08/08/2025
#تعلیم یا تماشا؟ وزراء کی ترجیحات اور قوم کا مستقبل
پاکستان میں تعلیم کا حال کسی یتیم بچے جیسا ہے—سب زبانی ہمدردی کرتے ہیں مگر عملی سہارا کوئی نہیں دیتا۔ ہمارا تعلیمی نظام پہلے ہی فرسودہ نصاب، رٹے کے کلچر، اور پرانی کتابوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اس پر مستزاد، پچھلے تین ماہ سے تعلیمی ادارے بند ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ طلبہ کا قیمتی وقت برباد ہو رہا ہے، مگر جن کے پاس اختیار ہے وہ آرام دہ گاڑیوں اور پروٹوکول میں مصروف ہیں۔
حالیہ مثال ہی دیکھ لیں۔ وزیرِ تعلیم صاحب ایک نجی ٹی وی چینل کو آٹھویں جماعت کے امتحانات پر “اہم” بریفنگ دے رہے تھے—لیکن کہاں؟ کسی اسکول، کسی دفتر، یا عوامی پریس کانفرنس میں نہیں، بلکہ اپنی قیمتی شاہانہ گاڑی میں۔ اور وہ بھی ایک مخصوص خاتون کو بلا کر۔ سوال یہ ہے کہ آخر تعلیم پر بات کرنے کے لیے گاڑی کا اندرونی حصہ ہی کیوں منتخب کیا گیا؟ کیا یہ تعلیمی پالیسی کا اعلان تھا یا ذاتی تشہیر کا کوئی نیا اسٹائل؟ قوم کو آخر کیا تاثر ملا؟ یہی کہ تعلیم اب وزارتی پروٹوکول کا ایک سیٹنگ بیک گراؤنڈ بن چکی ہے۔
حکومتی وزراء کو نہ تعلیمی معیار کی فکر ہے، نہ بچوں کے ضائع ہوتے وقت کا احساس، نہ والدین کی پریشانی کا ادراک۔ انہیں اگر فکر ہے تو اپنی کرسی کی، اپنی گاڑی کی چمک دمک کی، اور ٹی وی اسکرین پر “اسمارٹ” نظر آنے کی۔ جب وزراء کے لیے تعلیم محض ایک میڈیا شو رہ جائے تو سمجھ لیں یہ قوم اندھیرے میں دھکیل دی گئی ہے۔
تعلیم محض کتابوں اور امتحانات کا نام نہیں، بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہے۔ دنیا کے وہ ممالک جو آج ترقی یافتہ ہیں، انہوں نے تعلیم کو شاہانہ انداز میں نہیں بلکہ زمینی حقیقتوں کے مطابق بہتر بنایا۔ مگر ہمارے ہاں وزراء کی ترجیحات میں تعلیم کا نمبر شاید آخری صفحے پر بھی نہیں ملتا۔
پاکستان کے بچوں کا مستقبل وزیر کی گاڑی کے ایئرکنڈیشنڈ ماحول میں نہیں، بلکہ اسکولوں، کالجوں اور عملی منصوبہ بندی میں بنتا ہے۔ جب تک حکومت اور وزراء اپنی عیاشیوں سے باہر نکل کر زمینی حقیقتوں کو نہیں سمجھتے، یہ قوم صرف تقریروں اور نمائشی اقدامات کی خوراک پر زندہ رہے گی—اور ترقی خواب ہی رہے گی۔
✍️ از: پروفیسر محمد عاصم وسیم