09/09/2026
ہرنائی اسٹیشن کی تنہائی
سبًی ہرنائی ریل روٹ کا پارٹ 8
ہرنائی اور گردونواح
غڑمی کہاں ؟ پری چشمہ کدھر ؟
سبّی سے ہرنائی تک بلوچستان میں 1800 کلومیٹر
وام تنگی ندّی کی کہانی
10 شہروں کے ہرنائی سے فضائی و زمینی فاصلے
سال 2021 کے ہمارے سفر کا پہلا مرحلہ " سنّاٹوں کی مسیحائی "
میرا ایک شعر ہے کہ ،،
محل ہیں قائم شاہ گئے
کیسے کیسے عالی جاہ گئے
چھ مئی 2021 کی شام کے 5 بج رہے تھے جب میں ہم سفر کے ہمراہ ہرنائی ریلوے اسٹیشن کی پارکنگ میں اپنی ننھی جیپ کھڑی کرکے ہرنائی اسٹیشن کی کسی محل نما بلند وبالا شاندار عمارت میں داخل ہوا ،، عمارت بتاتی تھی کہ یقیناً اُس کی تعمیرِ نو ہوئی ہے ،، اسٹیشن زرد رنگ کا نیا چمکتا دمکتا لباس زیبِ تن کیے ہوئے تھا ،، ہم اُس سے سلام دعا کرتے ہوئے پلیٹ فارم پر پہنچے تو اُس کی شان اور جاہ و جلال نے ہمیں بہت متاثر کیا ،، پلیٹ فارم بھی کسی محل کے کشادہ صحن کی طرح بے داغ ، نفیس اور صاف ستھرا ،، میں نے پلیٹ فارم کے وسط میں کھڑے ہوکر چہار اطراف نظریں گھمائیں ،، اتنے وسیع و عریض پلیٹ فارم پر ہم سفر اور میرے علاوہ اور کوئی بھی دکھائی نہ دیا ،، بہترین طرزِ تعمیر کا شاہکار ہرنائی کا اسٹیشن مجھے بالکل یک و تنہا دکھائی دیا ،، بالکل ایسا لگا کہ کوئی سُونا سُونا مکان ہو جو مکینوں کے بنا کھڑا ہو اور بڑی کربناک تنہائی کا شکار ہو ،، ہرنائی کا یہ اسٹیشن تو کسی محل جیسی شان و شوکت کا حامل تھا لیکن ہر سو پھیلی ویرانی میں بالکل تنہا سر اُٹھائے کھڑا تھا ،، تب اُس کا زرد رنگ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ تنہائی نے اُس کے پورے سراپے کا خون نچوڑ لیا ہو اور یہ اکیلا پن اُس کے وجود کی سب سُرخی اور بشاشت کھا گیا ہو ،، اسٹیشن کی بلند وبالا زرد عمارت گویا انجانے دکھ کے باعث سکتے کے عالَم میں تھی ،، پلیٹ فارم آزردہ اور اُس کے سامنے بچھی پٹریاں گہری اداسی کا شکار ،،
اسٹیشن کی سب رونقیں تو ریل گاڑی کی آمد و رفت سے ہی ہوتی ہیں ،، ابھی میری گزشتہ قسط میں جب ریل گاڑی اسی ہرنائی اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر داخل ہوئی تو کس قدر والہانہ انداز سے اس عالیشان زرد چولا پہنے اسٹیشن نے ریل گاڑی کو بڑے پیار سے لپک کر اپنی گود میں اُٹھا لیا تھا ،، مسافروں اور ریل کا استقبال کرنے والے جمِّ غفیر کے لیے وسیع و عریض پلیٹ فارم نے اپنی باہیں وا کردی تھیں ،، اسٹیشن کے صحن میں ایک میلے کا سا سماں تھا ،، خوشیوں کے رنگ ہر سو دمکتے تھے ،، پلیٹ فارم کے سامنے بچھی پٹریاں ریل کے پہیوں سے پھوٹتے موسیقی کے سُروں کی ترنگ سے تھرکتی تھیں ،، غرضیکہ اِک جہانِ رنگ وبو یہاں آباد تھا ،،
جبکہ چھ مئی 2021 کی شام یہاں ہُو کا عالَم تھا ،،
ہر سُو بکھری ویرانی ، اِک عالَمِ ہُو
بس ہم اور تنہائی نہ کوئی رنگ نہ بُو
پھر اچانک ہمیں پٹری کے ساتھ ساتھ ایک سیاہ پوش بوڑھا شخص سیاہ چادر لپیٹے اورسر پر سیاہ پگڑی باندھے دور سامنے سے آتا دکھائی دیا ،،
ہم پٹری سے ذرا بلند پلیٹ فارم پر کھڑے اُسے دیکھ رہے تھے ،، وہ ہم سے کچھ قریب ہوا تو میں نے پلیٹ فارم کے کنارے پر پہنچ کر اُسے سلام کیا اور از راہِ مذاق اُس سے پُوچھا کہ " بھائی گاڑی کب آئے گی ؟ ہم کب سے یہاں انتظار میں کھڑے ہیں "
میرے اس غیر متوقّع سوال پر بوڑھا شخص بھونچکا ہوکر میرے سامنے رک گیا ،، پہلے تو ہاتھ اُٹھا کر اُس نے میرے زوردار سلام کا جواب دیا ،، پھر گویا ہوا
" گاڑی کدھر ؟ بہت عرصہ گزر گیا جب ادھر گاڑی چلتا تھا "
میں نے کہا کہ " بابا ! جب اسٹیشن موجود ہے ، پٹری بھی ہے تو گاڑی بھی تو چلنی چاہئیے نا ؟ "
" ہے تو سب کچھ ، لیکن معلوم نہیں کیا مسئلہ ہے ؟ کوئی گاڑی اب ادھر آتا ہی نہیں "
اتنا جواب دے کر وہ ایک قدم آگے بڑھا لیکن پھر حیرت سے ہم دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا کہ
" گاڑی تو ادھر آتا ہی نہیں ،، تم ادھر کس لیے آگیا ؟ "
اُس کے اس سوال پر میری رگِ شرارت پھڑک اٹھی
" بھائی ہم سڑک کے راستے یہاں آئے تھے ، سوچا تھا واپس ریل گاڑی سے چلے جائیں گے "
" ایسے خواہ مخواہ آگئے ، اِدھر کوئی گاڑی ماڑی نہیں آئے گا "
اُس نے ایک طرح سے ہمیں پکّی خبر دے دی اور پھر ہمارا ردّعمل دیکھنے کے لیے وہیں ٹہر کرمسکرا تے ہوئے ہمیں دیکھنے لگا
" چلیں ،، بہت اچھا کیا کہ آپ نے بتا دیا ،، اب واپس چلتے ہیں ہم "
میں نے اپنے تئیں اس پکّی خبر دینے پر اُس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہمارے حوالے سے اُس کی تشویش کو بھی رفع کردیا
بابا کے چہرے پر پہلے تو چند لمحوں تک مسکراہٹ بکھری اور چہرے پر خوشی دمکتی رہی کہ سنسان اسٹیشن پر گاڑی کا انتظار کرتے دو پریشان حال اجنبیوں کو درست صورتحال سے آگاہ کیا لیکن ہمیں یوں اپنے شہر کے ریلوے اسٹیشن سے مایوس و نامراد لوٹتے دیکھ کر اُس کی مسکان فوراً ہی اداسی میں بدل گئی ،، وہ اپنا سر جھکائے آگے بڑھ گیا ،، لیکن اُس کی یہ اُداسی دیکھ کر میں بھی کچھ دکھی ہوگیا کہ میں نے بابا سے ایسا مذاق کیوں کیا ،،
بوڑھا شخص تو اپنی راہ پر چلتا بنا البتّہ اُس کے سامنے سے ایک چھوٹا بچّہ ہمیں آتا دکھائی دیا جو ایک نظر بوڑھے شخص اور پلیٹ فارم پر ٹہلتے ہوئے ہم دونوں پر ڈالتا ہوا بنا رُکے آگے پٹری کے ساتھ بنی کچی راہ پر چلتا چلا گیا ،،
بعد ازاں ہم پلیٹ فارم کے آغاز پر نصب اسٹیشن کی نام کی تختی کے پاس کھڑے سیلفی لے رہے تھے تو نوجوانوں کی ایک ٹولی پلیٹ فارم سے کچھ دوری سے ریلوے لائن پار کرنے والی کچی راہ پر سے گزرتی ہوئی ہمارے قریب سے ہوکر پلیٹ فارم پر آپہنچی ،، یقیناً وہ بھی اس تجسّس میں ہوں گے کہ بھلا ایک اجنبی جوڑی کا ویران پلیٹ فارم اور اس اسٹیشن سے کیا لینا دینا ؟؟ وہ بولے تو کچھ نہیں بس حیرت زدہ نظروں سے ہم پر اچٹتی سی نگاہیں ڈال کرآگے بڑھ گئے ،،
ہم کچھ دیر پلیٹ فارم اور اسٹیشن کی حدود میں گھومتے پھرے ،، وہ اسٹیشن جو کبھی مسافروں کی چہل پہل اور ریل گاڑی کی آمدورفت کا گواہ ہوا کرتا تھا اب صرف اسٹیشن کے دونوں اطراف رہنے والے شہر کے باسیوں کے ادھر ادھر آنے جانے کی گزرگاہ بنا ہوا تھا ،،
سبط حسن صبا کا شعر ہے
دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن سے رستہ بنا لیا
یہاں بھی معاملہ کچھ اسی نوعیت کا تھا کہ اسٹیشن کہتا تھا
بند ہوئی ریل تو شہر باسیوں نے پھر
میرے در و دیوار کو رستہ بنا لیا
ہم نے خود یہ مشاہدہ کیا کہ لوگ اسٹیشن کے ایک طرف سے آتے اور عمارت سے نکل کر دوسری طرف چلے جاتے ،،
اسٹیشن کی یہ نو تعمیر شدہ عمارت اور اس کے سامنے سجا پلیٹ فارم تو شاندار تھا لیکن پٹریوں کے پار مال گاڑیوں والا پلیٹ فارم اپنی قدیم حالت میں اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا ،،
بہرحال اسٹیشن کی نو تعمیر شدہ عمارت اور پلیٹ فارم کی کیفیت سے امید کی ایک کرن خیال میں جگمگاتی تھی کہ جیسے 2006 میں یہاں چہل پہل ہوتی تھی اور ریل گاڑی کی سیٹی کی آواز اسٹیشن کے گردوپیش رہنے والوں کو سنائی دیتی تھی یہی اچھّے دن ان شاء اللہ ایک بار پھر ضرور آئیں گے اور ہرنائی کے مکین صرف 93 کلومیٹر دور واقع سبّی کے میدانوں تک جا پائیں گے اور اُن کی زرعی اراضی پر کاشت کی جانے والی اجناس و سبزیاں اور باغات کے تازہ پھلوں کی صوبے اور ملک کی دیگر منڈیوں تک آسان رسائی بھی ممکن ہوسکے گی ،،
سبّی ہرنائی ریل روٹ کی گزشتہ قسط میں ہم نے آپ کو اپنے اسی سفر کے بارے میں بتایا تھا کہ ہم 27 فروری 2021 کو سبّی سے نکلے اور سات روز تک بلوچستان میں ہی طویل سفر کے بعد 1800 کلومیٹر طے کرنے کے بعد 6 مارچ 2021 کو ہرنائی اسٹیشن پہنچے تھے ،، چلیں مختصراً یہ کہانی بھی سناتے چلیں کہ ہم نے ایک ہفتے تک بلوچستان میں کہاں کہاں کی خاک چھانی ؟
پہلے تو 27 فروری کی صبح سےدوپہر تک اپنے دوست حسن ناصر کے ہمراہ ناڑی ڈیم اور سبّی اسٹیشن سمیت شہر کے کچھ اور معروف مقامات کی سیر کرتے رہے ، دوپہر کو ایک بجے کے بعد سبّی کے دونوں دوستوں حسن ناصر اور قدرت اللہ لاشاری کے ہمراہ سبّی سے نکلے تو شام تک بی بی جانی کے مزار اور پھر بولان ندّی کے علاوہ کول پور کے ریلوے سٹیشن پر بھی گھوم پھر لیے ،، ہمارے دونوں دوست اپنی گاڑی میں ہماری رہنمائی کے لیے ہمارے آگے آگے تھے ،، انہوں نے ہمارے لیے شب کے قیام کا بندوبست مچھ میں ہی کرنا تھا ،، چنانچہ ہم کولپور سے واپس مچھ پہنچے ،، مچھ میں اُن کے جس دوست نے ہمارے قیام کا بندوبست کرنا تھا اُن سے تلاشِ بسیار اور رابطے کی ہرممکن کوشش کے باوجود ملاقات نہ ہوپائی ،،چنانچہ ہم خانہ بدوشوں نے وہیں مچھ میں ہی سڑک کنارے ایک ریسٹورنٹ کے کمرے میں رات گزارنے کی حامی بھرکر دونوں دوستوں کو الوداع کہہ دیا اور وہ واپس سبّی روانہ ہوگئے ،، یوں 27 فروری کی شب مچھ میں گزری ، صبح صبح مچھ سے نکلے تو کولپور ، سپیزند اور کوئٹہ کے قریب سے ہوتے ہوئے لک پاس کی طرف مڑ گئے اور وہاں سے براستہ نوشکی دالبندین جاپہنچے ،،28 فروری 2021 کی شب ہم نے دالبندین میں بسر کی ، وہاں سے یکم مارچ کی صبح نکلے تو نوک کنڈی سے ہوتے ہوئے سہ پہر کے کچھ دیر بعد پاک ایران سرحدی قصبے تفتان میں وارد ہو گئے ،، یکم مارچ کی شب تفتان میں قیام کیا ،، 2 مارچ کو تفتان سے نکلے اور دوبارہ دالبندین پہنچ گئے ،، 2 مارچ کی شب پھر دالبندین میں رُکے ،، 3 مارچ کی صبح دالبندین سے چلے تو کوئٹہ جا پہنچے ،، پیارے دوست عزیز احمد جمالی سے پہلی بار ملاقات ہوئی ،، گو کی ملاقات بہت مختصر رہی لیکن بہت یادگار اور شاندار رہی ،، ان تمام دنوں اور ملاقاتوں کی سب تفصیل سنّاٹوں کی مسیحائی نامی میرے سفرنامے میں مل جائے گی کہ جس کا سلسلہ سبّی ہرنائی والے اس روٹ کے قصّے مکمل کرنے کے بعد میں قسط وار بیان کروں گا ،، بہرحال 3 مارچ کی شب کوئٹہ میں بسر کی ،، 4 مارچ کی صبح کوئٹہ کو خیرآباد کہہ کرشیلا باغ اسٹیشن سے ہوتے ہوئے چمن پہنچ گئے ،، رات چمن میں ہی گزاری اور 5 مارچ کی صبح وہاں سے چلے تو بوستان اسٹیشن کی سیر کرتے ہوئے شام سے قبل زیارت پہنچ گئے ،، یہ ایک یخ شب تھی جو ہم نے زیارت میں گزاری ،، 6 مارچ 2021 کی صبح براستہ دوزخ تنگی ہم سہ پہر تک ہرنائی پہنچ گئے ،، سامان ایک ریسٹ ہاؤس میں رکھ کر کچھ تازہ دم ہوئے تو شام 5 بجے ہرنائی اسٹیشن سے ملاقات کے لیے چلے آئے ،، میں نے وڈیو میں ان تمام مقامات کے فاصلے نقشوں کی صورت دکھا دئیے ہیں جو کہ 1800 کلومیٹر سے بھی کچھ زائد ہی بنتے ہوں گے ،،
اب بات ہو جائے ہرنائی کے محلّ وقوع اور یہاں کے ندّی نالوں کی کہ ہمارے اس ریل روٹ اور ندّی نالوں کا ساتھ راستے بھر ایک تسلسل سے جاری وساری رہا ،، ہماری ریل روٹ کی اس کہانی کا پورا فوکس بھی اسی پر ہے کہ ہم ریلوے لائن، سبًی تا ہرنائی کے پورے راستے اور اس سے جُڑے معاملات پر ہی توجہ مرکوز رکھیں ،،
سب سے پہلے ہرنائی ریلوے اسٹیشن سے کچھ قبل آنے والے آخری پُل کے نیچے سے گزرنے والی غڑمی ندّی کا کھوج لگاتے ہیں ،، غڑمی کا سرسبز و زرخیز قصبہ ہرنائی کے شمال مشرقی مضافات میں واقع ہے ،غڑمی اور اُس کے مزید شمال میں واقع کان نامی قصبے کی پہاڑیوں میں سے متعدد جھرنے اور چشمے نکلتے ہیں جن کے ملاپ سے یہ حسین صاف شفاف گنگناتی ندّی جنم لیتی ہے اور علاقے کے سرسبز کھیت کھلیانوں کے بیچ سے گھومتی پھرتی ہرنائی کے شمال مشرق سے ہوتی ہوئی ہرنائی شہر کے مشرق میں پہنچ کر ریل اور سڑک کے الگ الگ پلوں کے نیچے سے ہوتی ہوئی ذرا آگے بڑھ کر ہرنائی کے مغربی سمت سے ہو کر شہر کے جنوب کے پہاڑوں کے دامن دامن جنوب مشرق کی جانب بڑھنے والی وام تنگی ندّی میں جاملتی ہے ،، غڑمی کا قصبہ ہرنائی کے شمال مشرق میں محض 5 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے ،، اپنے 2021 کے سفر کے دوران 7 مارچ کی دوپہر کا بیشتر وقت ہم نے غڑمی ندّی کی سنگت میں ہی گزارا تھا ،، ہرنائی میں ہمیں کوئٹہ کے رہائشی جس دوست کے توسّط سے یہاں پڑاؤ کے لیے ٹھکانہ ملا تھا ،، ہمارے کوئٹہ والے دوست کے وہ دوست ہماری آمد سے قبل ہی کسی ضروری مصروفیت کی بنا پر کسی اور شہر گئے ہوئے تھے ،، اس لیے ہم ہرنائی میں ایک اجنبی کی طرح وارد ہوئے اور اجنبیوں کی صورت ہی تھوڑا بہت گھوم پھر کر 8 مارچ کی صبح صبح یہاں سے براستہ سنجاوی ، لورالائی اور قلعہ سیف اللہ ژوب کی طرف چلے گئے تھے ،، یہاں کے معروف تفریحی مقام پری چشمے کی بابت پتہ تو چلا لیکن پتہ بتانے والے نے ہمیں یہ بھی خبر دے دی کہ ایک تو وہاں کا راستہ بہت خراب ہے اور دوسرا آجکل کچھ سیکورٹی کے مسئلہ بھی ہے ،، سو ہماری وہاں تک رسائی کی خواہش ابھری تو ضرور لیکن پھر ماند ہوکر دم توڑ گئی ،، کسی شہر میں کوئی شناسا نہ ہو تو ایسے دکھ تو جھیلنے پڑ ہی سکتے ہیں ،، سبّی ہرنائی ریل روٹ پر سفر کی تشنگی میں پری چشمہ نہ جا پانے کی تشنگی بھی شامل ہوگئی ،، ہم مسافر ان تشنگیوں کو بھی اللہ کی نعمت سمجھتے ہیں کہ یہی تشنگیاں جس علاقے سے وابستہ ہوں وہاں کسی نہ کسی وقت مستقبل میں دوبارہ سفر کرکے پہنچنے کا بہانہ بن جاتی ہیں ،، تشنگیوں کے ایسے تجربوں اور پھر اُن کے بہترین ازالے کے لیے کیے گئے متعدد سفر میرے سفروں کے خزانے کی پوٹلی میں محفوظ ہیں الحمدللہ ،،
اب آتے ہیں وام تنگی ندّی کی کہانی کی طرف کہ ہرنائی پہنچنے کے بعد جسے سنانے کا ہم نے وعدہ کیا تھا ،، ہرنائی کے شمال مغرب میں واقع بلند پہاڑوں کے اندر گھومتی پھرتی ایک ندّی ان پہاڑوں کی جنوبی حد پر موجود وام تنگی نامے ایک چٹانی درّے تک پہنچتی ہے اور پھر جب وہاں سے نکل کر وادی ہرنائی کی جانب جنوب مشرق میں اترتی پہاڑوں کے ڈھلوانی میدانوں کا رخ کرتی ہے تو وام تنگی نامی درّے کی وجہ سے اس کا نام وام تنگی ندّی کہلاتا ہے ،، ہرنائی کے شمال مغرب میں ہرنائی شہر سے تقریباً گیارہ بارہ کلومیٹر کے فضائی فاصلے کی دوری پر موجود وام تنگی درّے سے وام تنگی ندّی کی کہانی شروع ہوتی ہے ،، ان ڈھلوانوں سے مختلف نالوں کی صورت پھیل کر کشادہ پاٹ میں اترتی ندّی جب ہرنائی کے قریب تر ہوتی ہے تو شہر کو بارش کے دنوں میں اس کے سیلابی پانیوں اور ندی سے نکلتے نالوں کی طغیانی سے خطرہ درپیش آسکتا ہے ،، اس خطرے سے بچاؤ کے لیے زیادہ تر مدد تو قدرت نے ہرنائی شہر کو اُس کے ارد گرد موجود پہاڑیوں کی صورت فراہم کر رکھی ہے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ہرنائی شہر کے قریب ہی شمال مغرب اور مغربی سمت یہ پہاڑیاں موجود تھیں ،، اسی طرح شمال میں بھی پہاڑیاں تھیں لیکن شمال مغربی پہاڑیوں اور شمالی پہاڑیوں کے درمیان سوا کلومیٹر چوڑا وام تنگی ندّی کا پاٹ تھا ،، ندّی کے پاس نیچے نشیب میں جانے کے لیے دو ہی راستے تھے ، ایک راستہ ہرنائی کی شمال مغربی اور مغربی پہاڑیوں کے ساتھ ساتھ جنوب کی طرف جاتا تھا اور دوسرا ہرنائی کے شمال مغرب میں واقع پہاڑیوں اور شمال میں موجود پہاڑیوں کے درمیان سے جنوب مشرق کا رخ کرتا تھا ،، دراصل ہرنائی کو سیلاب و طغیانی سے محفوظ رکھنے کے لیے سوا کلومیٹر چوڑے اس راستے کو بند کرنا بہت ضروری تھا ،، چنانچہ دونوں پہاڑی سلسلوں کے بیچ کنکریٹ کی مضبوط دیوار کی صورت ایک ہرنائی حفاظتی بند تعمیر کیا گیا جس کی وجہ سے وام تنگی ندّی کے اصل اور بڑے بہاؤ کا رخ ہرنائی کے مغرب سے ہوکر جنوب میں موجود بلند پہاڑوں کے دامن تک ہوگیا ،، ندّی کا ہرنائی شہر کے مغرب سے ہو کر جنوب میں پہنچ جانا یوں بھی بہترین تھا کہ شہر کے شمال مغرب اور مغرب میں پہاڑیوں کی صورت قدرتی ڈھالیں بھی موجود تھیں ،، چند کمزور سے نالے وام تنگی ندّی سے نکل کر اس حفاظتی بند کے دائیں بائیں سے ضرور ہرنائی شہر کے شمالی اور شمال مشرقی مضافاتی بستیوں کا رخ کرتے ہیں لیکن وہ بجائے نقصان پہنچانے کے وہاں کی زرعی اراضی کی زرخیزی و شادابی کے لیے قدرت کا ایک قیمتی خزانہ ہیں ،، وہ کھیت کھلیانوں کو سیراب اور وہاں رہنے والے کو سرشار کرتے ہیں ،، خیر تو یوں وام تنگی ندی ہرنائی شہر کے مغرب سے ہوتی ہوئی جنوب میں موجود بلند پہاڑی سلسلے کے دامن میں جا پہنچتی ہے ،، یہاں چند پل رک کر پری چشمہ کے محلِّ وقوع کی بات کرلیتے ہیں ،، ہرنائی کے جنوب میں پہنچ کر جن بلند پہاڑوں کے دامن کے ساتھ ساتھ وام تنگی ندّی جنوب مشرق کا رخ کرکے بہنا شروع کرتی ہے ،، پری چشمہ انہی پہاڑوں کے عقب میں واقع ہے ،، ہرنائی شہر کے بالکل جنوب میں وام تنگی ندّی پار کرنے کے فوراٌ بعد ایک مقام ایسا موجود ہے کہ جہاں سے بالکل مزید جنوب کا رخ کرلیں تو پری چشمہ محض سوا کلومیٹر کے فضائی فاصلے کی دوری پر واقع ہے لیکن ظاہر ہے کہ بلند پہاڑ پر سیدھا اوپر چڑھ کر اُس کے پار جانا اور پھر اس پہاڑ کے بھی عین عقب میں موجود دوسرے پہاڑ کو چڑھ کر اُسے بھی پار کرکے اُس کے عین درمیان موجود ایک ذرا نشیبی وادی میں واقع پہاڑ کی پرتوں میں سجے اوپر تلے دو تالابوں اور ایک آبشار سے سجے پری چشمہ نامی مقام تک پہنچنا تو ناممکن ہے ،، اس لیے ندّی کو پار کرکے ایک کٹھن اور دشوار گزار راہ پہاڑی سلسلے کے دامن میں وام تنگی ندّی کے پہلو بہ پہلو پہلے تو جنوب مشرق میں آگے بڑھتی ہے پھر جنوبی پہاڑی سلسلے کی مشرقی حد جو کہ بمشکل ڈیڑھ دو کلومیٹر بعد ہی آجاتی ہے وہاں پہنچ کر وام تنگی ندّی تو ہرنائی کے جنوبی مضافاتی علاقے کے ساتھ ساتھ جنوب کی طرف بڑھ جاتی ہے ،، جبکہ پری چشمہ جانے والی راہ کچھ دیر تک جنوب میں بڑھنے کے بعد اس پہاڑی سلسلے کے عقب میں جانے کے لیے آگے جاکر مغربی سمت گھوم جاتی ہے اور یہاں واقع چند چھوٹی چھوٹی بستیوں کے قریب سے ہوکر اس پہاڑی سلسلے کے عقب میں موجود اسی دوسرے پہاڑ کی درمیانی گھاٹی تک پہنچنے کے لیے مغرب سے پھر شمال کی طرف چڑھ جاتی ہے ،، گھوم پھر کر آنے والی یہ راہ ہرنائی شہر کے جنوب میں ندّی پار کرنے کے مقام سے تقریباً پانچ سے چھ کلومیٹر طویل ہے ،، شنید ہے انگریزوں کے راج کے دور میں کسی حسین گوری کو چشمے کے اریب قریب چشمے کے پانی سے لطف اندوز ہوتا دیکھ کر یہ مشہور ہوگیا کہ اس چشمے پر پریاں نہاتی ہیں ،، بعد ازاں انگریز دیو یہاں سے نکل بھاگا تو پریاں بھی اُس کے ساتھ ہی رخصت ہوگئیں البتہ پری چشمہ نام ایسا مشہور ہوا کہ زبان زدِ عام ہوگیا ،، اس مقام کی ساخت بھی بہت منفرد اور انوکھی ہے کہ پہاڑ کی اوپر تلے موجود پرتوں میں سے ایک اوپر والی پرت میں پہاڑ کی جڑوں میں سے یہ چشمے پھوٹتے ہیں ، اس طرح ایک حسین وجمیل شیشے جیسا شفاف
تالاب تو عین ان چشموں کے پھوٹنے کے مقام پر بن جاتا ہے اور پھر اِس اوپر والی پرت سے خاصا نشیب میں ایک اور تالاب یوں وجود میں آتا ہے کہ اوپر والے تالاب کے بھر جانے کے بعد اضافی پانی اُس پرت کی حد سے ایک بڑے پرنالے کی صورت نیچے گرتا رہتا ہے ،، اس طرح ایک دلکش آبشار یا جھرنے کی صورت سے اوپر والے تالاب سے پانی نشیب میں مسلسل دوسرے تالاب میں گرتا رہتا ہے ،، یہی پری چشمے کے اس مقام کی انفرادیت ہے کہ اوپر تلے دو تالاب ، ایک آبشار اور اوپر والے تالاب میں چٹانی پرتوں کی جڑ ون سے پھوٹتے صاف شفاف پانی کے دلنشیں جھرنے ،،
لوٹتے ہیں وام تنگی ندّی کی کہانی کی طرف ،، وام تنگی ندی ان پہاڑوں کے ساتھ ساتھ پہلے تو جنوب مشرق کو چلی پھر ابھی ہرنائی شہر کر جنوب میں اس کے سامنے ہی تھی کہ شہر کے مشرق میں شمال مشرق سے اترنے والی غڑمی ندی ریل اور سڑک کے دو پلوں کے نیچے سے ہوکر مزید جنوب میں پہنچ کر وام تنگی ندی میں شامل ہوگئی ، غڑمی ندی کو اپنے اندر شامل کرکے ہرنائی کے جنوبی پہاڑی سلسلے کی مشرقی حد پر پہنچ کر وام تنگی ندّی کو ایک بار پھر جنوب میں پیش قدمی کا موقع مل گیا ،، ہرنائی کے جنوبی مضافاتی علاقے کے مغرب میں اُس کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ کر وام تنگی ندّی جنوب میں موجود سپین تنگی کی طویل پہاڑی پٹّی کی شمال مغربی حد تک پہنچ گئی ،، یہاں موجود ایک تنگ درّے میں سے ہوکر وام تنگی ندی سپین تنگی کی طویل پہاڑی پٹّی کے عقب میں جا پہنچی لیکن یہاں اُس کے سامنے موجود سپین تنگی ندّی کی دوسری طویل پہاڑی پٹّی نے اُس کا راستہ روک لیا ،، جنوب کی طرف بڑھنے کے لیے اب کوئی مزید درّہ نہ تھا چنانچہ اب آگے بڑھنے کا ایک ہی راستہ تھا کہ سپین تنگی ندّی کی ان دونوں پہاڑی پٹّیوں کے درمیان ہی جنوب مشرق کی طرف چلا جائے ،، ان دونوں پہاڑی پٹّیوں کی درمیانی جگہ اتنی زیادہ تنگ بھی نہ تھی کہ ندّی کو وہاں پھنس پھنسا کر آگے بڑھنا پڑتا ،، راستے میں کہیں کہیں اتنی زیادہ کشادگی بھی ہوتی کہ ندّی کے کسی بھی ایک طرف چھوٹی سی بستی اور اُس کے باسیوں کے کھیت کھلیان بھی موجود ہوتے ،، بہرحال ندّی ان دونوں طویل پہاڑی پٹّیوں کے بیچ ہی سفر کرنے پر مجبورتھی ،، بالآخر وام تنگی ندّی کا یہ طویل سفر اپنے اختتام کی طرف بڑھ گیا جب اُسے اپنے سامنے ریلوے لائن کا وہ پُل نظر آگیا کہ جس کے نیچے سے گزر کر اُسے شمال مغرب سے اترنے والی سپین تنگی ندّی کو اپنے اندر شامل کرکے اپنا ڈاڈا رکھ کر اپنا آگے کا سفر جاری رکھنا تھا ،، ریلوے لائن کے اس پُل کے نیچے سے گزر کر پُل کے مشرق میں سپین تنگی ندّی سے ملن کے مقام پر پہنچ کر وام تنگی ندّی کی کہانی اختتام کو پہنچی ،، اس مقام سے آگے پیشقدمی کرنے والی ڈاڈا ندّی کی کہانی ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں ،،
ہرنائی پہنچ کر میں غور کررہا تھا کہ جنوب میں موجود سبّی کی طرح ہرنائی کے باقی اطراف میں کون کون سے معروف شہر ہیں ، اُن کے ہرنائی سے فضائی فاصلے کتنے ہیں اور زمینی فاصلے بذریعہ سڑک کتنے ہیں تو سبّی سمیت میں نے ہرنائی کے چہار اطراف واقع 10 مختلف شہروں کا ایک جائزہ لیا اور گوگل کے نقشوں کی مدد سے اُن کے فاصلے دیکھے تو یہ حیرت انگیز حقیقت سامنے آئی کہ سبّی وہ واحد شہر ہے کہ فضائی فاصلے کے مقابلے میں اُس کا بذریعہ سڑک زمینی فاصلہ ہرنائی سے سب سے زیادہ ہے ،، نیچے ان شہروں کے نام اور فاصلے درج ہیں
کوہلو ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 126کلومیٹر ، بذریعہ سڑک 215 کلومیٹر ، فرق 89 کلومیٹر
میوند ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 90 کلو میٹر ، بذریعہ سڑک 284 کلومیٹر ، فرق 194 کلومیٹر
سبّی ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 63 کلومیٹر ، بذریعہ سڑک 327 کلومیٹر ، فرق 264 کلومیٹر
دُکّی ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 58 کلومیٹر ، بذریعہ سڑک 92 کلومیٹر ، فرق 34 کلومیٹر
سنجاوی ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 41 کلومیٹر ، بذریعہ سڑک 58 کلومیٹر ، فرق 17 کلومیٹر
لورالائی ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 73 کلومیٹر ، بذریعہ سڑک 91 کلومیٹر، فرق 18 کلومیٹر
چاؤتر ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 26 کلومیٹر ، بذریعہ سڑک براستہ زیارت 87 کلومیٹر ، فرق 61 کلومیٹر ، براستہ سنجاوی 91 کلومیٹر ، فرق 65 کلومیٹر
زیارت ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 36 کلومیٹر ، بذریعہ سڑک 63 کلومیٹر، فرق 27 کلومیٹر
کوئٹہ ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 89 کلومیٹر، بذریعہ سڑک 168 کلومیٹر ، فرق 79 کلومیٹر
مچھ ، ہرنائی سے فضائی فاصلہ 64 کلومیٹر ، بذریعہ سڑک 232 کلومیٹر ، فرق 168 کلومیٹر
فضائی اور زمینی فاصلے کا اتنا زیادہ فرق دیکھ کر اندازہ ہوا کہ فاصلوں کا یہی بڑا فرق دونوں شہریوں کے باسیوں کو مجبور کرتا ہے کہ بے چارے مجبوراً ندیوں کے پانیوں کو عبور کرکے تو کہیں انتہائی دشوار گزار پہاڑی درّوں اور گھاٹیوں میں چڑھتے اترتے تو کہیں مجبوراََ بمشکل ریلوے لائن تک پہنچ کر ان کے اوپر سے ہی خطرہ مول لے کر اپنی گاڑیوں کو پٹری پر سے گزارتے ہرنائی سے سبّی اور سبّی سے ہرنائی کے زمینی سفر پر مجبور ہو جاتے ہیں ،،
اپنی اگلی اور اس سیریز کی آخری قسط میں ہم ذکر کریں گے اس تباہ حال راہ کا جو ندی نالوں اور ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ چل کر ایک شہر سے دوسرے تک پہنچ پاتی ہے ،،
جاری ہے ،،
ملتے ہیں اگلی قسط میں ان شاء اللہ
#سنّاٹوں کی مسیحائی