Dera Arbi

Dera Arbi Dera Arbi, Tehsil Shujabad, Multan
ڈیرہ عاربی، تحصیل شجاع آباد، ملتان

24/10/2025

کم عمر بچوں کو موبائل دینا ان کی ذہنی، سماجی اور جسمانی نشونما کے خلاف ہے۔ بچوں کے ساتھ بات کریں، کھیلیں، کہانیاں سنائیں یہی انہیں ایک منظم، مہذب اور ذمہ‌دار شہری بننے میں مدد دیتا ہے۔

21/10/2025
28/09/2025

ناروے کے سائنس دانوں نے۔۔۔۔ایک انقلابی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے۔۔۔۔۔۔۔جو مستقبل کی زراعت کو بدل سکتی ہے۔ انہوں نے’’لیکویڈ نینو کلے‘‘تیار کی ہے، جو ایک انقلابی طریقہ ہے جس کے ذریعےخشک اور بنجر ریت کوصرف سات گھنٹوں میں زرخیز مٹی میں بدلا جا سکتا ہے۔۔
یہ ٹیکنالوجی چھوٹےمٹی کےذرات پرمبنی ہےجو مائع شکل میں معلق ہوتے ہیں۔جب انہیں ریت پر لگایاجاتا ہے تو یہ ذرات اس کی ساخت کو بہتر بناتےہیں، جس کی بدولت ریت غذائی اجزاء۔۔۔۔۔۔اور نمی کو محفوظ رکھنے کے قابل ہو جاتی ہے۔۔
اس سے نہ صرف زمین زرخیز ہوتی ہے بلکہ پانی کی ضرورت بھی نمایاں حد تک کم ہو جاتی ہے۔۔۔۔ابتدائی تجربات سے ظاہر ہوا ہے کہ پانی کےاستعمال میں 50 فیصد تک کمی آ سکتی ہے،جو پانی کی قلت کے شکار علاقوں کیلیے ایک اہم پیش رفت ہے۔۔
وہ علاقے جو پہلے کاشت کےقابل نہیں تھےاب پودوں کی افزائش کے قابل ہو سکتے ہیں، جس سے کمیونٹیز کو خوراک حاصل کرنے اور روزگار برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ یہ طریقہ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کو خوراک فراہم کرنےاورقدرتی وسائل کومحفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔۔
اگر بڑے پیمانے پر اسےاپنایاجائے تو نینو کلےصحراکو زرخیز زمین میں بدل سکتی ہے، فصلوں کی پیداوار بڑھا سکتی ہے اور پانی کی کمی کا شکار علاقوں کے لیے ایک حل فراہم کر سکتی ہے۔۔

16/09/2025

گندم کاشت کر کے چادر چار دیواری کا تقدس پامال کروانے سے بہتر ہے
کینولہ چھولا چیقندر لگائیں
عزت بچائیں ،منافع کمائیں

03/09/2025

دریائے بیاس "قصور کی کھوئی ہوئی شناخت"
از امجد ظفر علی(نشان ِ قصور)
یکم ستمبر 2025

پنجاب کی زمین دریاؤں کے گیت گاتی ہے۔ کبھی ستلج، راوی، جہلم اور چناب کے ساتھ بیاس بھی اس خطے کی زندگی اور تہذیب کا اہم حصہ تھا۔ آج یہ دریا صرف قصور کے بزرگوں کی یادوں، زمین کے نشانات اور تاریخ کی کتابوں میں باقی ہے، لیکن کبھی یہی دریا قصور کی دھڑکن ہوا کرتا تھا۔ بیاس ہماچل پردیش اور جموں کشمیر کی وادیوں سے نکل کر تقریباً 470 کلومیٹر کا سفر طے کرتا تھا۔ امرتسر اور جالندھر کے میدانوں کو سیراب کرتا ہوا یہ فیروز پور کے قریب ہری کے پتن پر دریائے ستلج سے آملتا۔ قیام پاکستان کے بعد بھی یہ دریا ندی کی صورت میں پنجاب کے کھیتوں کو زندگی بخشتا رہا، لیکن 1960 کے سندھ طاس معاہدے میں یہ بھارت کے حصے میں چلا گیا۔ بھارت نے 1976 میں پونگ ڈیم تعمیر کرکے اس کا بہاؤ روک دیا۔ اس سے پہلے
اس کا پانی بھاکڑا ڈیم کی طرف موڑ دیا گیا تھا۔

قصور شہر دراصل اسی دریا کے کنارے آباد ہوا۔ اس کی پرانی گزرگاہ آج بھی قصور کے مشرق سے مغرب تک ایک واضح لکیر کی صورت دکھائی دیتی ہے۔ کمال چشتی دربار سے شروع ہو کر یہ بہاؤ کوٹ پکا قلعہ کی پشت، جماعت پورہ کے عقب سے ہوتا ہوا بھالہ ہٹھار تک جاتا تھا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں پتن ڈالا جاتا اور لوگ بیڑی کے ذریعے دریا پار کرتے۔ تحصیل چونیاں کے ایک گاؤں چور کوٹ میں گزشتہ دنوں معائینہ کیا اور دیکھا کہ آج بھی اس کے آثار موجود ہیں۔ وہاں کے بزرگ بتاتے ہیں کہ چند دہائیاں پہلے تک وہ کشتیوں میں بیٹھ کر دریا عبور کرتے تھے اور آج بھی برسات کا پانی پرانی گزرگاہ سے ہو کر گزرتا ہے۔ اور زیرزمین پانی میٹھا ہے بعض جگہ پر بور کرتے 80 فٹ پر میٹھا پانی نکل آتا ہے۔

جب بیاس کا بہاؤ بدل کر ہری کے پتن پر ستلج میں ضم ہوا تو یہ قصور میں تین نالوں کی صورت میں بہنے لگا۔ ایک طرف کالی پل ، کیسر گڑھ کے قریب ’’غائب والی پل‘‘ سے گزرتا، اور مان گاؤں کے قریب سے ۔ یہ تینوں نالے موجودہ قصور بائی پاس کے قریب جا کر آپس میں ملتے اور ایک بڑی ندی کا منظر پیش کرتے تھے۔ اس دریا کی چوڑائی اپنے زمانے میں دو سے چار کلومیٹر تک اور گہرائی پندرہ میٹر تک تھی۔

بیاس صرف پانی کا بہاؤ نہیں تھا بلکہ تاریخ اور روایت میں بھی زندہ رہا۔ 326 قبل مسیح میں سکندر اعظم کی فوجیں اسی دریا پر آ کر رک گئیں اور مزید آگے نہ بڑھ سکیں۔ ہندو روایات کے مطابق بیاس اور راوی کے درمیان ایک ’’امرت کنڈ‘‘ تھا جو دیوتاؤں اور راکشسوں کی کشمکش کا مرکز رہا۔ کہا جاتا ہے کہ وید ویاس اور پراسار منی نے یہاں قیام کیا اور سیتا جی نے اپنی جلاوطنی کے دن یہیں گزارے۔ اسی نسبت سے لاہور اور قصور کے قیام کو لواور کشو سے جوڑا جاتا ہے۔ بیاس کے کنارے ایک گھنا جنگل بھی ہوا کرتا تھا جسے لکھی جنگل کہا جاتا تھا۔ از امجد ظفر علی(نشان ِ قصور)- یہ جنگل اتنا وسیع اور گھنا تھا کہ پیدل گزرنا بھی مشکل ہو جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ جنگل قصور سے بہاولپور تک پھیلا ہوا تھا۔

آج قصور کے بزرگ بیاس کو ’’بیاسا‘‘ کہہ کر یاد کرتے ہیں۔ ان کے حافظے میں یہ دریا نیلے اور شفاف پانی کے ساتھ موجزن ہے لیکن نوجوان نسل کے لیے بیاس صرف ایک بھولی بسری کہانی ہے۔ شہر کے بیچ جہاں کبھی دریا بہتا تھا، آج وہاں گندہ نالہ رواں ہے۔ برسات کے دنوں میں پرانی گزرگاہوں میں پانی کا بہاؤ لمحہ بھر کے لیے اس دریا کی جھلک دکھا دیتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ کبھی یہاں ایک عظیم دریا بہتا تھا۔

بیاس کی داستان قصور کی تاریخ اور تہذیب سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ دریا صرف کھیتوں کو سیراب نہیں کرتا تھا بلکہ قصور کو اس کی پہچان بھی بخشتا تھا۔ آج جب یہ دریا قصور سے غائب ہے تو یوں لگتا ہے جیسے شہر کی ایک دھڑکن رک گئی ہو۔پاکستانی قاری کے لیے خلاصہ صاف ہے: بیاس براہِ راست پاکستان میں نہیں بہتا، مگر اس کا ماحولیاتی، تاریخی اور سیاسی سایہ سرحد کے اس پار بھی پھیلتا ہےستلج کے ذریعے، ہری کے کے انتظام سے، اور خطے کی آبی سفارت کاری کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ۔ آج جب قصور میں پرانی گزرگاہوں پر آبادیوں اور سڑکوں کی تہہ چڑھ چکی ہے، ہر برسات میں میدان یاد دلاتے ہیں کہ پانی اپنی یادداشت رکھتا ہے۔ تحقیق کے اگلے مرحلے میں مقامی جی آئی ایس میپنگ، پرانے سروے آف انڈیا کی شیٹس اور نہریات کے ریکارڈ کے ساتھ زمینی مشاہدہ ملایا جائے تو بیاس کی قصوری گزرگاہ کی سائنسی بازیافت بھی ممکن ہے۔ از امجد ظفر علی(نشان ِ قصور) وہی قدم جو تاریخ کو متن سے نکال کر نقشے پر واپس رکھ دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کبھی بیاس اپنی پرانی راہ لوٹ آیا تو کیا یہ نیا اور بے ڈھنگا شہر اپنی بنیادوں پر قائم رہ سکے گا، یا پھر دریا اپنی زمین کو دوبارہ اپنی آغوش میں لے لے گا؟
Courtesy By:
Amjad Zafar Ali

Map of Ferozpure,1847
Small part of Beas River flow through Kasur city

Pic Map Courtesy By:
Dr-Nadeem Muhammad

24/08/2025
22/08/2025
18/08/2025

Mention your favorite admin😝

۔
۔
۔
۔







fans

10/08/2025

😹🙂😸

08/08/2025

اے ٹی ایس ATS ٹریکٹرز 🚜کمپنی نے اپنے نئے ماڈلز YTO ٹریکٹرز کی پرائس لسٹ (قیمتیں)جاری کر دیں🙋🥹

Address

Dera Arbi
Shujabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dera Arbi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category