Promote Tourism

Promote Tourism We deal with all kind of public, private, customized tour. Choose best to have best 🌸
STAY TUNED 😉

21/10/2025
1150 ترکستان میں پیدا ہونے والا بچہ مختلف ہاتھوں میں بطور غلام فروغ ہوتے ہوتے بلآخر 1206 میں بادشاہ سلامت بن گیا اور اس ...
20/08/2025

1150 ترکستان میں پیدا ہونے والا بچہ مختلف ہاتھوں میں بطور غلام فروغ ہوتے ہوتے بلآخر 1206 میں بادشاہ سلامت بن گیا اور اس نے برصغیر میں مسلمان حکومت قائم کی جو دہلی سلطنت کے نام سے جانی اور پہچانی جاتی ہے. میری مراد تاریخ کے ابواب میں گم شدہ گم نام قطب الدین ایبک سے ہے۔
قطب الدین ایبک ترک النسل تھے اور موجودہ ازبکستان و قازقستان کے علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔
شاہ پور کے غلام بازار میں سب سے پہلے بطور غلام فروخت ہونے والا کتب الدین عیب کو قاضی فخر الدین عبدالعزیز کوفی نے خریدا اور پھر کتب الدین کو اپنے گھر جا کر اپنے بچوں کی طرح پالا۔ اسے دینی تعلیم دی، گھڑ سواری بھی اس کو سکھائی حتیٰ کہ نیزہ بازی کی بھی ایسی مہارت اس کو دی کہ قطب الدین بہت جلد گھوڑ سوار اور نیزہ بازی کے طور پر جانا اور پہچانے لگا۔ جب قاضی فخر الدین کے بیٹے نے قطب الدین ایبک کو ایک تاجر کے ہاتھ فروخت کر دیا، اس تاجر نے بھاری معاوضے کے عوض سلطان محمود غوری کو فروخت کر دیا اور اس طرح قطب الدین ایبک سلطان محمود کے رہائش گاہ پر پہنچ گئے۔ کتب الدین ایبک سلطان محمود غوری کے گھرانے کے غلاموں میں شامل ہو گیا اور اپنی خداداد صلاحیتوں کے باعث سلطان محمود غوری کی نظروں میں آ گیا۔ ایک دن سلطان محمود غوری اپنے گھرانے کے غلاموں میں تحائف تقسیم کر رہے تھے تو قطب الدین ایبک کو بھی تحفہ دیا گیا۔ قطب الدین ایبک نے بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حصے کا تحفہ ایک دوسرے غلام کو دے دیا۔ سلطان کو یہ عطا بہت پسند آئی۔ قطب الدین ایبک کی خداداد صلاحیتوں کے باعث سلطان محمود غوری نے قطب الدین ایبک کو مختلف انتظامی ذمہ داریاں دینا شروع کر دی۔ برصغیر کے مختلف حصوں کا اس کو انتظامی سربراہ بنا دیا۔ وہ کئی جگہوں پر گورنر بھی رہے۔ پھر ایک دفعہ کیا ہوتا ہے کہ 1206 کا زمانہ آتا ہے اور 1206 میں جہلم کے مقام پر گھکھروں اور غوریوں کے درمیان زبردست جنگ ہوتی ہے اور اس جنگ میں سلطان محمود غوری ہلاک ہو جاتے ہیں۔ سلطان محمود غوری کی ہلاکت کے ساتھ ہی 1206 میں قطب الدین ایبک اپنی حکمرانی کا اعلان کر دیا اور یوں دہلی سلطنت کا آغاز ہوا۔ انہیں سلطان قطب الدین ایبک کہا گیا لیکن عوام میں وہ "لکھ بخش" (یعنی بخشش کرنے والا) کے نام سے مشہور تھے کیونکہ وہ بہت فیاض اور سخی تھے۔ دہلی میں قطب مینار کی تعمیر کا آغاز انھوں نے کیا جو بعد میں ان کے جانشین شمس الدین التمش نے مکمل کیا۔ کئی مساجد اور عمارتیں بنوائیں، جن میں قطب مسجد (قطب مینار کے ساتھ) اور کواۃ الاسلام مسجد شامل ہیں۔ انہوں نے دہلی کو ایک مستقل دارالحکومت کی حیثیت دی۔
پھر چار سال مسلم حکومت کی قیادت کرتے ہوئے 1210 میں وہ پولو کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گر گئے ہیں اور جان بحق ہو گئے۔ قطب الدین ایبک کو لاہور کے انارکلی بازار سے ملحقہ ایبک روڈ پر سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ان کی قبر ایک سادہ مٹی کی تھی جسے بعد میں مختلف ادوار میں حکمرانوں نے پختہ کروایا۔ مغل دور اور سکھ دور میں بھی اس کی مرمت ہوئی۔ آج ان کا مزار ایک چھوٹے سے کمرے میں ہے، جہاں ان کی قبر موجود ہے۔ مزار کے گرد عام سا صحن ہے اور لوگ زیارت کے لیے آتے ہیں۔
میرے تو خیال میں قطب الدین ایبک کا ذکر کرتے ہوئے اگر اس کے داماد شمس الدین التمش کی بیٹی رضیہ سلطان کا ذکر نہ کیا جائے تو زیارتی ہو گی۔ رضیہ سلطان برصغیر کی تاریخ کی وہ منفرد شخصیت ہیں جو دہلی سلطنت کی پہلی اور واحد خاتون حکمران بنیں۔ ان کی حکمرانی کا دور 1236ء – 1240ء تک تھا۔ شمس الدین التمش کے بعد ان کے بیٹے کمزور اور نااہل ثابت ہوئے۔ علماء اور امراء کی مخالفت کے باوجود التمش نے اپنی بیٹی رضیہ کو اپنا جانشین بنایا۔ یوں وہ دہلی کے تخت پر بیٹھنے والی پہلی اور واحد عورت بنیں۔ رضیہ سلطان نہایت ذہین، نڈر اور انصاف پسند حکمران تھیں۔ انہوں نے دربار میں عورتوں کے پردے کی روایت کو توڑتے ہوئے عملی طور پر امورِ سلطنت میں حصہ لیا۔رعایا کے مسائل سنتیں اور حل کرتیں۔ وہ ہمیشہ ہی ہر سلطان کی طرح فوجی مہمات میں خود شریک ہوتیں۔ گھوڑ سواری اور تیر اندازی میں ماہر تھیں۔ بغاوتوں کو دبانے کے لیے کئی مرتبہ خود فوج کی قیادت کی۔ بہت سے مدارس اور مساجد کی تعمیر کی۔ علما اور دانشوروں کی سرپرستی کی۔ رعایا کو عدل و انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی۔

ترک امراء (چہلگانی گروہ) رضیہ کے خلاف تھے، کیونکہ وہ عورت کو حکمران ماننے پر تیار نہ تھے۔ انہوں نے اس کے خلاف بغاوت کر دی۔
1240ء میں تخت سے محروم ہوئیں اور بعد ازاں قتل کر دی گئیں۔ ان کا مزار دہلی (انڈیا) میں موجود ہے۔
بلا شبہ رضیہ سلطان تاریخ میں ایک نڈر، ذہین اور غیر روایتی حکمران کے طور پر یاد کی جاتی ہیں، جنہوں نے مردوں کے غلبے والے معاشرے میں حکومت کر کے ایک نئی مثال قائم کی۔
رضیہ سلطان فلم تو آپ سب نے دیکھ ہی رکھی ہو گی اور اگر نہ بھی دیکھی ہو تو اس کا مشہورِ زمانہ گانا " اے دلِ ناداں " کے آپ ضرور مداح ہوں گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوب صورت تصاویر کےلئے شجاعت علی کا شکریہ

گذشتہ 125 سال میں انسان کھانیوالی سب سے خوفناک شیرنی سمجھی جاتی ہے۔کیا انسان اسے روک پائے یا وہ صرف ایک راز بنی گم ہوگی؟...
04/08/2025

گذشتہ 125 سال میں انسان کھانیوالی سب سے خوفناک شیرنی سمجھی جاتی ہے۔

کیا انسان اسے روک پائے یا وہ صرف ایک راز بنی گم ہوگی؟
نیپال اور انڈیا میں اس شیرنی کا زکر بوڑھے خوف اور ڈر سے کیا کرتے تھے۔

آج بھی اس آدم خور شیرنی پہ کتب اور ڈاکیومنٹریز لکھی اور بنائی جاتی ہیں۔

کہتے ہیں کہ 1890 ءکی دہائی میں ایک شیرنی نے حملے کرنا شروع کردیے۔
واردات کے مرکزی مقام بھارت اور نیپال کا سرحدی علاقہ تھا۔

یہ کوئی عام جانور ہوتا تو رات کو حملہ کر کے شکار کرتا۔
مگر یہ حیوان شے دن کی روشنی میں آتی۔
اور دھڑلے سے انسان کو گردن سے دبوچ لیتی۔

مقامی گھروں میں چھپے اور دبکے ہوئے ہوتے تھے۔

نیپالی حکومت نے اس شیرنی کو مارنے کی کئی کوششیں کیں ۔
مگر ہر بار وہ اپنی ہوشیاری اور پھرتی کی وجہ سے نکل جاتی تھی۔

بالآخر کسی طور شیرنی کو انڈیا والی طرف ہانک دیا گیا۔
بھارت کے ضلع چمپاوت پہنچ کر یہ ڈبل نقصان دہ بن گی۔

اب تو ہر ہفتے کئی لاشیں ملنے لگیں۔
★کسی انسان کی گردن ٹوٹی ہوئی ملتی۔
★کسی کا دھڑ بچا ہوتا مگر سر غائب ہوتا۔
★کسی کے پائوں پہ گہرے پنجوں کے نشان ہوتے۔
★کسی کے سینے پہ جبڑے اتارتے ہوتے۔

شکار میں کوئی چھوٹے بڑوں کی تمیز نہیں تھی۔
ہاں زیادہ تر عورتیں اور بچے اس آدم خود کے کامیاب شکار بنے۔

سال 1907ء میں جب مرنے والے انسانوں کی تعداد گنی گی۔

تو وہ چار نہیں بلکہ 436 تک جان پہنچی۔

یہ بہت بڑا نمبر ہے۔
اتنا بڑا کہ اسے تاریخ کا سب سے زیادہ انسان کھانے والا جانور سمجھا جاتا ہے۔

اب سوال یہ تھا کہ کیسے اس طوفان کو روکا جائے۔

اس ٹائم کا ہندوستان (پاکستان سمیت) اور نیپال دونوں ناکام ہوچکے تھے۔

پھر انہیں امید کی آخری کرن کا پتہ چلا۔
اک ایسا انسان جس کا نشانہ اور شکار کرنے پہ دنیا بھر میں شاباشی ملتی ہے۔
اس کی بہادری کے قصوں پہ کتب اور فلمیں بنائی گی ہیں۔
وہ اک جیتا جاگتا انسان یعنی جم کوربٹ تھا۔

جم کوربٹ ایک برٹش شکاری تھا۔

لوگ اس کے بارے میں کہتے تھے:
"جم کو جانوروں کی زبان سمجھ آتی۔
ان کے پیروں کے امپریشن اور چال کا علم ہے۔
وہ ہی اس مشکل سے ہمیں نکال سکتا ہے۔"

جب جم سے رابطہ کیا گیا تو اس نے کھرے انداز میں کہا:
"یہ شکار بہت شاطر ہے۔
اسے بندوق سے نہیں دماغ سے جیتنا ہوگا۔"

جب جم اک گائوں میں پہنچا۔
سبھی گائوں والے اسے بغور دیکھنے لگے۔

اس گائوں میں ایک تازہ تازہ لڑکی کی لاش ملی تھی۔
وہ لڑکی سویرے اپنی کتاب پڑھ رہی تھی۔
تو ایک شیرنی گھر سے دبوچ کر لے گی۔

مشہور شکاری نے درج ذیل کام کیے:
★گھر سے ملے نشانات کا پیچھا کیا۔
★درختوں کے اوپر جاتے پنجوں کے نشان معلوم کیے۔
★خون کے دھبوں کو شاخوں پہ نوٹ کیا۔

مگر دور دور تک شیرنی کا اتا پتا نہیں تھا۔
جم حیران اس شیرنی کی داد دیتا رہا۔

اب آپ تاریخ کے اس بہترین شکاری کا میتھڈ دیکھیں۔
وہ بندوق لے کر اندھوں کی طرح جنگل میں نہیں گیا۔

اس نے واپس آکر مزید تیاری کی۔

جیسے:
★آس پاس کے علاقے کے نقشے بنائے۔
★شیرنی کے حملہ کا وقت نوٹ کیا۔
★اس کے اندازے کے مطابق وہ ہر 3 دن بعد شکار کرتی تھی۔
★شاید وہ زخمی ہے اسی سبب کمزور شکار پہ حملہ کرتی ہے۔

جم نے خود کو “آسان شکار” کے طور پہ پیش کیا۔
مگر چالاک شیرنی نے اس کا رخ نہیں کیا۔

پیچھا کرنے کے باوجود وہ ہاتھ نہ آئی ۔
تو جم نے مشہور چال چلی۔

اس نے جنگل میں مچان سجائی۔
مچان یعنی ٹریپ ایک خیمے کا بنایا۔
اور خود جھاڑیوں میں چھپ گیا۔

شیرنی قریب آئی۔
خیمے کو سونگھتی رہی۔
ایک چکر لگایا۔
مگر درختوں سے کچھ نہیں ہلا۔
شیرنی احتیاط سے خیمے کی طرف بڑھی۔
اور جم نے پہلی گولی چلا دی۔
شیرنی غرا کر دوڑنے لگی۔
مگر ایک دوسری گولی آئی۔
اور وہ سینے میں جا لگی۔

جم جھاڑیوں سے نکل کر سیدھا شیرنی کے اوپر پہنچا۔
تیسری اور آخری گولی اس کے دل میں پیوست کردی۔

یوں تاریخ کی خطرناک شیرنی کا خاتمہ ہوا۔
گائوں والوں نے جم کارپٹ کو انعامات دیے۔
اور اپنا ہیرو قرار دیا۔

کیا ایسے جانور کا شکار کرنا مناسب ہے؟
اگر آپ اسی گائوں میں ہوتے تو کیا کرتے؟

شکریہ
بلال مختار


#ʀᴇᴀᴅʏᴛᴏᴡᴇᴀʀ

دریائے راوی کا آخری مستری — ایک ہنر، ایک ورثہ، ایک کہانیلاہور کے دل سے بہنے والا دریائے راوی صرف پانی کا بہاؤ نہیں، بلکہ...
30/07/2025

دریائے راوی کا آخری مستری — ایک ہنر، ایک ورثہ، ایک کہانی

لاہور کے دل سے بہنے والا دریائے راوی صرف پانی کا بہاؤ نہیں، بلکہ صدیوں کی ثقافت، روایات اور روزگار کا امین رہا ہے۔ اس دریا کے کنارے کبھی زندگی کی چہل پہل ہوا کرتی تھی۔ مچھیرے جال ڈالتے، کاریگر کشتیوں کی مرمت کرتے، اور بچے پانی میں کھیلتے — یہ سب مناظر اب صرف یادوں کی حد تک باقی رہ گئے ہیں۔

انہی کناروں پر آج بھی ایک خاموش، مگر عظیم داستان سانسیں لے رہی ہے — 80 سالہ عبدالمجید، جو ’’مجید مستری‘‘ کے نام سے مشہور ہیں، آج بھی اپنے ہاتھوں سے لکڑی تراش کر پرانی کشتیوں کو نئی زندگی بخشتے ہیں۔ وہ اپنی نسل کے آخری کاریگر ہیں جو اس قدیم فن کو دل و جان سے نبھا رہے ہیں۔

عبدالمجید کی انگلیوں کے لمس سے جب لکڑی، چھینی اور ہتھوڑی ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دریا کی ندی میں ایک نئی لے جنم لے رہی ہو۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے محض دس سال کی عمر میں اپنے والد سے یہ ہنر سیکھا، اور تب سے آج تک دریا اور فن سے وفا نبھا رہے ہیں۔

"میرے والد، دادا، یہاں تک کہ پڑدادا بھی یہی کام کرتے تھے۔ یہ ہمارا خاندانی ہنر تھا۔ لیکن میرے بعد شاید یہ سب ختم ہو جائے، کیونکہ اب اسے سیکھنے والا کوئی نہیں۔"

ان کے بیٹے شہروں کی روشنیوں میں کھو چکے ہیں، جہاں جدید زندگی کی دوڑ نے روایتی پیشوں کی کشش مٹا دی ہے۔ مجید مستری کی باتوں میں اداسی چھپی ہے، لیکن ان کے کام میں وہی لگن اور محبت آج بھی زندہ ہے۔

راوی کے پل کے نیچے اب بھی کچھ زندگی موجود ہے۔ کوئی ٹھنڈے شربت بیچ رہا ہے، تو کوئی کھانے پینے کی چیزیں۔ کچھ لوگ وہیں عارضی جھونپڑیاں بنا کر زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ جگہ جہاں کبھی دریا اپنی پوری روانی سے بہتا تھا، اب وہاں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں دوڑتی ہیں۔ لیکن راوی کے پانی کے ساتھ، اس کے کناروں کی ثقافت بھی رفتہ رفتہ رخصت ہو رہی ہے۔

یہ صرف ایک کاریگر کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ختم ہوتی روایت کی آخری سانس ہے۔ عبدالمجید کے ہاتھوں میں صرف لکڑی نہیں، بلکہ لاہور کا ایک ثقافتی خزانہ بھی ہے، جو اگر آج نہ بچایا گیا، تو کل صرف تاریخ کی کتابوں میں ہی ملے گا۔

🌱 سبق (مورال):

ہر معاشرہ تبھی پھلتا پھولتا ہے جب وہ اپنے ورثے، ہنر اور بزرگوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھے۔ جدید دنیا کی دوڑ میں اگر ہم نے اپنے ثقافتی سرمائے کو نہ سنبھالا، تو آئندہ نسلیں صرف تصاویر میں روایت ڈھونڈتی رہ جائیں گی۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم پرانی روایتوں کو مٹنے نہ دیں، بلکہ انہیں نئی نسل تک پہنچا کر زندہ رکھیں۔ کیونکہ جو قومیں اپنی جڑیں بھول جاتی ہیں، وہ ہمیشہ بکھر جاتی ہیں۔

26/07/2025

پردیسیوں کو برسات میں پہاڑوں اور جون جولائی میں صحراؤں سے خوف کھانا چاہیے۔ جانداروں کے ڈی این اے میں پروگرام ہے کہ وہی ز...
24/07/2025

پردیسیوں کو برسات میں پہاڑوں اور جون جولائی میں صحراؤں سے خوف کھانا چاہیے۔ جانداروں کے ڈی این اے میں پروگرام ہے کہ وہی زندہ رہتا ہے جو نامانوس چیزوں سے خوف کھاتا ہے
بارش کے دنوں میں سیاحت کے لیے پہاڑی علاقوں میں جانے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہاں بندہ ٹریکر یا سر پھرا ہو تو دوسری بات ہے، ورنہ سیلابی ریلوں کے علاوہ لینڈ سلائیڈنگ بھی بیڑا غرق کر دیتی ہے۔ تصور کریں کہ آپ دو دن کسی سڑک پر پھنسے ہوں، نہ آگے جا سکتے ہوں نہ پیچھے، نہ کھانے کو کچھ ہو نہ پینے کو، اور سونے کے لیے سردی ہو یا گرمی، صرف اپنی گاڑی ہو گی۔ اور یہ اس صورت میں ہو گا کہ آپ کی قسمت اچھی ہو، اور لینڈ سلائیڈنگ کے پتھر آپ کی گاڑی پر نہ برسے ہوں۔
کاپی پیسٹ

شاید بہت کم لوگ یہ جانتے ہوں گے کرنل نیڈو ایسٹ انڈیا کمپنی کا ایک افسر تھا. برصغیر آیا تو ایک گجر لڑکی پرعاشق ہوگیا. گجر...
01/07/2025

شاید بہت کم لوگ یہ جانتے ہوں گے کرنل نیڈو ایسٹ انڈیا کمپنی کا ایک افسر تھا. برصغیر آیا تو ایک گجر لڑکی پرعاشق ہوگیا. گجروں نے اسے اس شرط پر لڑکی دینے کی حامی بھری کہ وہ گجروں کی طرح زندگی گزار کر دکھائے . نیڈو نے ٹاٹ پہنا, جانور چرائے, دودھ دوہا اور بالآخر مسلمان ہوکر اپنی محبوبہ سے شادی کرلی. اسکی گجر بیوی رانی جی کہلاتی تھی۔ آدمی سمجھدار تھا. اس نے کشمیر میں جانوروں کی افزائش نسل کرنی شروع کردی. اور آہستہ آہستہ انگریز رجمنٹس کو گوشت کی سپلائی کا ٹھیکیدار بن گیا. نیڈو کی ایک ہی بیٹی تھی جو ماں کی طرف سے مکمل گجر تھی اور باپ کی وجہہ سے انگریزی زبان سے مکمل آشنا. نیڈو چونکہ مذہبی لوگوں سے بہت میل جول رکھتا تھا اور پیروں کا بہت خدمتگار تھا لہذا بیٹی بھی اسی رنگ میں رنگ گئی۔

مہشورِ زمانہ لارنس آف اربیہ یعنی کرنل ٹی اِی لارنس عربی زبان کا ماہر تھا. اسکی قرآت بہت اعلی اور معلومات انتہائی جامع تھیں. برٹش سیکریٹ سروس نے لارنس کو لاہور میں لانچ کردیا. جلد ہی مکہ کے بزرگ کی شہرت پھیل گئی. لوگ بہت بڑی تعداد میں آنے لگے اور کرنل لارنس انہیں اپنے ﮈھب یعنی جہاد بالسیف سے برگشتہ کرنے لگا۔

نیڈو اپنے کام کے سلسلے میں لاہور آیا تو اسے بھی ملنے کا اشتیاق ہوا. خدمت میں حاضر ہوُا تو جاٹوں والے لباس میں تھا. مکی شیخ سے اس درجہ متاثر ہوا کہ اپنی لڑکی انکے عقد میں دینے کی خواہش کا اظہار کردیا. اور یوں یہ لڑکی کرنل لارنس المعروف شیخ مکی کی بیگم بن گئی۔

کرنل لارنس کے پاس انگریز معتقدین بھی آتے تھے اور ان میں ایجنسی کے لوگ بھی تھے جن سے شیخ مکی اکیلے ملاقات فرماتے تھے. شادی کے چند دن بعد ایسی ہی ملاقات میں, شیخ مکی نے نئی زوجہ کو مہمان داری کے لیے کہا. نئی بیگم جب مشروب و ماکولات لیکر کمرے میں گئی تو انگریزی میں ہونے والی تمام گفتگو سے آگاہ ہوگئی. اس نے خفیہ طریقے سے بزریعہ خط باپ کو آگاہ کیا. باپ فورا لاہور پہنچا, بیٹی سے ملا اور پھر کرنل لارنس سے ملکر اپنا سابقہ تعارف کراکر بیٹی کو طلاق دینے اور باپ کے ساتھ بھیجنے کا مطالبہ کیا. کرنل لارنس نے نیڈو کو خاموش رہنے اور برٹش ایمپائر کی خدمت کا کہا۔

نیڈو یہاں سے مایوس ہوکر رستم زماں بھولو پہلوانکےوالد کے پاس پہنچا اور تمام رام کہانی کہہ ﮈالی. امام بخش پہلوان سچا عاشق رسول تھا. شاگردوں کے ساتھ شیخ مکی کے پاس جاپہنچا. شیخ مکی نے اسے درخور اعتنا نہ جانتے ہوئے دھمکیاں دیں اور دفع ہونے کو کہا۔

پہلوان نے شیخ کو اٹھایا اور داتا دربار کے سامنے برگد کے درخت سے الٹا لٹکادیا کہ جب تک لڑکی کو نہیں چھوڑو گے اور توبہ کرکے واپس نہیں جاؤگے یونہی لٹکے رہوگے.چوبیس گھنٹے بعد کرنل لارنس نے ھتھیار ﮈال دیے. لڑکی کو طلاق دلواکر نیڈو کے ساتھ بھیج دیا گیا اور لارنس کو انگریز ریزیڑنٹ کے حوالے کردیا گیا جسے فوری برطانیہ بھیج دیا گیا۔

کرنل نیڈو کی لڑکی واپس کشمیر پہنچی تو کچھ عرصے بعد اسکی شادی شیخ عبداللہ سے کردی گئی۔ یوں یہ لڑکی بیگم اکبر جہاں عبداللہ کہلائیں۔ جنکا بیٹا فاروق عبداللہ بعد میں کشمیر کا وزیراعلی بنا۔ نائڈو کے خاندان نے لاہور اور کشمیر میں شاندار ہوٹلز کے بزنس میں خوب نام کمایا۔

شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ لاہور کے موجودہ آواری ہوٹل کی جگہ پہلے نائڈوز ہوٹل تھا۔

05/06/2025

سوچو ایک ایسا سیارہ جہا آسمان سے پانی نہیں بلکہ پگھلا ہوا لوہا برس رہا ہو جی ہاں زمین سے 640 نوری سال دور سیارہ WASP-76b...
28/05/2025

سوچو ایک ایسا سیارہ جہا آسمان سے پانی نہیں بلکہ پگھلا ہوا لوہا برس رہا ہو جی ہاں زمین سے 640 نوری سال دور سیارہ WASP-76b پر ایسا ہی ہوتا ہے۔

یہ سیارہ اپنے سورج کے اتنا قریب ہے کہ دن میں درجہ حرارت 2400°C سے اوپر چلا جاتا ہے، جہاں لوہا گیس بن جاتا ہے۔

جب وہ بخارات سیارے کی ٹھنڈی سائیڈ پر پہنچتے ہیں تو پھر سے پگھلا ہوا لوہا بن کر بارش کی طرح برستے ہیں۔ یہ بارش نہیں خطرناک دھاتوں کا طوفان ہے۔
یہ ہے خلا کی سچائی جہاں کچھ سیارے جہنم سے بھی بدتر ہیں

اگر خدا نخواستہ نیوکلیئر حملہ ہو جائے تو  حملے کے فوری بعد   فوری پناہ اگر آپ کسی عمارت کے اندر ہیں، تو وہیں رہیں اور کھ...
01/05/2025

اگر خدا نخواستہ نیوکلیئر حملہ ہو جائے تو حملے کے فوری بعد

فوری پناہ اگر آپ کسی عمارت کے اندر ہیں، تو وہیں رہیں اور کھڑکیوں سے دور کسی اندرونی کمرے یا تہہ خانے میں چلے جائیں۔ اگر آپ باہر ہیں، تو فوری طور پر کسی مضبوط عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کریں۔ اگر کوئی عمارت دستیاب نہیں ہے، تو زمین پر لیٹ جائیں اور اپنے سر اور گردن کو اپنے ہاتھوں سے ڈھانپ لیں

دھماکے سے بچاؤ: اگر آپ کو دھماکے کی وارننگ ملی ہے، تو کسی ایسی چیز کے پیچھے پناہ لیں جو آپ کو دھماکے کی لہر اور ملبے سے بچا سکے
تابکاری سے بچاؤ: دھماکے کے بعد، آپ کے پاس تابکاری پہنچنے سے پہلے تقریباً 10 منٹ یا اس سے زیادہ کا وقت ہو سکتا ہے۔ اس وقت میں کسی محفوظ جگہ پر پناہ لیں۔ اینٹوں یا کنکریٹ کی دیواروں والی عمارتیں بہتر تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ زیر زمین پارکنگ گیراج اور سب وے بھی اچھی پناہ گاہیں ہو سکتی ہیں۔

پناہ میں رہنے کے دوران
اندر ہی رہیں: جب تک حکام کی طرف سے باہر نکلنے کی ہدایت نہ ملے، اندر ہی رہیں۔ عام طور پر، کم از کم 24 گھنٹے تک پناہ میں رہنا محفوظ ہوتا ہے۔
دروازے اور کھڑکیاں بند کریں: تمام دروازے اور کھڑکیاں بند کر دیں اور کسی بھی درز کو ٹیپ سے سیل کر دیں۔
وینٹیلیشن بند کریں: اگر ممکن ہو تو، پنکھے، ایئر کنڈیشنر اور باہر سے ہوا لانے والے ہیٹنگ یونٹ بند کر دیں۔
اطلاعات سنتے رہیں: بیٹری سے چلنے والا ریڈیو یا دیگر ذرائع سے حکام کی ہدایات سنتے رہیں۔
ذخیرہ شدہ سامان استعمال کریں: اگر آپ کے پاس پانی، خوراک اور طبی سامان کا ذخیرہ ہے تو اسے استعمال کریں۔ باہر سے لائی گئی کسی بھی چیز کو استعمال کرنے سے گریز کریں۔
اگر آپ باہر تھے:
کپڑے تبدیل کریں: اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ تابکار مواد سے آئے ہیں، تو اپنے بیرونی کپڑے اتار کر ایک پلاسٹک کے تھیلے میں ڈال دیں۔
نہائیں یا دھوئیں: اگر ممکن ہو تو صابن اور پانی سے نہائیں یا اپنے جسم کے کھلے حصوں کو دھو لیں۔ اگر پانی دستیاب نہیں ہے، تو گیلی پونچھوں یا کپڑے سے صاف کریں۔
صاف کپڑے پہنیں: صاف کپڑے پہنیں اور اپنی آنکھوں، ناک اور منہ کو غیر ضروری طور پر مت چھوئیں۔
باہر نکلنے کے بعد:
حکام کی ہدایات پر عمل کریں: جب حکام باہر نکلنے کے لیے محفوظ قرار دیں، تو ان کی ہدایات پر عمل کریں۔
محتاط رہیں: باہر نکلتے وقت احتیاط برتیں اور کسی بھی ممکنہ طور پر آلودہ علاقے سے دور رہیں۔

یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ نیوکلیئر حملے کی صورت میں بقا کا انحصار بہت سے عوامل پر ہوتا ہے، بشمول دھماکے کی شدت، آپ کا مقام اور آپ کتنی جلدی اور مؤثر طریقے سے رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ تیاری اور فوری رد عمل آپ کے بچنے کے امکانات کو بہتر بنا سکتا ہے

نوٹ: گو کہ ایٹمی جنگ کا کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن بنیادی معلومات کا ہونا ضروری ہے ۔

Address

Promotetourism Rana Town Shahdara
Lahore
54000

Telephone

+923064915519

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Promote Tourism posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Promote Tourism:

Share