلوے لائن کی بحالی اور اُسے ہمہ وقت درست رکھنے کی خدمات پر مامور ان گینگ من اور ریلوے کے مزدوروں اور محنت کشوں کو سلام کہ وہ انتہائی جاں فشانی سے اپنی اپنی جانوں کو خطروں سے دوچار کرکے یہ مشکل ترین فریضے انجام دیتے ہیں ،، تندوری اسٹیشن اور ببر کچھ اسٹیشن کے سفر کے دوران ہمیں ایک پُل کے آغاز پر ایک شہید گینگ مین واحد بخش کا یادگاری بورڈ دکھائی دیا تھا کہ جس میں اُس پُل کو شہید واحد بخش سے منسوب کیا گیا تھا کہ جس نے ایک ندی میں آنے والے ایک سیلابی ریلے کے باعث ایک جانب سے کمزور ہوکر انتہائی مخدوش ہوجانے والے پل کی حالت دیکھ کر اپنی جان کی پرواہ کیے بنا سیلابی ریلے کو پار کرکے پُل کے دوسری جانب جانے کی کوشش کی کیونکہ اُس سمت سے ایک ٹرین پُل تک پہنچنے والی تھی اور وہ اُسے پُل پر داخل ہونے سے روکنا چاہتا تھا کہ انسانی زندگیاں بچائی جاسکیں اور ساتھ ہی پُل بھی مکمل تباہی سے بچ پائے ،، اس کوشش میں وہ بے چارا دوسری طرف پہنچ پانے کے بجائے سیلابی ریلے کی نذر ہو کر شہید ہوگیا ،، چنانچہ یہ پل اُس شہید واحد بخش کے نام کردیا گیا ،،
ابھی ہم اپنی اس نئی قسط میں یہیں تک پہنچے تھے کہ سبّی کے ہمارے پیارے دوست حسن ناصر نے ناڑی ڈیم کے بعد موجود پہلی سرنگ کے کچھ آگے کا ایک وڈیو کلپ شیئر کیا کہ ندی کنارے سے گزرنے والی ریلوے لائن کے نیچے سے پوری کی پوری زمین کی غائب ہوگئی ہے اور ریلوے لائن ہوا میں جھول رہی ہے ،، ایک معمولی سی بارش کے بعد ایسی تباہی کا وڈیو کلپ دیکھ کر بے حد افسوس ہوا ،، میں نے اُن سے اس کی وجہ جاننا چاہی تو انہوں نے اربابِ اختیار کی نااہلی کی بابت جو کچھ بتایا وہ اس تباہی سے بھی زیادہ افسوسناک ہے ،، حسن ناصر کا کہنا ہے کہ ،،
'' سبًی ہرنائی ریل روٹ پر اس معیار کا کام کیا گیا تھا کہ پہلی عام بارش نے جگہ جگہ پٹری کی یہ حالت کردی۔ حکومت کا کبھی ارادہ نہیں تھا اس روٹ کو بحال کرنے کا ، مگر صرف دو اداروں کو نوازنا مقصود تھا اس لئے اس لاوارث روٹ کو چنا گیا ، تقریباً 45 ارب روپے اس روٹ پر ایک بارش کی حد تک لگائے گئے ، جیسے ہی بارش ہوئی پٹری کے ساتھ سکیورٹی کی مد کے دس ارب بھی ناڑی ندی میں غرق ہوگئے
اب اس روٹ پر 19 ارب سڑک کیلئے منطور ہوئے ہیں جس میں دس ارب ایک ادارے کو سکیورٹی کی مد میں دئیے جائیں گے اور 9 ارب کسی ٹھیکیدار کے ہاتھ سے صوبے کے کٹھ پتلی کرتا دھرتا کی جیب میں چلے جائیں گے "
اپنے 2021 کے اسی سفر کے دوران میں کوہاٹ سے سیدھا پشاور جانے کے بجائے درًہ خیبر سے لنڈی کوتل اور پاک افغان طورخم بارڈر تک گیا تھا ،، میں نے سڑک کے ساتھ ساتھ چلنے والی اس ریلوے لائن اور راہ میں آنے والے بیشتر ریل کے پُلوں کو تباہ و برباد حالت میں دیکھا ،، کئی مقامات پر بلندی پر دکھائی دیتی کسی سرنگ کے باہر سے یا کئی مقامات پر کسی تباہ شدہ پُل کے مقام پر ہوا میں جُھولتی ہوئی پٹریاں دیکھیں ،، ایک زمانہ تھا کہ پشاور سے لنڈی کوتل تک تاریخی خیبر سفاری ٹرین چلا کرتی تھی لیکن بعد ازاں یہ سلسلہ مئی 2007ء میں مکمل طور پر ختم ہوگیا ،، سیاحتی ٹرین پشاور سے چلتی اور پشاور ایئرپورٹ کے رن وے کو عبور کرتی ہوئی کوہِ خیبر کی 34 سرنگوں اور 92 پُلوں سے گزر کر لنڈی کوتل پہنچتی تھی۔ 2007ء میں سیکیورٹی کے سنگین حالات اور دہشت گردی کے خطرات کے باعث اسے مستقل طور پر بند کر دیا گیا ،، ٹرین بند ہونے کے فوراً بعد 2007ء اور 2008ء کے مون سون سیزن میں آنے والے شدید ترین سیلابوں اور پہاڑی ریلوں نے اس پورے ٹریک کو ملیا میٹ کر دیا ،، پہاڑی نالوں پر بنے کئی ریلوے پُل اور ان کے نیچے موجود حفاظتی بند یا زمین سیلابی پانی میں بہہ گئی۔ چونکہ لوہے کی پٹریاں آپس میں مضبوطی سے جڑی ہوئی تھیں، اس لیے نیچے سے زمین اور سپورٹ ختم ہونے کے باوجود وہ ہوا میں معلق رہ گئیں، جو آج بھی جگہ جگہ "جھولتی ہوئی" نظر آتی ہیں اور ایک عبرت ناک منظر پیش کرتی ہیں۔ٹرین کی بندش کے بعد محکمہ ریلوے نے اس ٹریک کی دیکھ بھال چھوڑ دی۔ کئی مقامات پر مقامی لوگوں نے زمینوں پر قبضے کر لیے، پٹریاں اور لوہا چوری ہو گیا اور کچھ حصوں پر نئی سڑکیں تعمیر کر دی گئیں ،، محکمہ سیاحت اور ریلوے حکام کی جانب سے اس تاریخی روٹ کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے کئی بار سروے کیے گئے، لیکن اربوں روپے کے فنڈز کی ضرورت اور پشاور ایئرپورٹ کے رن وے سے ٹریک گزرنے کے سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے پشاور سے لنڈی کوتل روٹ کو تاحال بحال نہیں کیا جا سکا۔ اللہ سبّی ہرنائی ریل سیکشن کو اپنی پناہ اور حفظ و امان میں رکھے ،، خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہاں ایک بار پھر صرف تباہ شدہ پل اور ہوا میں معلق پٹریاں ہی باقی رہ جائیں آمین !
حسن ناصر بھائی نے ہوا میں جھولتی پٹری کی تصویر بھیجی تو بات کہاں سے کہاں نکل گئی ،،، افسوس یہ ہے کہ ہم نے اپنے سابق آقا انگریزوں کی جانب سے بچھائی گئی ریلوے لائنوں کی کوئی دیکھ بھال نہ کی ،، کم ازکم قدیم اور تاریخی ریلوے روٹس کی حد تک ہی بجائے ترقی کا سفر طے کرنے کے ہم تنزّلی میں پھسلتے چلے گئے ،،
ریلوے لائن کی بحالی کا کام کرنے والے محنت کشوں کے پاس سے ہوکر کچھ ہی آگے بڑھے تو دونوں اطراف سُناڑی کے سرسبز کھیت کھلیانوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ،، ٹرین سُناڑی کے غیرفعّال چھوٹے سے تباہ حال پلیٹ فارم کے قریب سے گزری تو پلیٹ فارم پر موجود علاقے کے بچّوں بچّیوں اور نوجوانوں کی خوشی لائقِ دید تھی ،،،
ڈاڈا ندّی کی کہانی ادھوری رہ گئی تھی کیونکہ سپین تنگی کے درّے سے کچھ قبل پُل نمبر 14 سے پہلے وہ وام تنگی ندّی کے نام سے شمال مغرب سے بہتی چلی آرہی تھی ،، وام تنگی ندّی کہاں سے نکلی اور کیسے پل نمبر 14 تک پہنچی ،، پھر ہرنائی شہر کے اطراف کون کون سی ندّیاں ہیں ؟ یہ سب تفصیل ان شاء اللہ ہرنائی پہنچنے کے بعد ،،
سپین تنگی اسٹیشن سے سُناڑی اسٹیشن کے درمیان ،،
سپین تنگی اسٹیشن کے ساڑھے 8 کلومیٹر بعد 15 واں پل
پندرھویں پل کے پونے 3 کلومیٹر بعد سناڑی ہالٹ اسٹیشن
سپین تنگی تا سناری ہالٹ کا فاصلہ ساڑھے11 کلومیٹر ہے، سبّی سے کل فاصلہ ساڑھے 78 کلومیٹر ، سناڑی ہالٹ کی سطحِ سمندر سے بلندی 2475 فٹ ہے ، اس طرح اس مختصر سے فاصلے کے بعد ریلوے لائن سپین تنگی سے مزید 665 فٹ بلند ہوگئی ،،
سُناڑی اسٹیشن سے اپنے اس ریل روٹ کی آخری منزل ہرنائی تک سفر کریں گے ان شاء اللہ اگلی قسط میں ،،

#سنّاٹوں کی مسیحائی

Address

Karachi

Telephone

+923333659648

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سیر و سیاحت posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share