09/06/2023
کراچی نامہ: چوتھی قسط
ائیر پورٹ سے نکلتے وقت کوسٹر کے بائیں سمت میں دروازے کے ساتھ کھڑکی ست متّثل سیٹ ملی۔ میری نگاہیں مسلسل باہر کے مناظر پر مرکوز تھیں۔ کراچی کی شام اور شاہراہِ فیصل کا ازلی ابدلی ساتھ، نئے آنے والے مہمانوں کے ذہنوں پر نا قابلِ یقین حد تک پُرکیف اثرات چھوڑ رہے تھے۔
ڈرگ روڈ جنکشن سے گزرنے کے بعد ہی کچھ عجیب و غریب عمارتیں نظر آئیں اگرچہ کہ شائید ان میں کچھ خاص عجیب نہیں تھا۔ یہ اپارٹمنٹس تھے، جو کئی منزلہ عمارات پر مشتمل تھی۔ ان سب کی بالکونیاں ایک عقوبت خانہ کی مانند سلاخوں سے بند تھی، اور تمام منازل پر ، تمام اپارٹمنٹس میں ایک ہی طرز کے جنگلے لگائے گئے تھے اور اس انداز اے لگائے گئے تھے شائید ہوا بھی قدرے تکلّف سے داخل ہو۔ یہ سلاخیں دیکھ کر مجھے عمران سیریز کے عقوبت خانہ یاد آئے۔
آدھے گھنٹے تک مسلسل میں عمارتوں اور سڑک کو دیکھتا رہا یہاں تک کہ ہوٹل موون پک پر ہماری گاڑی رُکی۔ یہ ایک جدید طرز کا بہترین ہوٹل تھا۔ اس کے ایک سمت پی سی ہوٹل جبکہ دوسری جانب سرکاری عمارتیں تھی۔ داخلی دروازے پر گاڑیوں کا ایک جمِ غفیر تھا۔ ہوٹل داخل ہوتے ہوئے سامنے مہمانوں کے بیٹھنے کے لیے ایک خوبصورت ہال انتہائی نفاست سے بنایا گیا تھا۔ ہال کے ساتھ دائیں جانب ریسیپشن کاؤنٹر تھا جہاں پر مہمانوں کا داخلہ اور اخراج ہوتا۔ اور اسی طرح لابی کی بائیں جانب بھی ایک کاؤنٹر تھا جو مہمانوں کا سامان کے کر جانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس کاؤنٹر سے تین راستے نکلتے تھے۔ ایک راستہ لفٹ کی طرف جاتا تھا، دوسرا عقب میں موجود ڈائننگ ہال کی طرف اور تیسرا ایک بڑے ہال کی طرف جہاں پر صبح کا ناشتہ پیش کیا جاتا۔
ہم تمام دوستوں کو وائی فائی داخلی کارڈ دیا گیا۔مجھے دوسری منزل پر ایک کمرہ دیا گیا تھا سو میں سامان لے کر کمرہ پہنچا۔ کارڈ لگانے کی کوشش کی تو دروازہ نا کھلا، دوبارہ کوشش کی تو اندر سے لوگوں کی آوازیں آئیں۔ مجھے اتنے بڑے ہوٹل میں اتنی بڑی غلطی کی توقع نا تھی کہ مجھے پہلے سے بُکڈ شدہ کمرہ دے دیا جائے گا سو تیسری بار نا کام کوشش کرنے کے بعد اندر سے کسی نے دروازہ کھولا۔ دروازہ اندر سے لاک تھا۔ یہ ایک اٹھارہ بیس برس کا نوجوان تھا۔ اب منظر کچھ یوں تھا کہ ہم دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کو حیرانگی و پریشانی کے عالم میں دیکھتے رہے۔ آکر کار میں نے ہمت کر کہ پوچھا “۲۰۵”؟ “جی بالکل۔۔ فرمائیے” میں نے اپنے کارڈ پر موجود کمرہ نمبر دیکھا۔ اندر سے مختلف لوگوں کی آوازیں آرہی تھیں اور مجھے لگا جیسے میں نے ان احباب کی محفل میں خلل ڈالا، سو چُپ چاپ سامان اٹھا کر کاؤنٹر کی طرف چل پڑا۔
میں۔۔بے بس اور لاچار۔۔دیارِ غیر میں۔۔ خیر روہانسہ سا ہو کر میں نے سٹاف کو اپنی روداد سنائی تو اپنی غلطی پر نادم ہوئے اور مجھے اس غلطی کے سبب اعلی درجہ کا کمرہ عنایت کرنے کا فیصلہ سنایا۔ یہ کمرہ تیسری منزل پر واقع تھا۔
سامان ساتھ لیا اور کمرہ نمبر ۳۰۴ پہنچا۔ دروازہ کھولا تو اندر گھُپ اندھیرا تھا۔ موبائل کی ٹارچ کھولی تو e-connection دھونڈنے لگا۔ قریباً پانچ برس پہلے مطالعاتی دورے پر کراچی آنا ہوا تو ایمبیسی ان ہوٹل میں قیام تھا۔ وہاں کا نظام بھی اسی ہوٹل کی مانند تھا یعنی کارڈ کے ذریعے نا صرف دروازہ کھلتا بلکہ بجلی کا نظام بھی اسے کارڈ کے منسلک تھا جس کے لیے ایک آلہ کمرے میم عموماً دروازے کے سامنے نصب ہوتا تھا جس میں کارڈ ڈالنے سے بجلی کا نظام بحال ہوجاتا۔ خیر، میں نے موبائل ٹارچ سے کارڈ ڈیوائس ڈھونڈنا شروع کیا۔ پورے کمرے میں مکمل اندھیرا تھا، اور میں یہاں وہاں وائی فائی کارڈ کے استعمال کرنے کی جگہ ڈھونڈتا رہا۔ اکثر ہوٹلوں میں یہ کمرے کے داخلی دروازے پر نصب ہوتا۔ موبائل آف ہونے کے قریب تھا۔ پندرہ بیس منٹ کے “سرچ آپریشن” میں ناکامی کے بعد میں نے دوبارہ سٹاف سے رابطہ کرنے کا سوچا اور لابی میں موجود انٹرکام سے اپنی بجلی کے مسئلہ کے بارے میں بتایا۔ واپس آکر دوبارہ سرچ آپریشن شروع کیا تو دروازہ کے پیچھے، ذرا اوپر مجھے ڈیوائس نظر آئی۔ یہ جگہ نظروں سے اوجھل اور دروازے کے پیچھے تھی سو ایک نئے شخص کے لیے اندھیرے میں ڈھونڈنا مشکل تھا۔ بجلی بحال ہو گئی۔ میں پلنگ پر چادر کی طرح پھیل کر لیٹ گیا۔ اچھا دروازے پر دستک ہوئی، دروازہ کھولا تو ایک نیا منظر دیکھنے کو ملا۔ ایلیکڑیشنز electricians کی ایک ٹیم باہر موجود تھی، کسی کے ہاتھ میں tool box, کوئی سیڑھی اُٹھائے، کوئی ہتھ میں تاریں لیے۔ میں نے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔ مجھے یہ سب mister bean کے ڈرامہ کی کوئی قسط لگنے لگی۔ یا پھر ہیرا پھیری فلم کا کوئی منظر۔ میں نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو کہنے لگے “سر آپ نے کمپلین کی تھی کہ بجلی کا مسئلہ ہے” ۔ میں نے غُصہ کو دباتے ہوئے مسکراتے ہوئی کہا “جی! تھا۔ ہوگیا حل۔ شکریہ” اور دروازہ بند کر دیا کیونکہ پوری داستان سنانے کی نا میری ہمت تھی اور نا سکت۔۔
اندھیرے کمرے میں بجلی نے بارتی فلم سوادیس کا ماحول پیدا کر دیا تھا۔۔ روشنی۔۔ امید۔۔ !!
کمرہ خوبصورتی سے منظم طریقے سے بنایا اور ترتیب دیا گیا تھا۔ انگریز دور میں سرکاری گیسٹ ہاؤس کی طرز کا میز، اور اس پر رکھا ہوا لیمپ، کرسیاں، جدید طرز کی الماری اور دو آرام دہ بستر۔۔
میں نے سب سے پہلے اپنے دوست ہارون کو اپنے پہنچنے کی خبر دی کیونکہ ٹریننگ کے لیے لیپ ٹاپ کا انتظام ہارون نے ہی کرنا تھا۔ ہارون نے مجھے ۹ بجے کا وقت دیا۔ نو بجنے میں کافی وقت تھا سو میں اور حسیب صاحب کھانے کے لیے باہر نکل گئے۔
حسیب صاحب نے یہ پہلا قریبی تعارف تھا۔ کسی بڑے بھائی کی مانند حسیب صاحب رہنمائی کرنے لگے اور ہم قریبی ہوٹل پہنچے۔ میں نے ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے اندازہ لگا لیا تھا کہ سر حسیب بہت خیال رکھنے والے اور نرم دل کے مالک تھے جو اپنے جونئیر افسران کو چھوٹے بھائیوں کی طرح سمجھتے تھے۔ سر سے ایک طویل نشت رہی اور طعام کے بعد سر آواری ہوٹل کی طرف چل پڑے ۔
مجھے کچھ دیر پیدل اکیلے سڑک پر چلنا پڑا کہ اچانک کچھ موٹر سائیکل دیکھ کر میرے کانوں میں کراچی کا نیشنل اینتھم بجنے لگا
“آج بھی میرے خیالوں کی تپش زندہ ہے”
میں نے جلدی سے بٹوے میں سے ضروری کارڈز اور دستاویزات نکال لی کہ چھنتے وقت ان کی بچت ہو جائے!
ہارون کے دس بجے کا وعدہ رات تین بجے وفا ہوا، اور پوچھنے پر جواب ملا “ اہم میٹینگ چل رہی تھی”۔ واللّٰہ اعلم یہ کونسی میٹنگ تھی، کہاں تھی، لیکن جناب محترم تین بجے لیپ ٹاپ سمیت وارد ہوئے!
جاری ہے