26/03/2026
دریائے ہرمز
یہ بات تعجب خیز📌 معلوم ہوتی ہے کہ ایک اہم آبی گزرگاہ کا نام ایک ایسے فارسی کمانڈر “ہرمز” کے نام پر رکھا گیا، جسے تاریخ کے مطابق حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایک فردی مقابلے میں شکست دی—ایک ایسی شکست جس نے فارسی لشکر کو ذلت سے دوچار کیا اور مسلمانوں کے ہاتھوں ان کی پسپائی کا سبب بنی۔
تو کیا یہ عجیب نہیں کہ اس تاریخی مقابلے کے باوجود اس مقام کو حضرت خالد بن ولیدؓ کے نام سے منسوب نہیں کیا گیا؟
تفصیلی بیان:
فارسی لشکر کا سپہ سالار ہرمز اپنے گھوڑے پر سوار میدان میں نکلا اور مبارزت (دو بدو جنگ) کا مطالبہ کرتے ہوئے پکارا: “خالد کہاں ہے؟!”
یہ آواز سن کر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی اپنے گھوڑے پر سوار میدان میں تشریف لائے تاکہ اس سرکش کے چیلنج کا جواب دیں۔
دونوں لشکروں کے قریب پہنچ کر—اور خاص طور پر فارسی فوج کے زیادہ قریب—یہ دونوں جرنیل آمنے سامنے ہوئے۔
ہرمز اپنے گھوڑے سے اترا اور حضرت خالدؓ کو اشارہ کیا کہ اگر تم واقعی بہادر ہو تو زمین پر اتر کر مقابلہ کرو۔
حضرت خالد بن ولیدؓ نے یہ چیلنج قبول کیا اور اپنے گھوڑے سے اتر آئے۔
ہرمز نے اپنے گھوڑے کو واپس لشکر کی طرف بھیج دیا، اور حضرت خالدؓ نے بھی یہی کیا۔
میدان میں ایک سنسنی خیز خاموشی طاری ہوگئی…
دونوں لشکر اضطراب اور بے چینی کے عالم میں یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
یہ ایک غیر معمولی موقع تھا کہ مسلمانوں کا سپہ سالار اور فارس کا عظیم کمانڈر آمنے سامنے تھے—ایسا منظر تاریخ میں ش*ذ و نادر ہی پیش آتا ہے۔
دونوں پیدل حالت میں لڑ رہے تھے، اور اس کا مطلب یہ تھا کہ اب واپسی یا فرار کا کوئی راستہ نہیں—یقیناً ان میں سے ایک کی موت مقدر تھی۔
چند ہی لمحوں میں حضرت خالدؓ نے ہرمز کے ساتھ گھمسان کا رَن باندھا اور اپنی غیر معمولی جنگی مہارت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ خود ہرمز بھی حیران رہ گیا۔
کچھ ہی دیر بعد…
حضرت خالد بن ولیدؓ اپنے قدموں پر قائم تھے—اور ان کے ہاتھ میں تلوار تھی جو فارسی کمانڈر کے خون سے تر تھی۔
یہ منظر دیکھ کر فارسی لشکر پر سکتہ طاری ہوگیا، جبکہ مسلمانوں کے دل خوشی سے بھر گئے۔
ہرمز کی ہلاکت نے فارسیوں کو شدید صدمے میں ڈال دیا—کیونکہ وہ عربوں کو اپنی سلطنت، تہذیب اور عسکری قوت کے مقابلے میں حقیر سمجھتے تھے۔
مگر “سیفُ اللہ المسلول” نے انہیں سنبھلنے کا موقع نہ دیا، فوراً عام حملے کا حکم صادر فرمایا۔
سپہ سالار کی ہلاکت اور تنظیم کے فقدان کے باعث فارسی لشکر زیادہ دیر ٹھہر نہ سکا۔
ان کی صفیں منتشر ہوگئیں، اور مسلمان ان کے درمیان گھس گئے، یہاں تک کہ انہیں زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ عظیم معرکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں “کاظمہ” کے مقام پر پیش آیا، اسی نسبت سے اسے معرکۂ کاظمہ کہا جاتا ہے، اور فارسیوں کی طرف سے لشکر کو زنجیروں سے باندھنے کے سبب اسے معرکۂ ذات السلاسل بھی کہا جاتا ہے۔
یہ ہیں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ—اور یہ تھا ان کا اندازِ جنگ۔
ایک ایسا سپہ سالار جس پر مسلمانوں کو بجا طور پر فخر ہے۔
پھر بھی… ایران نے اس گزرگاہ کا نام “مضیقِ ہرمز” رکھا؟!
باور سید