09/10/2026
ملتان خورد میں بہترین سہولیات سے آراستہ ہسپتال کہاں ہے؟ عوام بیمار، حکام بے فکر!
آبادی بڑھتی رہی، مسائل بڑھتے رہے، مگر بہترین ہسپتال کا خواب آج بھی فائلوں میں قید!
ووٹ کے وقت عوام یاد، علاج کے وقت کیوں فراموش؟ ملتان خورد و گردونواح کے شہریوں کا حکام سے دوٹوک سوال
ملتان خورد (لیاقت علی اعوان سے)
ملتان خورد اور گردونواح کے عوام کو درپیش بنیادی مسائل کی طویل فہرست میں معیاری اور مکمل طبی سہولیات کی عدم دستیابی سب سے اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ علاقے کی آبادی اور ضروریات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، مگر صحت کے شعبے میں ایسی سہولت تاحال میسر نہیں جس پر عوام حقیقی معنوں میں انحصار کر سکیں۔عوامی حلقوں کا سوال انتہائی سادہ مگر حکام کے لیے شاید مشکل ہے: آخر ملتان خورد میں ایک بہترین ہسپتال کب بنے گا؟مقامی شہریوں کے مطابق بیماری یا ایمرجنسی کی صورت میں مناسب طبی سہولت کا حصول ایک بڑا مسئلہ ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ملتان خورد میں ایسا ہسپتال قائم کیا جائے جہاں کم از کم بنیادی علاج، ایمرجنسی، ڈاکٹرز، ادویات، لیبارٹری اور دیگر ضروری طبی سہولیات دستیاب ہوں۔عوامی حلقے یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ اگر ایک علاقے کے لوگوں کو معمولی طبی ضرورت کے لیے بھی دور دراز مراکز کا رخ کرنا پڑے تو بنیادی صحت کی سہولت آخر کس کے لیے ہے؟ترقی کے دعوے بہت، علاج کی سہولت کہاں؟شہریوں کا کہنا ہے کہ ترقی کا اصل پیمانہ صرف سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے اور اعلانات نہیں بلکہ عوام کو صحت، تعلیم، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی ہے۔عوام کے مطابق ملتان خورد کو بھی ایسی طبی سہولت ملنی چاہیے جو صرف کاغذی منصوبہ نہ ہو بلکہ حقیقت میں عوام کے کام آئے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں مزید وعدوں، یقین دہانیوں اور فائلوں کی گرد نہیں بلکہ عملی اقدام چاہیے۔حکام کی خاموشی پر عوام کا دوٹوک سوال عوامی حلقے متعلقہ حکام سے پوچھتے ہیں کہ ملتان خورد کے لیے ایک جدید اور فعال ہسپتال کا منصوبہ کب زیرِ غور آئے گا؟ اس کے لیے سروے، فنڈز، جگہ اور عملی منصوبہ بندی کب شروع ہوگی؟ اور سب سے بڑھ کر عوام کو واضح ٹائم لائن کب دی جائے گی؟یہ سوال کسی ایک فرد یا ادارے کے خلاف الزام نہیں بلکہ ایک پورے علاقے کی بنیادی ضرورت اور عوامی مطالبہ ہے۔ اب صرف وعدے نہیں، عملی اقدام چاہیے ملتان خورد میں جدید اور مکمل سہولیات سے آراستہ سرکاری ہسپتال قائم کیا جائے۔ ہسپتال میں 24 گھنٹے ایمرجنسی سروس یقینی بنائی جائے۔ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف، لیبارٹری، ضروری ادویات اور دیگر بنیادی طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔خواتین، بچوں اور بزرگوں کے لیے مناسب طبی سہولیات کاخصوصی انتظام کیاجائےگردونواح کی آبادی کو بھی ہسپتال کی سہولیات سے مستفید ہونے کا مؤثر نظام بنایا جائے۔متعلقہ حکام ہسپتال کے قیام کے حوالے سے واضح منصوبہ، بجٹ اور ٹائم لائن عوام کے سامنے لائیں۔اعلیٰ حکام فوری نوٹس لے کر علاقے کی طبی ضروریات کا جائزہ لیں اور عملی پیش رفت شروع کریں۔ملتان خورد کے عوام آخر کب تک یہ سوال کرتے رہیں گے کہ بیمار ہوں تو جائیں کہاں؟عوام کو امید ہے کہ متعلقہ حکام اس بنیادی مسئلے کو محض ایک اور عوامی شکایت سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے فوری، سنجیدہ اور عملی اقدام کریں گے۔