Ride with jatto

Directions

Ride with jatto this page is to explore pakistan and present beauty of Pakistan to whole world

ایک اچھے مسلمان اور ایک اچھے پاکستانی ہونے کا ثبوت دیں
17/09/2026

ایک اچھے مسلمان اور ایک اچھے پاکستانی ہونے کا ثبوت دیں

10/09/2026

کوہ پیماوں کا ماتم؟

براڈ پیک پر دس کوہ پیما برفانی تودے کے نیچے دب گئے۔ ان میں نرمل پُرجا جیسا نیپالی کوہ پیما بھی تھا، جس نے دنیا کی چودہ بڑی چوٹیاں چھ ماہ میں سرکیں۔ نیٹ فلکس کی ڈاکیومنٹری فورٹین پیکس اسی کی کہانی تھی۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر اسماء مشتاق سپینٹک کی چوٹی سر کر کے واپسی پر تھیں کہ سانس ٹوٹ گئی۔سوات کے کوہ پیما سید علی شاہ کی لاش دو ماہ فلک سیر پر بچھی ہوئی برف پر پڑی رہی۔پھر موسیٰ کا مصلی، جہاں ایک برطانوی نژاد ٹریکر ایلیکس چلتے چلتے ٹریک سے اترگیا۔نیچے کہیں جنگل میں گیا اور پھر واپس نہ آیا۔

جارج میلوری کو جون 1924ء میں ایورسٹ کی چوٹی کے قریب اوپر کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ پھر وہ بادلوں میں کہیں گم ہوگیا۔ پچھتر سال بعد وہ بادلوں میں سویا ہوا ملا۔ کسی نے اس سے پوچھاتھا، تم نے ایورسٹ کیوں جانا ہے۔ اس نے کہا، کیونکہ وہ وہاں ہے۔بات ہی ختم۔

یہ بلاوجہ کی چاہت اور جستجو ہے۔ اس پر بات نہیں ہوسکتی۔ خودکشی کی بحث تو بالکل مذاق ہے۔ ہر کسی کی اپنی فینٹسی ہے اور ہر فینٹسی کا اپنا لیول ہے۔

اقبال سوچتے تھے ستاروں سے آگے کا جہان کیسا ہوگا۔فیصل عجمی سوچتے ہیں دوسری طرف سے یہ آسمان کیسا ہوگا۔نصیر احمد ناصر کی خواہش ہے کہ دنیا کی طرف پائوں لٹکا کر کسی ستارے پربیٹھنا چاہیے۔ کوئی سوچتاہے چاند میں بیٹھ کر سرسوتی کی بانسری سننی چاہیے۔ بادلوں میں رقص کرنا چاہیے۔ تخیل کی یہ وارداتیں انسان کو تنگ کرتی ہیں۔کوئی شعر کہہ دیتاہے کوئی واقعی ستارے کی طرف چل پڑتا ہے۔یہ سوچے بغیر کہ انجام کیا ہوگا۔

جنہیں پہاڑ بلاتے ہیں وہ ان جگہوں سے نہیں گزرتے جہاں سہولیات ہوتی ہیں۔جہاں سڑک ختم ہوتی ہے وہاں سے ان کا سفر شروع ہوتا ہے۔سڑک موجود ہو تو وہ لوگ بھی پہنچ جاتے ہیں جنہیں پہاڑ نہیں بلاتے۔ ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے سیف الملوک کی پریوں نے کوچ کرلیا ہے۔

ڈاکٹر اسما کی طبیعت پہلے بھی خراب ہوئی تھی، پھر بھی چلی گئی۔ایسے لوگوں کی موت پر جب ہم سہولیات کا رونا روتے ہیں تو مجھے لگتا ہے ہم کوہ پیمائوں کی بے توقیری کر رہے ہیں۔جنہیں پہاڑ بلاتے ہیں وہ کسی کی ذمہ داری پر نہیں جاتے۔

ہم اسما کی لاش کو زمین پر لانا چاہتے تھے، مگر وجود سے الگ ہوکر ایک طرف بیٹھی ہوئی اسما کی روح سے کسی نے پوچھا؟ کوئی پوچھتا تو یہی کہتی، میرا یہ وجود بھی یہیں رہنے دو۔کھلے آسمان کے نیچے پڑا ہے، برف کا کفن پڑ رہا ہے۔ یہی تو میں نے تصور کیا تھا۔جیتے جی یہ ممکن نہیں تھا۔اس کیلئے مجھے مرنا پڑا ہے۔

برفانی ٹیلے کے عین نیچے دکھنے والی سید بادشاہ کی لاش پر دکھ بجاہے، مگر ماتم بے جاہے۔ اسے کسی نے قتل نہیں کیا۔اس نے خوشی خوشی اپنی فینٹسی کی قیمت ادا کی ہے۔

اسے جاتے ہوئے علم تھا کہ کوہ پیمائوں کا مقدر برف کا کفن ہوتا ہے۔اگر اسے علم نہیں تھا تو یقیناََ نہیں جانا چاہیے تھا۔اگر کسی کو کوہ پیماوں کی ریت روایت کا اندازہ نہیں ہے، صرف انسٹاگرام کی تصویریں اور ریلیں ہی موٹیویشن کا سامان ہیں، تو وہ بھی نہ جائے۔ یہ شوق پالنے سے پہلے رولز آف گیم اور فینٹسی کا احترام کرنا سیکھنا ہوگا۔

ایورسٹ کے اطراف میں دو سو سے زیادہ کوہ پیمائوں کی لاشیں پڑی ہیں۔ایورسٹ پر گرین بوٹس کسی چوک کا نام نہیں ہے۔وہاں ایک کوہ پیما تیس برس سے ہرے جوتے پہن کر سو رہا ہے۔سلیپنگ بیوٹی کیا ہے؟ ایک امریکی کوہ پیما، جو سرخ لباس میں برسوں سے وہاں ایک ہی کروٹ پر لیٹی ہوئی ہے۔ رینبو ویلی کو قوس قزح کی وجہ سے رینبو ویلی نہیں کہتے۔وہاں رنگ برنگے گیئرز پہنے ہوئے کوہ پیمائوں کی لاشیں اور سامان پڑا ہے۔

ہر سال وہاں سے کوہ پیما گزرتے ہیں۔وہ ان لاشوں کا ماتم نہیں کرتے۔ انکی موت کے ذمہ داروں کو نہیں ڈھونڈتے۔ انکی طرف دیکھ کر مسکراتے ہیں۔کچھ اچھا سا کہتے ہیں اور دبے پاوں گزر جاتے ہیں کہ انکی نیند نہ ٹوٹ جائے۔

ایلیکس کیلئے ماتم کرنے والے دوست شاید نہیں جانتے کہ ایک بار ٹریک سے اترے ہوئے شخص کو صرف نصیب اور مضبوط اعصاب ہی واپس لاسکتے ہیں۔ہائیکرز کو ٹریک پہ رکھنے کیلئے ٹریفک پولیس تعینات نہیں ہوتی۔راہ تو، رہرو بھی تو، رہبر بھی تو، منزل بھی تو والا معاملہ ہوتا ہے۔

ہر راستہ کہتا ہے میں ہی ٹھیک ہوں۔آپ چل پڑتے ہیں۔آدھے گھنٹے بعد اندازہ ہوتاہے کہ راستہ مزید الجھ گیا ہے۔ اب وہ جگہ بھی نہیں ملتی جہاں سے آدھا گھنٹہ پہلے چلے ہوتے ہیں۔یہاں سے اعصاب چٹخنے لگتے ہیں۔بیڑے اسی کے پار ہوتے ہیں جو اعصاب پر قابو پالیتا ہے۔

سوال یہ ہونا چاہیے کہ ایلکس اتنی جلدی کیسے مرگیا؟ کچھ بھی وجہ ہوسکتی ہے۔اگر ہم نے ہی اندازہ لگانا ہے تو پھر یہ بھی کہنا چاہیے کہ اعصاب کے چٹخنے سے مرگیا ہوگا۔

سترہ سالہ جولیانے جنوبی امریکا سے اڑنے والے اس جہاز میں سوار تھی جو ایمازون کے جنگل میں گرگیا تھا۔جولیانے کے علاوہ کوئی نہیں بچا۔اس نے جنگلی جانوروں، طوفانی بارشوں اور راستے میں ملنے والی لاشوں کا سامنا کیا۔دو لاشیں اسکے والدین کی بھی تھیں، جن کے سر نرم زمین میں دھنسے ہوئے تھے۔

اسکی کندھے کی ہڈی بھی پچک چکی تھی۔وہ ندی کے کنارے سولہ دن چلی اور بالآخر شہر کی طرف نکل آئی۔جولیانے کو کس نے بچایا؟ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ ایمازون کے گھنے جنگلوں میں اسے کون بچا سکتا تھا؟ صرف ایک چیز۔ جولیانے کے اپنے اعصاب۔ جولیانے کی آب بیتی when i fell from the sky دراصل اعصابی جنگ کی ہی کہانی ہے۔

رین ہولڈ میسنر، جو ان دنوں پاکستان کے دورے پر بھی ہیں،نے تمام بڑی چوٹیاں آکسیجن سلنڈر کے بغیر سر کیں۔ ایلیکس ہونالڈ رسی، ہارنس اور کسی بھی دوسرے حفاظتی ذریعے کے بغیر صرف جوتوں اور ہاتھ کی مدد سے الف عمودی چٹانیں سر کرتے ہیں۔ کیسے؟

یہ سب اعصاب کا کھیل ہے جو پاگلوں کے نصیب میں لکھا گیا ہے۔ عام معمول کے پیمانوں پر انکا تجزیہ کرنا پاگل پن کی تذلیل ہے۔ بڑے پہاڑ ور وسیع میدان میں آنے کے بعد انسان ایک بے نشان ذرہ لگتا ہے۔ صرف دماغ کی مدد سے وہ انکی ہیبت کو چیلنج کر پاتا ہے۔

جو ایسا کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں، انکی اچھی یادوں کو زندہ رکھنا چاہئے۔ سراہنا چاہئے۔کچھ بھی کرنا چاہئے، ماتم نہیں کرنا چاہئے۔

فرنود عالم / روزنامہ جنگ

08/09/2026

*خاموش باورچی خانہ - امریکہ کی طرف سے برصغیر کے لیے ایک ثقافتی وارننگ*
_(آرام سے پڑھنے اور غور کرنے کے قابل)_

*1. جب باورچی خانہ خاموش ہو جائے تو خاندان ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے*
- کیا آپ نے کبھی سوچا تھا کہ ایک خاموش باورچی خانہ کسی قوم کا مستقبل بدل سکتا ہے؟
- یہ امریکہ میں ہوا — اور اگر ہم نے وقت پر سبق نہ سیکھا تو یہ پاکستان میں بھی ہو سکتا ہے۔

*2. 1970 کی دہائی میں امریکہ کیسا تھا:*
- دادا، دادی، والدین اور بچے ایک ساتھ رہتے تھے۔
- ہر شام خاندان ایک ساتھ دسترخوان پر گھر کا پکا ہوا کھانا کھاتا تھا۔
- کھانا صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں تھا — یہ محبت اور اقدار کو جوڑنے کا ذریعہ تھا۔

*3. 1980 کے بعد: امریکہ میں ثقافتی تبدیلی*
- فاسٹ فوڈ، ٹیک اوے اور ریسٹورنٹ کلچر نے گھر کے کھانے کی جگہ لے لی۔
- والدین پیسہ کمانے میں مصروف ہو گئے؛ بچے پیزا، برگر اور پروسیسڈ فوڈ کے عادی ہو گئے۔
- بزرگوں کی آوازیں مدھم پڑ گئیں، خاندانی رشتے کمزور ہو گئے۔

*4. نظر انداز کی گئی وارننگز اور دردناک نتائج*
- ماہرین نے خبردار کیا تھا: "اگر تم اپنا باورچی خانہ کارپوریشنز کے حوالے کر دو گے اور خاندان کی دیکھ بھال حکومت کے سپرد کر دو گے، تو خاندان ٹوٹ جائیں گے۔"
- کسی نے نہیں سنا — اور پیش گوئیاں سچ ثابت ہوئیں۔

*5. امریکہ میں روایتی خاندانی نظام کا خاتمہ*
- 1971 میں 71% امریکی گھروں میں روایتی خاندان تھے (والدین + بچے)۔
- آج یہ صرف 20% رہ گیا ہے۔
- اب کیا بچا ہے؟
- بزرگ اولڈ ہومز میں
- نوجوان اکیلے کرائے کے فلیٹس میں
- شادیاں ٹوٹ رہی ہیں
- بچے تنہائی کا شکار

*6. امریکہ میں طلاق کی شرح*
- پہلی شادی: 50%
- دوسری شادی: 67%
- تیسری شادی: 74%

*7. یہ محض اتفاق نہیں — یہ "خاموش باورچی خانے" کی قیمت ہے*
- گھر کے کھانے میں صرف کیلوریز نہیں ہوتیں:
- ماں کے ہاتھ کا ذائقہ
- دادا کی دانائی
- دادی کی کہانیاں
- اور ایک ساتھ کھانے کا جادو
- لیکن اب کھانا Swiggy اور Zomato سے آتا ہے۔
- باورچی خانہ مر جاتا ہے، اور گھر صرف ایک مکان بن کر رہ جاتا ہے — خاندان نہیں۔

*8. صحت کا بحران*
- امریکہ میں فاسٹ فوڈ کی لت کی وجہ سے:
- موٹاپا
- شوگر
- دل کے امراض
- ہیلتھ انڈسٹری اس قابلِ روک تھام زوال سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔

*9. لیکن ابھی دیر نہیں ہوئی — ہم اپنے باورچی خانے دوبارہ روشن کر سکتے ہیں*
- جاپان آج بھی مل کر کھانا پکاتا اور کھاتا ہے — اور وہ سب سے لمبی عمر پاتے ہیں۔
- بحیرہ روم کی ثقافتوں میں کھانا مقدس ہے — اور رشتے بھی۔

*10. وارننگ بیل — میٹروز میں کلاؤڈ کچن سے فاسٹ فوڈ آرڈر ہو رہا ہے*
براہِ مہربانی باورچی خانے کو مرنے مت دیں
- باہر کے کھانے پر بڑھتا انحصار روکنا ہوگا۔
- خاندانی کھانوں کا وقت کم ہو رہا ہے
- تنہائی اور بیماریاں بڑھ رہی ہیں

*آج آپ کیا کر سکتے

میں نے ایڈونچر کا آغاز اپنی خوابوں کی بائیک سے نہیں، اپنی موجودہ بائیک سے کیا تھا۔" 🏍️بائیکرز کے لیے ایک دل کی بات...ایک...
08/09/2026

میں نے ایڈونچر کا آغاز اپنی خوابوں کی بائیک سے نہیں، اپنی موجودہ بائیک سے کیا تھا۔" 🏍️
بائیکرز کے لیے ایک دل کی بات...
ایک وقت تھا جب میں بھی سوشل میڈیا پر بڑی بڑی بائیکس دیکھ کر سوچتا تھا کہ کاش میرے پاس بھیcc200 یا کوئی اس سے بھی بڑی ایڈونچر بائیک ہوتی۔ لیکن پھر ایک دن میں نے خود سے سوال کیا:
کیا میں نے اس بائیک کی قدر کی ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے دی ہے؟ ۔ میں چاہتا تو صرف خواب دیکھتا رہتا اور شکوہ کرتا رہتا کہ میرے پاس فلاں بائیک کیوں نہیں۔ لیکن میں نے فیصلہ کیا کہ جو میرے پاس ہے، اسی کو اپنے شوق اور استطاعت کے مطابق ایڈونچر کے لیے تیار کروں۔
میں نے اپنی بائیک پر محنت کی، اسے بہتر بنایا،
اسی دوران مجھے ایک بات سمجھ آئی:
راستے بڑی بائیک نہیں ناپتی، حوصلہ ناپتا ہے۔
بہت سے لوگ کہتے ہیں: "پہلے بڑی بائیک لے لوں، پھر ٹورنگ شروع کروں گا۔"
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں خوبصورت سفر، یادیں اور تجربات اُن لوگوں کے حصے میں آتے ہیں جو موجود وسائل کے ساتھ پہلا قدم اٹھا لیتے ہیں۔
ترقی کی خواہش رکھنا اچھی بات ہے۔ بہتر بائیک کا خواب دیکھنا بھی اچھی بات ہے۔ اس کے لیے محنت کرنا بھی ضروری ہے۔
مگر اپنی موجودہ بائیک کو حقیر سمجھنا اور دوسروں کی بائیکس دیکھ کر احساسِ کمتری کا شکار ہونا درست نہیں۔
آج اگر آپ کے پاس 70cc ہے، GS 150 ہے یا کوئی اور بائیک ہے تو ﷲتعالی کا شکر ادا کریں۔ ہو سکتا ہے یہی بائیک آپ کو اُن راستوں تک لے جائے جہاں تک بہت سے لوگ صرف خوابوں میں پہنچتے ہیں۔
یاد رکھیں: بائیک کی قیمت نہیں، سفر کی کہانی اہم ہوتی ہے۔ انجن کا سائز نہیں، سوار کا جذبہ اہم ہوتا ہے۔
لہٰذا اپنے وسائل کی قدر کریں، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں، اور خوابوں کی بائیک کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی موجودہ بائیک کے ساتھ خوابوں کے سفر کا آغاز کریں۔
"بائیک چھوٹی یا بڑی نہیں ہوتی، جذبہ چھوٹا یا بڑا ہوتا ہے۔"
عمر ریہس صاحب کی وال سے کاپی پیسٹ کیا

#بائیکر #موٹرسائیکل #ایڈونچر

باپ کو آدھی رات کے وقت خبر ملی کہ اس کی بیٹی کو اسکے شوہر نے پھر مارا ہے۔یہ لفظ "پھر" باپ کے دل میں تیر کی طرح لگا۔یہ پہ...
27/08/2026

باپ کو آدھی رات کے وقت خبر ملی کہ اس کی بیٹی کو اس

کے شوہر نے پھر مارا ہے۔

یہ لفظ "پھر" باپ کے دل میں تیر کی طرح لگا۔

یہ پہلی بار نہیں تھا۔

شادی کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا، مگر بیٹی کے چہرے کی مسکراہٹ جیسے دن بدن کم ہوتی جا رہی تھی۔ کبھی بازو پر .... نیلا نشان کبھی آنکھ کے نیچے سوجن، کبھی ہونٹ پر زخم ماں ہر بار بیٹی کو سینے سے لگا کر سمجھاتی بیٹا، نئی نئی شادی ہے... وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔"

مرد غصے میں ہاتھ اٹھا دیتے ہیں، تم خاموش رہا کرو، گھر بس

جائے گا۔

بیٹی ہر بار آنسو پونچھ کر بس اتنا کہتی

امی... میں کوشش کرتی ہوں۔"

اور باپ؟

وہ خاموش رہتا۔

وہ سوچتا تھا شاید بیٹی کا گھر بسانے کے لیے باپ کو بھی کچھ

درد اپنے سینے میں دفن کرنے پڑتے ہیں۔

مگر اس رات جب دوباره فون آیا اور دوسری طرف سے صرف اتنا کہا گیا

آپ کی بیٹی کی حالت ٹھیک نہیں... اسے پھر مارا ہے۔"

تو باپ نے فون بند کر دیا۔

کچھ دیر تک وہ اندھیرے میں خاموش بیٹھا رہا۔ پھر اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

اس نے اپنی بیٹی کی بچپن کی ایک تصویر اٹھائی۔ تصویر میں وہ ننھی سی بچی اس کی انگلی پکڑے مسکرا رہی تھی۔ باپ نے تصویر کو دیکھا اور دھیمی آواز میں بولا

میں نے تجھے اس لیے نہیں پالا تھا کہ کوئی تجھے روز توڑے..."

اور میں خاموش دیکھتا رہوں۔

رات گہری ہو چکی تھی۔

گھر میں سب سو رہے تھے۔

باپ اٹھا، کسی کو کچھ نہیں بتایا۔

الينا ولي کنده پیکھا اور باہر نکل گیابس اپنا چادر کندھے پر رکھا اور باہر نکل گیا۔

راستے میں اس نے ایک بینڈ والے کو جگایا۔

بینڈ والے نے حیرت سے پوچھا

چوہدری صاحب اس وقت؟ کوئی شادی ہے؟"

باپ نے بس اتنا کہا

ہاں... مگر آج میں اپنی بیٹی کی زندگی کی شادی بچانے جا رہا"

ہوں۔

وہ بینڈ والوں کو ساتھ لے کر سیدھا داماد کے گھر پہنچ گیا۔

رات کے سناٹے میں دروازے پر دستک ہوئی۔

دروازه کھلا تو سسرال والے حیران رہ گئے۔

سمدھی جی؟ اتنی رات گئے؟ خیریت تو ہے؟"

باپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔

اسی لمحے اوپر کی کھڑکی کے پردے کے پیچھے سے ایک سہمی

ہوئی آنکھ نظر آئی۔

وہ اس کی بیٹی تھی۔

باپ نے اپنی بیٹی کو دیکھا۔

بیٹی نے باپ کو دیکھا۔

دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
.. بیٹی کے چہرے پر زخم تھا

مگر باپ کو اس زخم سے زیادہ اپنی بیٹی کی خاموشی نے توڑ

دیا۔

اس نے دور سے صرف ہاتھ کے اشارے سے کہا

چل... گھر چلیں۔"

بیٹی کچھ لمحے وہیں کھڑی رہی۔

شاید اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ آج واقعی کوئی اسے لینے آیا ہے۔

پھر اس نے اپنے آنسو پونچھے اور آہستہ آہستہ نیچے آ گئی۔

داماد نے غصے سے کہا

! یہ میری بیوی ہے، آپ اسے ایسے نہیں لے جا سکتے "

باپ نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا اور کہا

بیوی ہے، تمہاری ملکیت نہیں۔"

پھر وہ بینڈ والوں کی طرف مڑا اور ہاتھ اٹھا کر بولا"إبجاؤ"

رات کی خاموشی اچانک بینڈ کی آواز سے گونج اٹھی۔

گلی کے لوگ گھروں سے نکل آئے۔

سب حیران تھے کہ آدھی رات کو بینڈ کیوں بج رہا ہے۔

باپ اپنی بیٹی کے پاس گیا، اس کا ہاتھ تھاما اور کہا

آج میں تجھے لینے آیا ہوں... بارات لے کر نہیں۔"

اس کی آواز بھرا گئی۔

میں تجھے اس گھر سے آزاد کرانے آیا ہوں جہاں تیرے آنسوؤں"

کو شادی کی قیمت سمجھ لیا گیا تھا۔

بیٹی باپ کے سینے سے لگ گئی۔

برسوں کا ضبط آنسو بن کر بہہ نکلا۔

وہ روتے ہوئے صرف اتنا کہہ سکی

ابو... آپ اتنی دیر سے کیوں آئے؟"

یہ سن کر باپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

اس نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا

بیٹا... مجھے معاف کر دینا۔ میں سمجھتا رہا گھر بچانا ضروری"

ہے... آج سمجھ آیا کہ گھر نہیں، بیٹی بچانا ضروری ہے۔

اور پھر وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامے وہاں سے چل پڑا۔

بینڈ بجتا رہا۔

مگر اس رات کوئی دلہن رخصت نہیں ہو رہی تھی۔
.. اس رات ایک باپ اپنی بیٹی کو سسرال سے نہیں

ظلم سے واپس لے جا رہا تھا۔
.. اور شاید یہ دنیا کی سب سے خوبصورت رخصتی تھی

کیونکہ اس رخصتی میں دلہن کے ہاتھوں پر مہندی نہیں تھی

مگر اس کے دل میں پہلی بار آزادی کی خوشبو تھی۔
.. کبھی کبھی باپ بیٹی کا گھر نہیں توڑتا وہ اسے ٹوٹنے سے بچا لیتا ہے

26/08/2026
26/08/2026

AI b kamal cheez hy

Worlds photography day
19/08/2026

Worlds photography day

17/08/2026

YakBai Top Ft7400
Mostly off roads high steap not recommend for biggners and solo

Address

Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ride with jatto posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share